’مشرف جلد وردی اتار دیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے کہا کہ انہیں توقع ہے سپریم کورٹ آئندہ آٹھ روز میں صدر کی اہلیت کے مقدمے کا فیصلہ کر دے گی جس کے بعد صدر یکم دسمبر سے قبل وردی اتار دیں گے۔ اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صدر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد یکم دسمبر تک وردی اتار دیں گے۔ ان سے جب دریافت کیا گیا کہ وردی اتارنے سے متعلق پہلے پندرہ نومبر کی تاریخ کا کیا ہوگا تو ان کا جواب تھا کہ ایسی کوئی تاریخ نہ آئین میں نہ کہیں اور دی گئی تھی۔ ’مجھے نہیں معلوم آپ کو یہ تاریخ کہاں سے ملی۔’ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہنگامی حالت کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ صدر کی اہلیت کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی کافی سماعت ہوچکی ہے لہذا اس میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرے اپنے خیال میں صرف ایک جج مزید لینا ہے اور حکومت کا خیال ہی ہے ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا مگر سترہ ججوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، بارہ یا تیرہ کر دی جائے گی‘۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’لاہور ہائی کورٹ میں جج صاحبان کو ریٹائر ہوئے کوئی دو چار ماہ ہو گئے تھے مگر یہ جو ہے دوسرے آئے ہیں وہ تو ابھی موجودہ جج تھے سندھ ہائی کورٹ کے‘۔ وہ اس بات سے آمادہ نہیں تھے کہ تازہ جج حکومت کو نہیں مل رہے۔’ کیوں نہیں مل رہے، اگر ہم کرنا چاہیں تو ہر آدمی سپریم کورٹ آنے کو تیار ہے مگر دیکھنا پڑتا ہے کونسے بندے بہتر ہیں، کیا ان کا پس منظر ہے، کتنا ان کا عدلیہ میں تجربہ وغیرہ ہے‘۔ اخباری کانفرنس بنیادی مقصد حکومت کی جانب سے اس تاثر کو رد کرنا تھا کہ جیسے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے تحت جو بھی سویلین ہے اس کو آرمی کسی وقت کسی جرم میں بھی اس کو پکڑ سکتی ہے اور اس کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ ملک قیوم نے کہا ’یہ غلط بات ہے۔ وہ صرف ان جرائم میں پکڑ سکتی ہے جو آرمی کے خلاف کیے گئے ہیں، مثلاً اگر قتل ہے، اگر عام آدمی قتل کریں گے تو آرمی کا اس سے کوئی تعلق نہیں مگر اگر کسی فوجی کو آپ قتل کرتے ہیں تو پھر آرمڈ فورسز جو ہیں اس کے بیچ میں آتی ہیں اور یہ لاء آج سے نہیں ہے یہ سڑسٹھ سے ہے اور ہم نے کوئی ایسی ترمیم نہیں کی صرف چند جرائم جیسے کہ قتل ہے اس میں ڈالا ہے‘۔ صدر ی وردی کے متعلق عارضی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل مشرف دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی ایک عہدہ چھونے کے لیے تیار ہیں اور انتظار صرف عدالتی فیصلے کا ہے۔ |
اسی بارے میں ’بدامنی ختم ہوگی تو چلا جاؤں گا‘14 November, 2007 | پاکستان مشرف، بینظیر: راستے جدا جدا؟14 November, 2007 | پاکستان فوج کو دوبارہ عروج حاصل ہو گا: خالد14 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||