BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 November, 2007, 13:16 GMT 18:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بدامنی ختم ہوگی تو چلا جاؤں گا‘
صدر مشرف
جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ ’اسلامی انتہا پسندوں‘ کی وجہ سے ایمرجنسی لگانی پڑی
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ جب پاکستان سے بد امنی کا خاتمہ ہو جائے گا وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

اسلام آباد میں برطانوی نشریاتی ادارے سکائی ٹیلیوژن کی نامہ نگار ایلیکس کرافورڈ کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صدر مشرف نے کہا: ’میں نے موجودہ بحران پر استعفیٰ دینے پر غور کیا تھا لیکن میں فی الحال کرسی نہیں چھوڑوں گا۔‘


جنرل مشرف کا کہنا تھا: ’میں کوئی ڈکٹیٹر نہیں ہوں۔ میں جموریت چاہتا ہوں۔ جب پاکستان میں بد امنی ختم ہو جائے گی میں عہدہ چھوڑ دوں گا‘۔

جنرل مشرف نے کہا کہ وہ مغربی دنیا اور میڈیا سے مایوس ہوئے ہیں۔’دنیا بھر اور پاکستان میں میڈیا کے ایک حصے کی غلط رپورٹنگ کی وجہ سے ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ ہار سکتے ہیں‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا: ’ماضی کو بھول جائیں۔ پاکستان کی بہتری کے لیے ہمیں مل جل کر کام کرنا ہے‘۔

صدر مشرف نے کہا کہ ’اسلامی انتہا پسندوں‘ کے پیدا کردہ خطرات کی وجہ سے انہیں مجبورًا ہنگامی حالت کا نفاذ کرنا پڑا۔

سکائی ٹیلیوژن کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف یہ سمجھتے ہیں کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ایمرجنسی کی ضرورت ہے۔ نامہ نگار کے مطابق انہیں ہنگامی حالت کے دوران انتخابات منعقد کرانے میں کسی قسم کا کوئی تضاد بھی محسوس نہیں ہوتا۔

جنرل مشرف نے کہا: ’اگر میرے جانے سے کوئی ایسا راستہ نکلتا ہے جس سے توازن اور استحکام کا پیدا ہونا یقینی ہو تو وہ میرے چلے جانے کا بہترین وقت ہے‘۔

’میں ایسے وقت کی تلاش میں ہوں۔ میری نظر میں حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ بدنظمی سے گریز کیا جائے اور ہم انتخابات کی سمت آگے بڑھیں اور ایک منتخب حکومت قائم ہو جائے تو یہ حالات کو سنبھالنے کا بہترین طریقہ ہوگا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات سے ’نمٹنے کا بہتر طریقہ جمہوری تبدیلی کا عمل یعنی میرے یونیفارم کا معاملہ ہے۔ ظاہر ہے یہ معاملہ بھی نمٹایا جانا چاہیے۔‘

صدر مشرفانتخابات کا اعلان
صدر مشرف کی پسپائی یا نئی مورچہ بندی
بات سے باتخوش قسمت مشرف
اپوزیشن میں غدر اور آپا دھاپی کی کیفیت
بینظیر بھٹو اسلام آباد میں سنیچر کو ذرائع ابلاغ سے مخاطب سیاست کی رفوگیری
تجزیہ: ممکنہ مفاہمت کی بےنظیر کی شرط
صدر جنرل پرویز مشرف مشرف کی ’جلدی‘
’کہیں وائس چیف بڑا ہو کر حق نہ مانگنے لگے‘
1999 بمقابلہ 2007
جنرل مشرف کا واحد راستہ، پاکستان کی امید
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد