اسلام آباد میں پنجاب پولیس کی’پکنک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد پولیس ہیڈکوارٹر کا پریڈ گراؤنڈ آج کل عجب منظر پیش کر رہا ہے۔ اس ہرے بھرے وسیع میدان کے ایک طرف بیسیوں بڑی بڑی بسیں ترتیب سے کھڑی ہیں۔ دوسری طرف لگے درختوں کی چھاؤں میں سینکڑوں افراد چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں بیٹھے ہیں۔ ان میں سے چند نے پنجاب پولیس کی وردیاں پہن رکھی ہیں۔ کچھ شلوار قمیض میں ہیں اور بعض شلوار اور وردی کے آمیزے میں ملبوس ہیں۔ کوئی سو رہا ہے، کوئی اونگھ رہا ہے تو کہیں تاش کی بازی جمی ہے۔ مختصراً یہ کہ پولیس ہیڈ کوارٹر کا یہ میدان پریڈ گراؤنڈ سے زیادہ پکنک گراؤنڈ دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ ہے پنجاب پولیس کی ’سرکاری پکنک‘ جس میں ساڑھے چھ ہزار جوان اور افسر شریک ہیں اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس والوں سے بھری آٹھ بسیں شیخوپورہ سے پہنچی ہیں اور اطلاع ہے کہ فیصل آباد سے آنے والے سپاہی راستے میں ہیں۔ اسلام آباد کے بارے میں تاثر ہے کہ یہ کوئی مہمان نواز شہر نہیں اور ان پولیس والوں سے پوچھیں تو یہ آپ کو بتائیں گے کہ اسلام آباد کی پولیس تو باقاعدہ مہمان دشمن ہے جس نے اپنے مہمانوں کو وفاقی دارالحکومت کی گرمی اور مچھروں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ کمرہ ہے نہ چارپائی، بستر ہے نہ تکیہ، پنکھا ہے نہ چادر، ناشتہ ہے نہ کھانا اور چائے ہے نہ پانی ۔ پنجاب کے مختلف اضلاع سے ان پولیس اہلکاروں کو پچھلے ہفتے اس وقت طلب کیا گیا تھا جب اسلام آباد کی لال مسجد کے طلبا نے اسلام آباد پولیس کے چار اہلکاروں کو اغوا کر کے یرغمال بنا لیا تھا۔ مسجد انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات میں دو اہلکار چھوڑ دیے گئے اور باقی کی رہائی کے لیے پولیس آپریشن کا منصوبہ بنا اور پولیس، رینجرز اور پنجاب پولیس کے دستوں نے لال مسجد اور سے ملحقہ مدرسے کو اتوار کی شام گھیرے میں لے لیا۔ لیکن آپریشن ہونا تھا نہ ہوا۔ اب اس ممکنہ یا نا ممکنہ آپریشن میں حصہ لینے کے لیے آنے والے پولیس اہلکار اس وقت کو کوس رہے ہیں جب انہیں اسلام آباد کی ’سیر‘ کا حکمنامہ ملا تھا۔ پولیس ہیڈکوارٹرز کے پریڈ گراؤنڈ میں محوِ استراحت انصرگوجرانوالہ پولیس کے کانسٹیبل ہیں اور چار روز سے اسی میدان میں ’رہائش پذیر’ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس میدان میں تین راتیں گزار چکے ہیں۔ ’یہاں سونے کا بندوبست ہے نہ کمرے کا۔ اس کھلے میدان میں سوتے ہیں تو رات کو مچھر کاٹتے ہیں۔ نہ نیند پوری ہوتی اور نہ پورا کھانا ملتا ہے۔ تین روز قبل آخری مرتبہ سرکاری کھانا آیا تھا وہ بھی کسی کو ملا اور کسی کو نہیں۔ پانی بھی نہیں ہے۔ نہائے ہوئے تین دن ہو گئے ہیں اور تیمم کر کے نماز پڑھتے ہیں‘۔
محمد اعجاز بھی گوجرانوالہ ہی سے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس میدان میں شب و روز بسر کرنے والوں کی کل کائنات پلاسٹک کا ایک تھیلا ہے۔ اس تھیلے میں کیا ہے؟ پولیس کی وردی، کالے جوتے، ٹوپی، بیلٹ اور بنیان۔ اعجاز کے بقول انہیں بتایا گیا تھا کہ ایک دن کا کام ہے اور پھر واپسی لہذٰا کوئی اہلکار بھی شب بسری کا بندوبست کر کے نہیں آیا اور اب بےسرو سامانی کا چوتھا دن ہے۔ عثمان پنجاب کی ایلیٹ فورس کے رکن ہیں لیکن تین روز کے جگراتے کے بعد وہ کہیں سے پولیس کمانڈو نہیں لگتے۔ استفسار پر انہوں نے بتایا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں کہ مشن کیا ہے اور کب ہے اور اس طرح بیکار بیٹھنا ان کا منصب نہیں۔ کسی سے شکایت کیوں نہیں کرتے؟ ’جناب وہ سامنے درخت دیکھ رہے ہیں۔ اس کے سائے میں ہمارے افسران بھی خوار ہو رہے ہیں جن سے ہم شکایت کر سکتے تھے‘۔ اسلام آباد پولیس لائنز کے نام سے مشہور یہ ہیڈکوارٹر پنجاب سے آئے ان پولیس اہلکاروں کا واحد مسکن نہیں۔ لال مسجد سے دو کلومیٹر پر واقع برسوں سے خالی پڑے سرکاری فلیٹس، اتنے ہی فاصلے پر موجود جناح سپورٹس کمپلیکس اور لال مسجد کے اور بھی قریب کمیونٹی سنٹر میں بھی یہ پولیس اہلکار پائے جاتے ہیں۔ لیکن حالات سب جگہ ایک سے ہیں۔ کہیں پانی نہیں ہے تو کوئی بجلی سے محروم۔ اور کھانے کی فراہمی کا حال تو سب جگہ ایک سا ہے۔ یعنی ندارد۔ پولیس کی یہ فوج دیکھ کر یقین ہو چلا تھا کہ آپریشن ہوا ہی چاہتا ہے لیکن وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر (ر) جاوید اقبال نے منگل کی شام ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے اسلام آباد کے باسیوں کو واضح انداز میں پیغام دیا کہ لال مسجد انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور حکومت وہاں کسی آپریشن کا ارادہ نہیں رکھتی۔ نہ ابھی اور نہ بعد میں۔ تو پھر پنجاب پولیس کی یہ بارات کیا واقعی صرف پکنک ہے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||