BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 August, 2007, 09:41 GMT 14:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ساٹھ برس اور حافظہ


ساٹھ برس قوم کیا فرد کی یاداشت کے لئے بھی کوئی بہت غیرمعمولی عرصہ نہیں ہے۔ایسے کروڑوں لوگ ہیں جنہیں ساٹھ ستر برس بعد بھی اپنے بچپن اور نوعمری کے واقعات اس طرح ازبر ہیں جیسے کل صبح کی بات ہو۔لیکن بعض اوقات ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے جیسے اجتماعی حافظہ انفرادی حافظے کے مقابلے میں کمزور ہو۔

مثلاً بانی پاکستان کی پیدائش کے معاملے کو ہی لے لیجیے۔ یہ تو طے ہے کہ وہ اٹھارہ سو چھہتر میں پیدا ہوئے تھے۔لیکن کیا پچیس دسمبر انکی اصل تاریخِ پیدائش ہے یا اسکول میں لکھوائی گئی تاریخ ہے۔اس پر ایک عرصے سے مباحثہ جاری ہے۔اس سے بھی زیادہ زیرِ بحث یہ معمہ ہے کہ محمد علی جناح کہاں پیدا ہوئے۔

میں اب سے پانچ برس قبل ٹھٹھہ کے گاؤں جھرک پہنچا جو دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ یہاں آغا خان کی حویلی کے برابر میں وہ پرائمری سکول ہے جو انیسویں صدی کے دوسرے وسط میں تعمیر ہوا تھا۔اس سکول کے ہیڈ ماسٹر نے عجب داستان سنائی۔یعنی جس رجسٹر میں محمد علی جینا نامی ایک بچے کا پہلی جماعت میں انرولمنٹ ہوا تھا وہ انیس سو بیاسی میں ڈی سی ٹھٹھ کے ہمراہ اسلام آباد سے آنے والے ایک اعلی افسر یہ کہہ کر اپنے ساتھ لےگئے کہ اسکی فوٹو سٹیٹ اسلام آباد میں قائم ہونے والے نیشنل آرکاویوں میں رکھی جائے گی اور اصل رجسٹر سکول کو واپس کر دیا جائے گا۔ بقول ہیڈ ماسٹر وہ دن اور آج کا دن نہ تو رجسٹر واپس ہوا اور نہ ہی اسکی نقل مل سکی۔

 سرکردہ سندھی مورخ رسول بخش پلیجو نے متعدد تاریخی حوالوں اور شہادتوں سے یہ ثابت کیا کہ وزیر مینشن اگرچہ محمد علی جناح کے والد کی ملکیت تھا لیکن آج کی طرح اس زمانے میں بھی خوشحال تاجروں کے دو گھر ہوا کرتے

اس بارے میں میری ایک رپورٹ سن دو ہزار دو میں بی بی سی اردو سروس سے بھی نشر ہوئی تھی۔سکول کے اساتذہ نے مجھے وہ جگہ بھی دکھائی جہاں محمد علی جناح کا جنم ہوا تھا لیکن اب اس جگہ صرف ایک خالی پلاٹ ہے۔اگر کوئی گھر تھا بھی تو وہ کبھی کا منہدم ہوچکا۔

جہاں تک میری یاداشت کام کرتی ہے سن ساٹھ کے اواخر اور ستر کے شروع کے برسوں میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی شائع کردہ دوسری سے پانچویں جماعت تک کی کتابوں میں قائد اعظم کی جائے پیدائش جھرک قصبہ ہی تھی۔لیکن پھر کرنا خدا کا یہ ہوا کہ قائد اعظم کراچی کے وزیر مینشن میں پیدا ہوگئے۔بعد میں جائے پیدائش کے تنازعے پر سندھی مہاجر اختلافی سائے بھی پڑنے لگے۔قائد اعظم کی زندگی کے ایک مورخ رضوان احمد نےاور پھر قائداعظم اکیڈمی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قائدِ اعظم وزیر مینشن میں پیدا ہوئےجبکہ سرکردہ سندھی مورخ رسول بخش پلیجو نے متعدد تاریخی حوالوں اور شہادتوں سے یہ ثابت کیا کہ وزیر مینشن اگرچہ محمد علی جناح کے والد کی ملکیت تھا لیکن آج کی طرح اس زمانے میں بھی خوشحال تاجروں کے دو گھر ہوا کرتے تھے۔اور جناح پونجا نے اپنی فیملی کو اس زمانے کے رواج کے مطابق گاؤں میں رکھا ہوا تھا۔انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر وزیر مینشن میں جناح پونجا کا خاندان مستقل رہائش پذیر تھا تو پھر محمد علی جناح کو دور دراز جھرک گاؤں کے سکول کی پہلی جماعت میں داخل کرانے کا کیا جواز تھا۔

اسی طرح تاریخِ پاکستان کے مورخین اس بارے میں بھی پوری طرح متفق نہیں کہ پاکستان چودہ اگست کو آزاد ہوا تھا یا پندرہ اگست کو۔

اٹھارہ جولائی انیس سو سینتالیس کو شاہِ انگلستان نے انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ کی منظوری دی جس کے سیکشن ایک میں کہا گیا کہ پندرہ اگست انیس سو سینتالیس کو ہندوستان میں دو آزاد ڈومینیننز انڈیا اور پاکستان کے نام سے وجود میں آجائیں گی۔

چودہ اگست کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کراچی میں دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب سے چند گھنٹے بعد پاکستان ایک آزاد ملک کے طور پر وجود میں آ جائے گا۔اسی روز دہلی روانگی سے قبل ماؤنٹ بیٹن نے نئی ریاست کو تاجِ برطانیہ کی نیابت دینے کی دستاویز پر دستخط کیے اور شاہِ انگلستان کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ماؤنٹ بیٹن کی روانگی کے بعد بعض لوگوں نےگورنر جنرل محمد علی جناح کو مشورہ دیا کہ یونین جیک اتار کر پاکستان کا قومی پرچم لہرا دیا جائے۔لیکن جناح صاحب نے اس تجویز کو نامناسب قرار دیا۔نصف شب کو نئی مملکت کے قیام کا اعلان ہوا۔تاہم نئی مملکت کے قیام کا جشن صبح تک مؤخر کردیا گیا۔اسکے برعکس دلی میں نہرو نے جوتشیوں کے مشورے سے نصف شب سے ذرا پہلے اپنی تقریر شروع کی۔


پندرہ اگست کی صبح پاکستان کی نئی کابینہ نے حلف اٹھایا اور بانی پاکستان نے پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کا باضابطہ افتتاح کرتے ہوئے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ میں آپ کو مبارک باد دیتے ہوئے نہایت مسرت محسوس کر رہا ہوں۔ پندرہ اگست پاکستان کی آزاد و خودمختار ریاست کا جنم دن ہے، یہ مسلمان قوم کے تکمیلِ مقصد کا دن ہے، جس نے مادرِ وطن کے قیام کے لئے گذشتہ چند برسوں میں عظیم قربانیاں پیش کیں۔

محمد علی جناح کی اس دوٹوک وضاحت کے بعد مجھے اور مجھ سمیت کروڑوں لوگ نہیں جانتے کہ چودہ اگست کب سے یومِ آزادی قرار پایا اور کس مصلحت کے تحت قرار پایا۔

ایک اور متنازعہ موضوع یہ بھی ہے کہ پاکستان کے قیام کا اعلان ریڈیو پر کس تاریخ کو ہوا اور سب سے پہلے کس نے یہ اعلان کس ریڈیو سٹیشن سے کیا۔

اس بارے میں گفتگو سے قبل آئیے دو برس قبل آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع کردہ نہال احمد کی کتاب اے ہسٹری آف ریڈیو پاکستان پر نگاہ ڈالی جائے۔نہال احمد انیس سو اکیاون سے انیس سو بانوے تک ریڈیو پاکستان سے منسلک رہے اور بعد ازاں اپنے ادارے کی پہلی تفصیلی تاریخ مرتب کی۔ایک جگہ لکھتے ہیں:

’آزادی سے ذرا پہلے پشاور اور کراچی میں براڈ کاسٹنگ سروس شروع کرنے کی دو کوششیں ہوئیں۔صوبہ سرحد میں جب کانگریس کی حکومت نے ریفرینڈم سے قبل مسلم لیگ کی جانب سے عوام تک پہنچنے کی کوششوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنی شروع کیں تو دہلی میں ایک ریڈیو شاپ کے مالک طاہر حسین نے صوبہ سرحد کی مسلم لیگ کے رہنما سردار عبدالرب نشتر کے کہنے پر ایک شارٹ ویو ٹرانسمیٹر اور ایک برقی مشین اسمبل کرکے پھلوں کے تین ٹوکروں میں چھپا کر نشتر صاحب کے گھر پہنچوا دیں۔

 اسی طرح کراچی جہاں باقاعدہ ریڈیو سٹیشن نہیں تھا وہاں حکومتِ سندھ کے مشیر ٹی این ادنانی کی رہنمائی میں کباڑی دوکانوں سے کل پرزے خرید کر اور انہیں جوڑ جاڑ کر فوجی بارکوں میں ایک ریڈیو ٹرانسمیٹر تیار کیا گیا اور دبیز پردے ڈال کر ایک سٹوڈیو بھی بنایاگیا

چوبیس اپریل انیس سو چھیالیس کو پشاور کے ایک گھر سے بیگم ممتاز جمال کی آواز میں یہ اعلان نشر ہوا: ہم ستر میٹر بینڈ پر ریڈیو پاکستان سے مخاطب ہیں۔

اس نئے ریڈیو سٹیشن کو خفیہ رکھنے کے لیے بار بار اسکا مقام تبدیل کیا جاتا رہا۔صوبائی حکومت نے اس اسٹیشن کے کرتا دھرتاؤں کی مخبری کرنے والے کے لئے دس ہزار روپے انعام رکھا۔لیکن ریڈیو نشریات تب تک جاری رہیں جب تک مسلم لیگ صوبہ سرحد کا ریفرینڈم نہیں جیت گئی۔

اسی طرح کراچی جہاں باقاعدہ ریڈیو سٹیشن نہیں تھا وہاں حکومتِ سندھ کے مشیر ٹی این ادنانی کی رہنمائی میں کباڑی دکانوں سے کل پرزے خرید کر اور انہیں جوڑ جاڑ کر فوجی بیرکوں میں ایک ریڈیو ٹرانسمیٹر تیار کیا گیا اور دبیز پردے ڈال کر ایک سٹوڈیو بھی بنایا گیا تاکہ یومِ آزادی کی تقریبات کی کوریج کی جاسکے۔پانچ اگست انیس سو سینتالیس کو اس ٹرانسمیٹر سے پہلی آزمائشی نشریات ہوئیں اور دس اگست سے باقاعدہ نشریات شروع ہوئیں۔ پاکستان کے قیام کی ساعت اور بطور گورنر جنرل محمد علی جناح کی تقریبِ حلف برداری کی براہ راست کوریج کی گئی۔اس ٹرانسمیٹر سے موسیقی اور ڈرامے کے بھی کچھ پروگرام پیش کئے گئے لیکن دس روز بعد نشریات روک دی گئیں کیونکہ کہا یہ گیا کہ وائرلیس ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت صوبائی انتظامیہ ریڈیو نشریات کی مجاز نہیں۔

جہاں تک یہ سوال ہے کہ ریڈیو پاکستان سے آزادی کی نصف شب سب سے پہلے کس کی آواز نشر ہوئی تو اس بارے میں تاریخی حقائق کچھ یوں ہیں کہ پاکستان کے حصے میں چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب تین باقاعدہ ریڈیو سٹیشن آئے یعنی لاہور، پشاور اور ڈھاکہ سے چودہ اگست کی رات گیارہ بجے تک آل انڈیا ریڈیو کی نشریات جاری رہیں۔

بارہ بجنے سے کچھ ساعت قبل لاہور ریڈیو سٹیشن سے پاکستان براڈ کاسٹنگ کی نئی شناختی دھن بجائی گئی اور پھر ظہور آزر نے انگریزی میں یہ اعلان کیا: ’نصف شب کو بارہ بجے کا گجر بجتے ہی پاکستان کی آزاد و خودمختار ریاست وجود میں آ جائے گی۔‘

 جہاں تک یہ سوال ہے کہ ریڈیو پاکستان سے آزادی کی نصف شب سب سے پہلے کس کی آواز نشر ہوئی تو اس بارے میں تاریخی حقائق کچھ یوں ہیں کہ پاکستان کے حصے میں چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب تین باقاعدہ ریڈیو سٹیشنوں سے آل انڈیا ریڈیو کی نشریات جاری رہیں

اسکے بعد ٹھیک بارہ بجے ظہور آزر نے انگریزی میں یہ اعلان کیا: ’ یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس لاہور ہے۔اب ہم ایک خصوصی پروگرام پیش کر رہے ہیں ’صبحِ آزادی‘۔

اس اعلان کے فوراً بعد مصطفی علی ہمدانی نے اردو میں یہی اعلان کچھ ایسے دہرایا: ’ اسلام و علیکم۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ۔ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔ رات کے بارہ بجے ہیں۔پروگرام سنیے طلوعِ صبحِ آزادی۔‘

اور اسکے ساتھ ہی اقبال کا ترانہ ملی مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا نشر ہونا شروع ہوا۔

بالکل اسی وقت پشاور سے ٹھیک بارہ بجے پہلی اناؤنسمنٹ اردو میں آفتاب احمد بسمل نے کی جبکہ اسکے فوراً بعد پشتو میں یہی اعلان عبداللہ جان مغموم نے دھرایا۔اور پھر احمد ندیم قاسمی کے لکھے گئے دو ملی نغمے نشر ہوئے، جبکہ ریڈیو ڈھاکہ سے بارہ بجے کا گجر بجتے ہی کلیم اللہ نے انگریزی میں قیامِ پاکستان کا اعلان کیا اور اسکے بعد بنگلہ میں اعلان دہرایا گیا۔

لیکن چند برس بعد جب یہ سوال متنازعہ ہوا کہ پاکستان چودہ اگست کو وجود میں آیا یا پندرہ اگست کو تو اسکے ساتھ ہی یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ ریڈیو پر نئی مملکت کے قیام کا اعلان تیرہ یا چودہ اگست کی درمیانی شب کو ہوا یا چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب کو۔

انیس سو پچاس میں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ ن م راشد نے ’تھری ایئرز آف ریڈیو پاکستان‘ کے نام سے جو کارکردگی نامہ شائع کیا اس کے مطابق اعلانِ پاکستان چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب ہوا۔ لیکن جب اسی ریڈیو پاکستان نے اپنے ہی رسالے آہنگ کا گولڈن جوبلی نمبر شائع کیا تو اس میں لکھا گیا کہ اعلانِ پاکستان تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب کیا گیا۔

پالیسیاں تو ہر حکومت تبدیل کرتی ہے لیکن پاکستانی حکومتیں نہ صرف پالیسیاں بلکہ تاریخ اور حافظہ تبدیل کرنے میں بھی یکساں مہارت رکھتی ہیں۔
کون کہتا ہے کہ پاکستان جمود کا شکار ہے۔

آزادی کے ساٹھ سال
سٹھیائے نہ تو پاکستان، بھارت فائدے میں رہینگے
بات سے باتآج کا کام کل نہیں
۔۔۔ ورنہ ایک اور رات سے گزرنا پڑتا ہے
طلباء کی لاشیں سینہ چاکان مشرق
غیر ملکی صحافی نے 1971 میں کیا دیکھا؟
کتاب100 سال بعد
اردو قواعد کی مفصل کتاب منظر عام پر
بات سے باترمسا سنگھ کی تکلیف
یہ کیسا زلزلہ ہے جو انا نہیں ہلا پایا۔ وسعت
بات سے باتوہ ایک دن
14 اگست 1947 واقعی یومِ آزادی تھا: وسعت
فائل فوٹویوم آزادی یا تقسیم
’منزل انُہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے‘
اسی بارے میں
کبھی بادشاہ کبھی بساط سے باہر
29 July, 2007 | قلم اور کالم
’انصاف مل سکتا ہے تو بھگوان سے‘
25 March, 2007 | قلم اور کالم
گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت
18 March, 2007 | قلم اور کالم
’سافٹ امیج‘ ابھارنے کی کوشش
18 February, 2007 | قلم اور کالم
یہ چمن یونہی رہے گا
28 January, 2007 | قلم اور کالم
’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘
19 November, 2006 | قلم اور کالم
آزادی کا شکنجہ
19 March, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد