BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 August, 2007, 16:02 GMT 21:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اداروں میں نمائندگی بڑھائی جائے‘

سینیٹ (فائل فوٹو)
 بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کو باری کے باوجود بیرون ملک تعینات نہیں کیا جاتا
سینیٹر کامران مرتضی
صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ارکان سینیٹ نے وفاقی حکومت کے زیر انتظام بعض سرکاری اداروں میں اپنے صوبے کو آئین میں درج شدہ کوٹے کے مطابق ملازمتیں نہ ملنے پر ایوانِ بالا کے اجلاس میں شدید احتجاج کرتے ہوئے سرکاری اداروں میں بلوچستان کی نمائندگی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سرکاری ملازمتوں میں صوبائی کوٹے کا معاملہ بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اس وقت زیر بحث آیا جب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سمندر پار پاکستانی سرکاری ملازموں کی تعیناتی کے حوالے سے پیش کردہ اعداد و شمار کو غیر منصفانہ اور صوبائی حقوق کے منافی قرار دیا۔

سمندر پار پاکستانیوں کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے سینیٹر سید طاہر مشہدی کے ایک سوال کے تحریری جواب میں ایوان کو بتایا کہ بیرون ملک کمیونٹی ویلفیئر اتاشی کے دفاتر میں کی جانے والی تعیناتیوں میں صوبائی کوٹے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ لہذا سال دو ہزار پانچ میں بیرون ملک تعینات ہونے والے سرکاری ملازمین میں بلوچستان سے کوئی شخص نہیں لیا گیا۔

اسی سے ملتے جلتے ایک اور سوال کے تحریری جواب میں وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ پانچ برس میں قومی ائرلائن پی آئی اے میں بھی بلوچستان کے مختص کوٹے سے کم تعیناتیاں کی گئی ہیں۔

 سرکاری ملازمتوں میں بلوچستان کو ہمیشہ سے ہی نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ چند سالوں میں تو یہ رجحان مزید زور پکڑ گیا ہے
سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی

اس موضوع پر بلوچستان کے ارکان سینیٹ نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سرکاری ملازتوں میں حصہ نہ ملنے کو صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی ’بلوچستان کے خلاف سیاسی پالیسی‘ کا تسلسل قرار دیا۔

سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں بلوچستان کو ہمیشہ سے ہی نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ چند سالوں میں یہ رجحان مزید زور پکڑ گیا ہے۔

سینیٹر کامران مرتضی کا کہنا تھا بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کو باری کے باوجود بیرون ملک تعینات نہیں کیا جاتا۔

بلوچستان ہی سے تعلق رکھنے والی سرکاری رکن پری گل آغا نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے احساس محرومی کو ابھارنے والے اس معاملے پر اطیمان بخش جواب نہیں دے رہی۔

وفاقی وزیر غلام سرور خان کی جگہ ایوان میں جواب دینے والے وزیر مملکت رضا حیات ہراج نے ایوان کو یقین دہانی کروائی کہ بیرون ملک تعیناتیوں اور نئی ملازمتوں میں آئندہ صوبائی کوٹے کا خیال رکھا جائے گا۔ ارکان سینیٹ نے وزیر مملکت کی اس یقین دہانی کو مسترد کردیا اور کئی ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر بیک وقت بولنے لگے۔

اجلاس کی سربراہی کرنے والے بلوچستان کے سینیٹر جان محمدجمالی نے اس ہنگامی آرائی اور شور شرابے کے دوران دی گئی رولنگ میں حکومت کو پابند کیا کہ آئندہ بیرون ملک تعیناتیوں اور نئی ملازمتوں کے لیے جب اشتہار تیار کیا جائے تو اسے سینیٹ کے سامنے بھی پیش کیا جائے تاکہ سینیٹر حضرات اپنے اپنے صوبائی کوٹے کے لحاظ سے ہونے والی تعیناتیوں پر نظر رکھ سکیں۔

سینیٹکالاباغ ڈیم
سینیٹ میں گرما گرمی اور واک آؤٹ
اسی بارے میں
سینیٹ میں واک آؤٹ کا دِن
26 April, 2005 | پاکستان
سینیٹ، صحافیوں کا واک آؤٹ
07 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد