BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج کو دوبارہ عروج حاصل ہو گا: خالد

خالد مقبول
ہمیں صرف چند ہفتے دیں اور آپ دیکھیں گے کہ ہم پھر معمول کی زندگی میں لوٹ جائیں گے: گورنر پنجاب
گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد مقبول نے تسلیم کیا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ملک میں اپنے بارے میں پائے جانے والے تاثر سے آگاہ ہے لیکن ملک میں شفاف انتخابات اور دہشتگردی کے خاتمے کے بعد فوج کو دوبارہ عروج حاصل ہوگا۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں گورنر پنجاب نے ایمرجنسی کے جلد خاتمے کا بھی عندیہ دیا۔

’میں یہ بار بار بول رہا ہوں، جنرل مشرف بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ تین نومبر کو یہ ہوا ہے۔ ہمیں صرف چند ہفتے دیں اور آپ دیکھیں گے کہ ہم پھر معمول کی زندگی میں لوٹ جائیں گے۔‘

انہوں نے دولت مشترکہ کی جانب سے ایمرجنسی دس دن کے اندر ختم نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کی رکنیت معطل کرنے کی وارننگ کو غیرمناسب قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ پس پردہ بات چیت اور ملک کو جمہوریت کی جانب لوٹانے کے واضح اقدامات کے ذریعے حکومت پاکستان اس مسئلے کو حل کرانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

نجی ٹی وی چینلز اور ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز سے بات چیت ہورہی ہے اور یقین ہے کہ جلد ہی یہ مسئلہ طے ہوجائے گا۔ ’مشرف اس ملک میں آزاد میڈیا کے بانی ہیں تو اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کے دور حکومت میں میڈیا زوال پذیر ہو۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ماضی کی طرح آج بھی پاکستانی فوج کی ملک میں وہی عزت اور ساکھ ہے؟ انہوں نے کہا کہ فوج کے ساتھ پاکستان کے عوام کا محبت کا تعلق ہے۔ ’جب ہم شفاف انتخابات کی جانب جائیں گے اور ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوگا تو آپ دیکھیں گے کہ فوج کو دوبارہ عروج حاصل ہوگا۔‘

اس سوال پر کہ ماضی میں تو شاعر اے وطن کے سجیلے جوانو جیسے نغمے لکھتا تھا جبکہ آج کا شاعر لکھتا ہے کہ چاچا وردی لاندا کیوں نئی۔ ایسا کیوں ہے؟ تو ان کا جواب تھا ” میرے خیال میں فوج کو خود بھی اسکا احساس ہے ہم اس چیز سے کوئی جھگڑا نہیں کرنا چاہتے یہ الیکشن کا دور تھا اس میں ایک عدالتی مسئلہ بھی سامنے آگیا لوگ اس سے ناخوش ہوئے میں اس سے انکار نہیں کرتا۔،،
تاہم انہوں نے کہا کہ جب ہم نارمل صورتحال کی طرف چلیں گے اور لوگ دیکھیں گے کہ فوج نے اپنا کردار ادا کیا اور قربانیاں دیں تو میں شرط لگاسکتا ہوں کہ وہ دوبارہ فوج کو اسی عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔،،
انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ میڈیا کی آزادی موجودہ حکومت کا کارنامہ نہیں بلکہ ایک آئینی حق ہے لیکن ساتھ ہی ذرائع ابلاغ پر تازہ پابندیوں کا دفاع بھی کیا۔

آزاد میڈیا کے بانی مشرف
خالد مقبول اور شفیع نقی جامعی
 مشرف اس ملک میں آزاد میڈیا کے بانی ہیں تو اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کے دور حکومت میں میڈیا زوال پذیر ہو
گورنر پنجاب خالد مقبول

ان کا کہنا تھا کہ پرنٹ میڈیا اب بھی مکمل طور پر آزاد ہے اور حکومت کے خلاف خاصا تنقیدی انداز میں لکھ رہا ہے اور ٹی وی چینلز میں بھی پی ٹی وی کے علاوہ ہم ٹی وی اور اپنا ٹی وی سمیت بعض دیگر ٹی وی چینلز کھلے ہیں جنہوں نے حکومت کے بنائے ہوئے ضابطہ اخلاق کو تسلیم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ٹی وی چینلز کسی ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرتے ہیں اور برطانوی اور امریکی ٹی وی اپنے مغوی فوجیوں کے انٹرویو اور لاشیں نہیں دکھاتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ بھی مکمل طور پر آزاد ہے جو دنیا بھر میں خبریں پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے اور اسکے ذریعے لوگ خبریں پڑھ اور سن سکتے ہیں۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی اکثریت اب بھی انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتی۔
”الیکشن سامنے نظر آرہا ہے سرحد میں صورتحال خراب ہورہی ہے جبکہ ہم نے اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنا ہے اگر ہم آرام سے بیٹھے رہتے کہ جی جس کا جو جی چاہے وہ کرے تو خطرہ یہ تھا کہ صورتحال ہمارے ہاتھ سے نکل جاتی اور ہم الیکشن کرانے کے بجائے ملک کی صورتحال سنبھالنے میں لگ جاتے۔،،
اس سوال پر کہ اگر وہ عام آدمی ہوتے تو ملک کی موجودہ صورتحال کو کس طرح دیکھ رہے ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان ایک بہت ترقی کرتا ملک نظر آتا جہاں لوگ بہت خوش ہیں۔ ”میں فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے ایک اسکول میں پڑھتا تھا اور جب لاہور سے اوکاڑہ میں اپنے ننھیال جاتا تھا تو تین بسیں بدلنا پڑتی تھیں اور سات گھنٹوں کا سفر ہوتا تھا۔ جب لیفٹننٹ کرنل تھا تو سیالکوٹ سے فیصل آباد اور لاہور تک ویگن میں سفر کرتا تھا۔
لیکن اب میں دیکھتا کہ پاکستان میں اب کھلی کھلی سڑکیں ہیں اور فراٹیں بھرتی ویگنیں اور بسیں ہیں اور بے شمار ذرائع مواصلات ہیں۔،،
انہوں نے بتایا کہ انہیں آج تک یاد ہے کہ انہوں نے بچپن میں پہلی بار کوک اور آئس کریم دیکھی تھی پھر جب 1992ء میں امریکہ گیا تھا تو حیران ہوگیا کہ وہاں کبھی سیل لگتی ہے جا بجا جینز اور سی ڈیز ملتی ہیں لیکن اب پاکستان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پہلے صرف امریکہ اور انگلستان میں ہی دستیاب ہوتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی کے طور پر وہ یہ بھی دیکھتے کہ ملک میں یونیورسٹیوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہورہی ہے اور ہر وہ جدید مضمون پڑھایا جاتا ہے جو دنیا کسی بھی اعلی ترین یونیورسٹی میں پڑھایا جاتا ہے۔ ”میں دیکھتا کہ پاکستان میں آرٹس اینڈ ڈیزائن کو کس طرح فروغ ملا ہے اور یہ دیکھتا کہ ہمارے یہاں بہترین ٹی وی چینلز ہیں جن پر وقتی طور پر تھوڑی پابندی ہے لیکن بہترین ٹی وی ہیں۔،،
لیکن انہوں نے کہا کہ وہ عام آدمی ہوتے تو وہ یہ بھی دیکھتے کہ آج کے پاکستان میں بہت سے مسائل بھی ہیں مثلاً سوات کا ذکر سن کر لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، لوگ ابھی بھی دیکھتے ہیں کہ غربت ہے تو پاکستان کی تصویر ایک بہت کامیابی کی تصویر بھی لگتی اور بہت چیلنجز کی تصویر بھی ہوتی۔
اس سوال پر کہ اگر پاکستان اتنا ہی خوشحال ہے تو سول سوسائٹی، طلبہ اور اساتذہ کیوں احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج بھی پاکستان کے لئے فخر کی بات ہے ورنہ اس سے پہلے پاکستان کو فیوڈل معاشرہ اور حکومتی کنٹرولڈ سوسائٹی کہا جاتا تھا۔،،
تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان سولہ کروڑ آبادی والا ملک ہے یورپ کی طرح چند لاکھ کی آبادی والا ملک نہیں اور احتجاج کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ انتخابات کا وقت ہے اور ان کے بقول یہ اچھی بات ہے کہ معاشرے میں ایک بحث ہے جو کہ اگلے دو ڈھائی مہینے مزید چلے گی۔
لاہور میں ہفتہ بھر کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بے نظیر بھٹو کی نظربندی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر گورنر پنجاب نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی حکومت کی رضامندی سے ہوئی اور اس میں حکومت نے ان کی بڑی مدد کی جس کی وجہ ان کے بقول یہ ہے کہ جنرل مشرف کا یہ ایمان ہے کہ اس ملک کی سیاست میں ہر ایک کو اپنا حصہ ڈالنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے اعلان کے مطابق دس جنوری سے پہلے انتخابات کا ہونا طے ہے۔ ”میرا سوال یہ کہ کیا اس وقت ہماری سیاسی جماعتوں کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ انتخابات کی طرف لوٹیں، اپنا منشور پیش کریں اور عوام میں اپنی مقبولیت کا اظہار کریں یہ اس وقت کس بات کا لانگ مارچ ہے اور اسکا مقصد کیا ہے، پاکستان کو اس وقت لانگ مارچ کی ضرورت نہیں ہے۔،،
گورنر پنجاب کے بقول بے نظیر کی نظربندی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لاہور میں کچھ خودکش بمباروں کے داخل ہونے کی مصدقہ اطلاع ہے جس کے بعد ان کے سیکیورٹی کے عملے نے انہیں بھی محتاط رہنے کا کہا ہے۔ لیکن جب ان سے سوال کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کا اعتراض یہ ہے کہ حکومت خودکش بمباروں کی نقل و حرکت کے بارے میں تو اطلاعات دیتی ہے لیکن انہیں کبھی گرفتار نہیں کرتی تو ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے انہیں بتایا ہے کہ انہوں نے راولپنڈی سمیت دوسرے علاقوں سے خودکش بمبار پکڑے ہیں اور ”انہیں کافی کامیابی ہوئی ہے اس میں۔،،
اس سوال پر کہ جب بے نظیر بھٹو اور ان کے پارٹی کارکن تمام تر خطرات کے باوجود لانگ مارچ کرنا چاہتے تھے تو انہیں اسکی اجازت کیوں نہیں دی جاتی تو ان کا جواب تھا ”ہو یہ رہا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ جب تک وہ حکومت کو اکھاڑنے کی بات نہیں کریں گی ان کے لئے الیکشن میں حصہ لینا اتنا سودمند نہیں ہے تو وہ دکھاوے کے لئے ایک ڈیڑھ مہینہ یہ باتیں کریں گی کہ حکومت چلی جائے ادارے چلے جائیں اور اس میں عوام کو الجھائے رکھیں گے اور پھر آخری مہینے میں وہ الیکشن کی باتیں کریں گی۔
اسی بارے میں
پنجاب میں مزید گرفتاریاں
14 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد