بلوچستان: قبائلی نظام یا نئے ادارے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں قبائلی نظام صدیوں سے قائم ہے۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ صدر پرویز مشرف کی حکومت کی یہ کوشش ہے کہ یہ نظام ختم کردیا جائے لیکن سرداروں اور عام لوگوں کے بقول یہاں بہتر متبادل نظام کے بغیر اسے ختم کرنا مشکل ہوگا۔اس نظام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ قبائلی نظام کی حمایت کرتی آئی ہے۔ قبائلی نظام کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدمات نمایاں نظر آرہے ہیں ۔گزشتہ سال اگست میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد ڈیرہ بگٹی میں نوابی نظام کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں قبائلی نظام قائم ہے اور اس کے لیے سرداروں اور نوابوں کے ماتحت لیویز فورس امن و امان کے قیام کے لیے متحرک رہتی ہے۔ یہ نظام انگریز کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔ مشرف حکومت سے پہلے بلوچستان میں پچانوے فیصدعلاقے میں لیویز فورس ہوتی تھی جسے بی ایریاز کہا جاتا تھا اور پانچ فیصد علاقوں میں پولیس کام کرتی تھی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بی ایریاز یعنی لیویز فورس کو ختم کرکے اے ایریاز یا پولیس علاقوں میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں اور اب تک اٹھارہ اضلاع کو پولیس علاقوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے ان میں ڈیرہ بگٹی بھی شامل ہے۔ انگریز دور میں سرداروں اور نوابوں کو دی جانے والی مراعات تو بھٹو دور میں ہی ختم کر دی گئی تھیں۔
پرویز مشرف کی حکومت کی ان کوششوں کے باوجود بلوچستان میں لوگ اپنے سرداروں کی عزت کرتے ہیں اور اس کا مظاہرہ بلوچستان میں لوگوں نے اس وقت کیا جب فوجی آپریشن کے دوران نواب اکبر بگٹی کو ہلاک کر دیا گیا۔ حکومتی پالیسیوں کے خلاف لوگوں کے مظاہرے توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراو اور اب نواب اکبر بگٹی کو ہیرو سمجھنا اس کا واضح ثبوت ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے سرداروں اور نوابوں کی حمایت کی ہے۔ یوم آزادی یعنی چودہ اگست کو بارکھان میں ایک تقریب میں سرداروں کی حمایت میں نغمے گائے گئے ہیں۔ بلوچستان میں سرداری نظام کے حوالے سے میں نے سردار عطاءاللہ مینگل سے پوچھا کہ قبائلی نظام کو جس طرح حکومت ختم کرنا چاہتی ہے کیا ختم کیا جا سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’کبھی حکومت یہ نظام ڈیرہ بگٹی میں ختم کرتی ہے تو کہیں اور لیکن ان بد بختوں کو پتہ نہیں ہے کہ سرداری کوئی نظام نہیں ہے بلکہ یہ قبائلی نظام ہے جس میں سردار کو ایک اہمیت حاصل ہے۔ یہ نظام اس وقت تک ختم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ کوئی بہتر متبادل نظام نہ دیا جائے۔ اب شہری علاقوں میں ریگولر نظام کو نافذ کیا جا رہا ہے جس میں لیویز کی جگہ پولیس تعینات کی جا رہی ہے جس سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں کو انصاف ملنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔‘ سرداروں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سردار ترقی کے مخالف ہوتے ہیں ۔ سردار عطاءاللہ مینگل اس سے اتفقا نہیں کرتے۔ ’حکومت کے بقول ایک میں ایک نواب خیر بخش مری اور ایک نواب اکبر بگٹی ترقی کے مخالف ہیں پہلے تو یہ درست نہیں ہے اور اگر مان لیا جا ئے تو وہ سردار جو حکومتی ترقی کے حق میں ہیں ان کے علاقوں میں کیا ترقی ہوئی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ہم تین سرداروں کا موقف ہے کہ بلوچستان میں ترقی بلوچستان کے لوگوں کے لیے ہونی چاہیے۔ ’کوئٹہ کو کراچی سے ملانے والی شاہراہ میرے گھر کے پاس سے گزرتی ہے اور اسے میں نہ خود تعمیر کرایا ہے۔‘ انگریز کے اس قبائلی نظام میں سردار کو اہمیت حاصل تھی اور سردار کو اس وقت تین سو روپے ماہانہ دیے جاتے تھے جس کے بدلے سردار اپنے علاقے میں امن و امان کا ذمہ دار ہوتا تھا اور وہ ایک طرح سے سرکار کا نمائندہ ہوتا تھا۔ ذولفقار علی بھٹو کے دور میں حکومت نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا لیکن لوگ اس نطام سے آج بھی جڑے ہوئے ہیں۔ پارلیمانی امور کے صوبائی وزیر عبدالرحمان جمالی نے کہا کہ ’قبائلی نظام برا نہیں ہے بلکہ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے اور اسے طاقت کے ذریعے ختم کرنے سے مسائل بڑھ سکتے ہیں اس لیے ضرورت لوگوں کو تعلیم اور روزگار دینے کی ہے۔‘ بلوچستان میں نیشنل پارٹی سرداری نظام کی مخالف ہے ۔ اسی جماعت کے رکن صوبائی اسمبلی جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ قبائلی نظام کو بہتر سماجی نظام کی طرف لے جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بگٹی مینگل اور مری قبیلوں میں تقسیم کرنے سے بلوچ کی اپنی قومی شناخت نہیں رہی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی نظام قلم کے ایک فیصلے سے ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے اس علاقے میں بہتر تعلیم روزگار کے مواقع اور تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی سے بہتر جمہوری معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||