صدر مشرف تصادم کے راستے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصالحت تصادم سے بہتر صدر مشرف کی گیارہ نومبر کی تقریر کے بعد سے ابتک بہت سارا پانی پل کے نیچے سے گزرچکا ہے بلکہ ابتک گزررہا ہے اور اس وقت تک اسی سرعت سے گزرتا رہے گا جب تک ایمرجنسی کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ نہیں جاتا۔ ویسے جناب صدر نے سنیٹ کے چیئرمین میاں محمد سومرو کو نگراں وزیراعظم مقرر کردیا ہے اور انکی قیادت میں ایک چوبیس رکنی کابینہ نے حلف بھی اٹھالیا ہے۔حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اس حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور محترمہ بینظیر نے تو نگراں کابینہ کی پی سی او کے تحت حلف برداری کو غداری سے تعبیر کیا ہے۔ صدر کے اس اقدام سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی مصالحت کے موڈ میں نہیں ہیں بلکہ حزب اختلاف کوللکار رہے ہیں کہ ہم تو اپنی سی کریں گے آپ جو کچھ کرسکتے ہیں کرلیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ زمانے میں پنپنے والی باتیں نہیں ہیں۔ ممکن ہے صدر محترم کو وکلاء، صحافیوں اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج میں کچھ دم خم محسوس نہ ہوتا ہو لیکن یہ تو انکو یقینی اندازہ ہوگا کہ وہ اب عوام میں اتنے مقبول نہیں ہیں جتنے کہ 12 اکتوبر 1999 کے روز تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں تصادم کے بجائے مصالحت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اس لئے کہ وہ اقتدار میں رہیں یا مستعفی ہونے کا فیصلہ کریں باعزت طریقہ مصالحت کا ہی ہے۔ادھر یہ اطلاع بھی ہے کہ جیو ٹی وی چینل کی عالمی نشریات بھی بند کردی گئی ہیں اور یہ پاکستان کی حکومت کے دباؤ کے تحت کیا گیا ہے۔ نیگرو پونٹے آگئے
کہتے ہیں کہ وہ صدر بش کی جانب سے صدر مشرف کے نام پیغام لائے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ایمرجنسی اٹھالیں تاکہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں اور اسمیں تمام سیاسی جماعتیں بھر پور حصہ لے سکیں۔ صدر مشرف کا کہنا ہے یہ کام ایمرجنسی کے تحت ہی ہوسکتا ہے جبکہ بینظیر کا کہنا ہے کہ یہ کام نہ ایمرجنسی کے تحت ہوسکتا ہے نہ پرویز مشرف کے تحت ہوسکتا ہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ ایمرجنسی بھی جائے اور صدر صاحب بھی جائیں اور قومی یکجہتی کی ایک حکومت اور ایک آزاد اور خودمختار انتخابی کمیشن قائم کیا جائے۔ محترمہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے رابطے میں ہیں۔ بقول انکے اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن انہیں امید ہے کہ وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوجائیگی۔ ادھر امریکہ کو حقیقی معنوں میں اگر کوئی تشویش ہے تو یہ کہ اگر پاکستان میں سیاسی انتشار بڑھا تو شدت پسندوں کو اور شہ ملےگی جو اسکے مفادات کے منافی ہے۔ لیکن صدر مشرف کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے تحت شدت پسندوں سے بھی زیادہ موثر انداز میں نمٹا جاسکتا ہے ادھر بینظیر کا خیال ہے کہ ان سے نمٹنے کے لئے ملک میں جمہویرت کا فروغ زیادہ ضروری ہے۔
صدر مشرف کو کیا کہا جائے گزشتہ دنوں صدر ایک غیر ملکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مصر رہے کہ وہ ڈکٹیٹر نہیں ہیں۔ میں بھی سمجھتا ہوں کہ صدر جنرل مشرف ڈکٹیٹر نہیں ہیں لیکن جب وہ جنرل کی وردی پہنے ہوئے ہوں، ملک میں ایمرجنسی بھی نافذ کردیں، آئین کو بھی معطل کردیں اور اسکی جگہ پی سی او یعنی عبوری آئین نافذ کردیں، عدلیہ کے ایسے تمام ججوں کو جو پی سی او کے تحت حلف لینے اور ملک کے آئین کے پابند رہنے پر اصرار کریں انہیں معزول کردیں اور اپنے تمام مخا لفیں کو نظر بند کردیں یا جیل میں ڈال دیں اورآزاد ٹی وی چینلوں پر پابندی لگادیں تو پھر انہیں ڈکٹیٹر نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ صدر محترم کے احسانات؟ صدر محترم کا یہ بھی کہنا کہ انہوں نے میڈیا کو جتنی آزادی دی ہے اور کسی نے نہیں دی۔ یقینی انکے دور میں میڈیا کو وہ آزادی ملی جو اس سے پہلے کسی دور حکومت میں نہیں ملی تھی۔ لیکن یہ تو اس ملک کے ہر شہری کا حق ہے اگر ان سے پہلے کی حکومتوں نے اس ملک کے عوام کو اور میڈیا کو اس حق سے محروم رکھا تھا تو یہ انکا اخلاقی جرم تھا جس کا خمیازہ یہ ملک اتنے طویل عرصے تک بھگتتا رہا۔اب اگر انہوں نے یہ آزادی دی تو کس پر احسان کیا اپنے آپ پر یا اس ملک کے عوام پر۔اس لئے کہ کسی ملک کے عوام پر احسان کرنے کا دعویٰ تو ایک مطلق العنان ڈکٹیٹر ہی کرسکتا ہے کوئی عوام کا نمائندہ تو ایسی جسارت کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔اور پھر کمال یہ ہے کہ جو آزادی بقول انکے انہوں نے دی تھی وہ واپس بھی لے لی۔ یعنی جو چاہیں آپ کریں ہمارے حصے میں صرف خودمختاری کی تہمت آئی ہے۔
اسمبلی نے اپنے دن پورے کرلئے یہ بڑی خوشی کی بات ہے لیکن اس موقع پر ایک بات اور ذہن میں آتی ہے اور وہ یہ کہ اس ملک میں وزیراعظم جو عوام کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے ملک کی بری فوج کے سربراہ کے مقابلے میں کتنا کمزور ہے۔پہلے کمانڈر انچیف ایوب خان جنوری1951 میں اس عہدے پر فائز ہوئےاور دس سال تک اس عہدے پر فائز رہے جبکہ اس عرصے میں ایک وزیراعظم قتل ہوگئے اور چھ تبدیل کردیئے گئے۔ پھر 1972 سے ابتک کوئی بارہ وزیراعظم تبدیل ہوئے جبکہ فوج کے سربراہ آٹھ ہوئے حالآنکہ فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت تین سال ہوتی ہے اور وزیراعظم پانچ سال کے لئے منتخب ہوتا ہے۔اس حساب سے وزیراعظم سات ہونے چاہیے تھے اور چیف آف اسٹاف بارہ ہونے چاہیے تھے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فوج کے سربراہ کوجو استحکام حاصل ہے وہ منتخب وزیراعظم کو نہیں،حالآنکہ قانون کے مطابق فوج کے سربراہ کی تقرری محکمہ دفاع کے سیکریٹری کی سفارش پر ہوتی ہے۔ عمران خان کے ساتھ بدتمیزی گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی میں عمران خان کے ساتھ جو بدسلوکی ہوئی وناقابل معافی ہے۔ عمران خان ،جاوید میاں داد، جہانگیر خان ، شہناز شیخ اورحسن سردار وغیرہ وہ چند نام ہیں جنہوں نے اس ملک سے لیا کم ہے اور دیا زیادہ ہے۔ایسےلوگوں کو ہر مہذب معاشرے میں فخر قوم تصور کیا جاتا ہے اور جن لوگوں نے عمران خان کے ساتھ یہ حرکت کی انہیں ننگ قوم تصور کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے ممتاز دانشور اور گورڈن کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر خواجہ مسعود کے ساتھ بھی کچھ ایسی ہی بیہودگی یہاں ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں ہوئی تھی اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ لیکن جس ملک میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کوسرراہ دھکے مارے جاسکتے ہیں اس ملک میں ایسی شکایات کیا معنی رکھتی ہیں۔ سوات سوات میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں بھی ایمرجنسی کے نفاذ کی ایک وجہ بتائی جاتی ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ان کی سرگرمیوں میں کچھ اور شدت پیدا ہوگئی ہے اور انہوں نے کچھ علاقوں پر قبضہ بھی کرلیا ہے۔گرفتار ہونے والے وکلاء، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کی تعداد تو کوئی ڈھائی ہزار سے تجاوز کرگئی ہے لیکن مولانا فضل اللہ اور انکے ساتھی سوات میں دندناتے پھر رہے ہیں اور ابتک کوئی انکا بال بھی بیکا نہیں کرسکا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||