BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 August, 2007, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: بدگمانی کے ساٹھ سال

بلوچستان مظاہرہ
بلوچستان کے عوام میں محرومی اور اپنی بے بسی کا احساس بڑھا ہے جسکا اظہار آئے دن مختلف شکلوں میں ہوتا رہتا ہے
بلوچستان تضادات کا مجموعہ ہے۔ رقبہ کی اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ،آبادی سب سے کم۔ معدنی ذخائر سے مالا مال لیکن غربت کی آماجگاہ۔

یہاں سے نکالی جانے والی قدرتی گیس دوسرے علاقوں کی صنعتی اور معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے، خود یہاں کے بہت سے گاؤں اور قصبہ اس نعمت سے ابتک محروم ہیں۔

محل وقوع اتنا اہم کہ ایک زمانے سے بڑی طاقتیں اس کی جانب للچائی نظروں سے دیکھ رہی ہیں لیکن پاکستان کی کسی حکومت نے اب تک اسے وہ اہمیت نہیں دی جسکا وہ متقاضی ہے۔

بلوچستان میں تین لسانی اور ثقافتی گروپ آباد ہیں۔ پشتون جن کی تعداد کل آبادی کا ایک تہائی بتائی جاتی ہے صوبے کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں آباد ہیں۔

پنجابی آبادکار جو کل آبادی کا کوئی پانچ فیصد ہیں۔ باقی بلوچ ہیں اور ایک اندازے کے مطابق دو ہزار سال سے یہاں آباد ہیں لیکن بیسیوں قبیلوں اور ذیلی قبیلوں میں بٹے ہوئے ہیں اور اپنی تاریخ میں شائد ہی کبھی اور وہ بھی بہت ہی مختصر عرصے کی لئے متحد ہوئے ہوں، ہمیشہ آپس میں دست وگریباں رہے جس کا فائدہ دوسرے اٹھاتے رہے۔

مغلیہ سلطنت بلوچوں کو اپنا باجگزار بنانے میں ناکام رہی لیکن اٹھارویں صدی میں ایرانی حکمراں نادر شاہ اور پھر احمد شاہ ابدالی نے بلوچستان کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرلیا۔

بلوچ قبائل کو حقیقی معنوں میں ایک باضابطہ حکومت کے تحت چھٹے خان قلات ناصر خان نے متحد کیا اور 1758 میں احمد شاہ ابدالی کی افواج کو شکست دیکر ایک آزاد بلوچ حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے جو انگریزوں کی آمد تک قائم رہی۔

بلوچستان راکٹ
بلوچ عوام کے غصے کا اظہار آئے دن مختلف شکلوں میں ہوتا رہتا ہے

ناصر خان کے انتقال کی بعد انگریزوں نے خان قلات سے دوستی کی اور 1876 میں وہاں اپنی فوجیں رکھنے کی اجازت حاصل کرلی۔ اسطرح خان قلات کا اثر رسوخ ان کی ریاستی حدود تک محدود ہوکر رہ گیا اور بلوچستان انتظامی مقاصد کے لیے تین حصوں تقسیم کردیا گیا۔

کوئٹہ سمیت بیشتر شمالی اور شمال مشرقی اور مغربی علاقے براہ راست انگریزوں کی عملداری میں آگئے، خان قلات ریاست کے داخلی معاملات میں آزاد تھے لیکن ان کے باجگزار چھوٹے چھوٹے قبائلی سردار اب براہ راست انگریز حکومت کے ماتحت تھے۔

ہندوستان کی تقسیم کے وقت خان قلات میر احمد خان نے انگریزوں سے اپنی آزادی اور اقتدار اعلیٰ کا مطالبہ کیا اور جب وہ طے نہیں ہوسکا تو انہوں نے پاکستان کے وجود میں آنے کے صرف ایک دن بعد 15 اگست 1947 کو قلات کی آزادی کا اعلان کردیا اور ایک دو ایوانی مقننہ قائم کرلی۔

ستمبر 1947 میں مقننہ کے ایوان زیریں کا اجلاس ہوا جس میں قلات کی آزادی کی توثیق کردی گئی۔ اس اجلاس میں پاکستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر اتحاد قائم کرنے کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔

یکم اپریل 1948 کو پاکستانی افوج قلات میں داخل ہوگئیں اور خان قلات نے پاکستان سے الحاق کے معاہدہ پر دستخط کردیئے، اسطرح ریاست 225 دن آزاد رہ کر ایک بار پھر مرکزی حکومت کے زیرانتظام آگئی۔فرق صرف یہ تھا کہ اس بار مرکزی حکومت سلطنت برطانیہ کے بجائے پاکستان تھا۔

اگرچہ میر احمد خان کے چھوٹے بھائی میر عبدالکریم نے علم بغاوت بلند رکھا اور افغانستان چلے گئے لیکن قلات اور بلوچستان میں بڑی حد تک خاموشی چھا گئی۔

بلوچ لیڈرشپ
حکومت بلوچ قیادت کو صوبے میں شورش کا ذمہ دارقرار دیتی ہے

1955 میں مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کو ون یونٹ میں ضم کردیا گیابلوچستان میں اس اقدام کی شدید مخالفت کی گئی۔ مخالفین میں خان قلات سمیت بیشتربلوچ سردار بھی شامل تھے۔

ایوب مارشل لا کے نفاذ سے صرف ایک دن پہلے یعنی 6 اکتوبر 1958 کو فوج نے خان قلات اور دوسرے سرداروں کو جو ون یونٹ کے مخالف تھے گرفتار کر لیا، اسکے بعد سے کوئی دس سال تک یعنی ون یونٹ توڑے جانے تک کسی نہ کسی شکل میں بلوچستان اور مرکزی حکومت کے درمیان تناؤ اور کشیدگی کا سلسلہ جاری رہا۔

جنرل یحییٰ اقتدار میں آئے تو ون یونٹ توڑدیا گیا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ بلوچستان کو ایک باقاعدہ صوبے کی حیثیت دی گئی۔

1970 کے عام انتخات کے نتیجے میں بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعت العلماء اسلام کی مخلوط حکومت قائم ہوئی اور صوبائی وزیر اعلیٰ نیپ کے عطا اللہ مینگل بنے جبکہ گورنر غوث بخش بزنجو مقرر ہوئے لیکن مرکز اور صوبائی حکومت کے درمیان ایک تناؤ اور شک و شبہے کی کیفیت موجود تھی اس عرصے میں ایک نئی مصیبت کھڑی ہوگئی۔

ہوا یہ کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ایران کے سرکاری دورے پر گئے تو وہاں ایرانی حکام نی انہیں آزاد اور عظیم تر بلوچستان کا نقشہ دکھایا جسمیں ایرانی بلوچستان بھی شامل تھا اور اطلاعات کے مطابق اس تحریک کو کئی بیرونی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی۔

پھر اچانک ایک خبر آئی جس میں کہا گیا تھا کہ بھاری تعداد میں اسلحہ عراقی سفارتخانے سے پکڑا گیا ہے جو بلوچستان کے شورش پسندوں کو پہنچایا جانا تھا_ اسکے فوراّ بعد 14 فروری 1973 کو بلوچستان کی مینگل حکوت کو برطرف کردیا گیا اور نواب اکبر بگٹی مرحوم کو بزنجو کی جگہ پر صوبے کا گورنر مقرر کردیا گیا۔

انہوں نے گورنر بنتے ہی یہ اعتراف کرلیا کہ وہ مینگل اور بزنجو کے ساتھ اور غیر ملکی اسلحہ کی مدد سے بلوچستان کوآزاد کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن بعد میں اسلحہ کی یہ خبر دبا دی گئی۔

عام خیال ہے کہ شہنشاہ ایران بلوچستان میں مینگل حکومت کے خلاف تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبائی حکومت نےسرکاری ملازمتوں اور تجارت و صنعت کے میدان میں بلوچوں کی تعداد بڑھانے کے لئے بعض اقدامات کئے تھے۔
پٹ فیدر کے زرخیز علاقوں میں واقع غیربلوچوں کے فارموں پر حملوں کی بھی اطلاعت تھیں۔ جاموٹ قبیلے پر بھی حملہ کیا گیا جو حکومت کا مخالف تصور کیا جاتا تھا۔

ان تمام باتوں کی بناء پر نے مرکزی انتظامیہ میں یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جانے لگا کہ اگر انہیں مزید چھوٹ دی گئی تو مشرقی پاکستان والی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ چنانچہ فوج نے اس مبینہ شورش کو کچلنے کے لئے مئ 1973 میں کارروائی شروع کی جو بھٹو حکومت کے اختتام تک جاری رہی۔ اس میں ایک اندازہ کے مطابق 3 ہزار سے زیادہ فوجی اور اورپانچ ہزار سے زیادہ بلوچ مارے گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کارروائی میں ایرانی ہیلی کوپٹروں نے بھی حصہ لیا۔

اس شورش کا اور کوئی نتیجہ نکلا ہو یا نہیں لیکن یہ طے ہے کہ اس سے بلوچستان کے عوام میں محرومی اور اپنی بے بسی کا احساس بڑھا ہے جسکا اظہار آئے دن مختلف شکلوں میں ہوتا رہتا ہے۔

اس کاروائی کے نتیجے میں شورش وقتی طور پر ماند پڑگئی لیکن بلوچ عوام مرکزی حکومت سے اور بدگمان ہوگئے اور یہ بدگمانی مختلف شکلوں میں آج بھی جاری ہے۔

-----------------------------------------------------------------

یہ مضمون سولہ اگست کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین سے ماخوذ ہے۔

خصوصی سیربین
کیا فوج کی حکمرانی ہی پاکستان کا مقدر ہے؟
قبائلی جرگہقبائلی نظام دباؤ میں
حکومتی اقدامات سے یہ نظام ختم ہو جائے گا؟
منموہن کا گاؤںمنموہن کا گاؤں
بھارتی وزیراعظم کا پاکستانی گاؤں
پاکستان کا یوم آزادیساٹھ برس اور حافظہ
تاریخ اور حافظہ بدلنے میں حکومتوں کی مہارت
سینیٹ (فائل فوٹو)سینیٹرز کا مطالبہ
’سرکاری اداروں میں بلوچ نمائندگی بڑھائی جائے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد