’اداروں میں نمائندگی بڑھائی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرکاری ملازمتوں میں صوبائی کوٹے کا معاملہ بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اس وقت زیر بحث آیا جب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سمندر پار پاکستانی سرکاری ملازموں کی تعیناتی کے حوالے سے پیش کردہ اعداد و شمار کو غیر منصفانہ اور صوبائی حقوق کے منافی قرار دیا۔ سمندر پار پاکستانیوں کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے سینیٹر سید طاہر مشہدی کے ایک سوال کے تحریری جواب میں ایوان کو بتایا کہ بیرون ملک کمیونٹی ویلفیئر اتاشی کے دفاتر میں کی جانے والی تعیناتیوں میں صوبائی کوٹے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ لہذا سال دو ہزار پانچ میں بیرون ملک تعینات ہونے والے سرکاری ملازمین میں بلوچستان سے کوئی شخص نہیں لیا گیا۔ اسی سے ملتے جلتے ایک اور سوال کے تحریری جواب میں وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ پانچ برس میں قومی ائرلائن پی آئی اے میں بھی بلوچستان کے مختص کوٹے سے کم تعیناتیاں کی گئی ہیں۔ اس موضوع پر بلوچستان کے ارکان سینیٹ نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سرکاری ملازتوں میں حصہ نہ ملنے کو صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی ’بلوچستان کے خلاف سیاسی پالیسی‘ کا تسلسل قرار دیا۔ سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں بلوچستان کو ہمیشہ سے ہی نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ چند سالوں میں یہ رجحان مزید زور پکڑ گیا ہے۔ سینیٹر کامران مرتضی کا کہنا تھا بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کو باری کے باوجود بیرون ملک تعینات نہیں کیا جاتا۔ بلوچستان ہی سے تعلق رکھنے والی سرکاری رکن پری گل آغا نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے احساس محرومی کو ابھارنے والے اس معاملے پر اطیمان بخش جواب نہیں دے رہی۔ وفاقی وزیر غلام سرور خان کی جگہ ایوان میں جواب دینے والے وزیر مملکت رضا حیات ہراج نے ایوان کو یقین دہانی کروائی کہ بیرون ملک تعیناتیوں اور نئی ملازمتوں میں آئندہ صوبائی کوٹے کا خیال رکھا جائے گا۔ ارکان سینیٹ نے وزیر مملکت کی اس یقین دہانی کو مسترد کردیا اور کئی ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر بیک وقت بولنے لگے۔ اجلاس کی سربراہی کرنے والے بلوچستان کے سینیٹر جان محمدجمالی نے اس ہنگامی آرائی اور شور شرابے کے دوران دی گئی رولنگ میں حکومت کو پابند کیا کہ آئندہ بیرون ملک تعیناتیوں اور نئی ملازمتوں کے لیے جب اشتہار تیار کیا جائے تو اسے سینیٹ کے سامنے بھی پیش کیا جائے تاکہ سینیٹر حضرات اپنے اپنے صوبائی کوٹے کے لحاظ سے ہونے والی تعیناتیوں پر نظر رکھ سکیں۔ |
اسی بارے میں سینیٹ: اپوزیشن کا علامتی واک آؤٹ10 August, 2007 | پاکستان سینیٹ کی کارروائی پِھر ٹھپ18 May, 2007 | پاکستان امریکی سینیٹ سے مداخلت کا مطالبہ15 March, 2007 | پاکستان سینیٹ کےقواعد پرکمیٹی کی رپورٹ 21 February, 2007 | پاکستان سینیٹ: صحافیوں کا دوبارہ واک آؤٹ24 January, 2007 | پاکستان سینیٹ: اپوزیشن کا علامتی واک آؤٹ17 January, 2007 | پاکستان سینیٹ میں واک آؤٹ کا دِن26 April, 2005 | پاکستان سینیٹ، صحافیوں کا واک آؤٹ07 February, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||