BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 March, 2007, 19:21 GMT 00:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی سینیٹ سے مداخلت کا مطالبہ

معطل چیف جسٹس افتخار کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں
پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف امریکہ میں سرگرم تنظیم ایشین امریکن نیٹ ورک اگینسٹ ابیوز آف ہیومن رائٹس ان پاکستان یا ’انا‘ نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کو امریکی سینیٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کو چیف جسٹس کی معطلی پر سماعت کرنے کے لیے خطوط لکھنے کو کہا ہے-

انا کی سیکرٹری جنرل اور پاکستانی نژاد قانون دان رفيہ زکریا نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بھیجے گئے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں انصاف کے سب سے بڑے فورم کے سربراہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی سے عیاں ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی مکمل طور ختم ہوچکی ہے-

انہوں نے کہا ہے کہ معطل چیف جسٹس پاکستان میں ریاستی ایجنسیوں کے ہاتھوں گمشدہ افراد اور بدعنوانی کے ایسے کیسوں کی سماعت کرنے والے تھے جن میں مبینہ طور پر پاکستانی حکومت کی اعلی شخصیات ملوث تھیں- ان میں سے تازہ ترین کیس پاکستان میں ان 148گمشدہ شہریوں کا مقدمہ تھا جس کی چیف چسٹس نے گزشتہ دنوں سماعت کی تھی-

انا کے بیان میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کمیشن نے حال ہی میں رہائي پانے والے ان لوگوں کے حلفیہ بیانات کی بنیاد پر درخواست دائر کی تھی کہ ان لوگوں کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کرکے غیرقانونی طور پر قید رکھا ہوا تھا-

معطل چیف جسٹس افتخار
اس درخواست میں فریق بنائے جان والے پاکستان کے اٹارنی جنرل وفاقی حکومت کی نمائندگي کرنے کے لیے سماعت کے دن سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوئے، بلکہ دوسرے دن من گھڑت الزمات لگا کر بڑی بے آبروئي کیساتھ چیف جسٹس کو معطل کردیا گیا-

انا کی عہدیدار رفیہ زکریا نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی گھر میں نظربندی، ان پر ان کے وکلاء اور ساتھی ججوں سے ملاقات اور میڈیا سے رابطے پر پابندی یہ سب کچھ حکومت کے ان مذموم مقاصد کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ملک میں سب سے بڑے عدالتی عہدے والے شخص کو اپنی آئينی اور قانونی ذمہ داریوں اور عوام کو تحفظ دلوانے سے روکے ہوئے ہے-

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے ساتھ حکومت کی جانب سے رکھا جانے والا ناروا سلوک اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان میں حکومت پر تنقید کرنے میں کوئی بھی شخص آزاد نہیں اور ایسا کرنے پر کسی بھی شخص کو ظلم کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے-

انا نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ کی غیرموجودگي میں محض حکمرانوں کی ایما پر چیف جسٹس کو معطل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایسے حالات میں پاکستان کے عوام آزاد رہ سکتے ہیں اور نہ ہی دہشتگردی اور مذہبی انتہا پسندی کیخلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے-

انا نے کہا ہے کہ وہ اس گھڑی پاکستان میں قانون کی حمکرانی کے لیے جدوجہد کرنے والے ان وکلاء کے ساتھ کھڑی ہے جہنوں نے عوام کے حقوق سلب کرنے والی ظالم حکومت کیخلاف اپنی زندگیوں کی سلامتی کا خطرہ مول لیےہوئے ہیں-

انا نے ان تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جو لوگ، انا کے جاری کردہ بیان کے مطابق، پاکستان میں ‍قانون کی حکمرانی کی حمایت کرتے ہیں وہ امریکی سینیٹ کی خارجہ تعقات کی کمیٹی کو پاکستان میں چيف جسٹس کی معطی پر سماعت کرنے کے لیے خطوط لکھیں-

زباں بندی؟
وکلاء احتجاج کو’سنسر‘ کرنے کی مذمت
عدلیہ کی آزادی
’بینظیر بھٹو جدوجہد میں کردار ادا کریں‘
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
جسٹس رانا بھگوان داس’لکھنؤ PCO‘
’جسٹس بھگوان داس PCO سے فون کرتے ہیں‘
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
چھٹے دن بھی احتجاج چھٹے دن بھی احتجاج
چیف جسٹس معطلی کے خلاف مظاہرے جاری
 جسٹس افتخار محمد چودھریجسٹس افتخار معاملہ
حکومتی کامیابی سرکاری افسران کے حلف ناموں پر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد