BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 June, 2007, 00:10 GMT 05:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب میں مزید گرفتاریاں

گرفتاریاں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے استقبال کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں: اپوزیشن
پنجاب بھر میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاری کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری ہے۔

پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ(ن) اور جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ان کے سینکڑوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ دوسری طرف پولیس حکام سرکاری طور پر ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کررہے ہیں۔

پنجاب میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ چند روز سے جاری ہے اور پولیس نے اب تک سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔

سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کے سولہ جون کو فیصل آباد بار ایسوسی ایشن سے خطاب کے موقع پر ان کے استقبال اور کارکنوں کو شرکت سے روکنے کے لیےگرفتاریاں کی جارہی ہیں۔

اپوزیشن کا الزام
سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کے سولہ جون کو فیصل آباد بار ایسوسی ایشن سے خطاب کے موقع پر ان کے استقبال اور کارکنوں کو شرکت سے روکنے کے لیےگرفتاریاں کی جارہی ہیں۔

ادھر پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری جنرل چودھری غلام عباس نے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے، گرفتاریوں اور نظربندیوں کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے اپنے کارکنوں کی گرفتاری پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے جبکہ حکومت اور اپوزیشن کےدرمیان کارکنوں کی رہائی کے معاملہ پر بات مذاکرات ہوئے جس کے دوران اپوزیشن نے گرفتار کارکنوں کی فہرست پیش کی جبکہ حکومت نے کارکنوں کی نظربندی کے احکامات واپس لینے کی یقین دہانی کرائی۔

پیپلز پارٹی کے چودھری غلام عباس نے اخباری پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے ایک سو انیس کارکنوں کو نظربند کردیا گیا ہے جبکہ دیگر کارکنوں کی گرفتاری کے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

دریں اثناء لاہور میں قاضی حسین احمد نے پریس کانفرنس کےدوران حزب اختلاف کے کارکنوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت کی یہ خیام خیالی ہے کہ وہ کارکنوں کو گرفتار کرکے ان کی آواز کو دبا لے گی۔

 ہوم سیکرٹری پنجاب نے حراست میں لیے گئے کارکنوں سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت دی تھی لیکن اس کے باوجود جیل حکام نےکارکنوں سے ملاقات نہیں ہونے دی۔ جیل میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ جیل حکام کا نامناسب رویہ ہے۔
قاضی حسین احمد

ان کا کہنا تھا کہ ہوم سیکرٹری پنجاب نے حراست میں لیے گئے کارکنوں سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت دی تھی لیکن اس کے باوجود جیل حکام نے ان کی کارکنوں سے ملاقات نہیں ہونے دی ۔ان کے بقول جیل میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ جیل حکام کا نامناسب رویہ ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جیل حکام کے رویہ خلاف انسپکٹر جنرل پولیس جیل خانہ جات کے دفتر کا گھیراؤ کیا جائے گا اور بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جائیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے بھی گرفتاریوں کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ پولیس کارکنوں کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کے دوران اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کررہی ہے

لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سرفراز چیمہ نے سیاسی کارکنوں کی گرفتایوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کے بقول وکلا کی حالیہ تحریک سے حکومت خوف زدہ ہوگئی ہے اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔

ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری نے اعلان کیا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے گرفتار ہونے والی سیاسی کارکنوں کو مفت قانونی معاونت دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے وکلا پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد