بنتے بگڑتے تعلقات کی آئینہ دار فلمیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہتے ہیں فلمیں سماج کا آئینہ ہوتی ہیں۔ اسی لیے تقسیمِ ملک کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے رشتوں کو بھی بالی وڈ فلموں میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی اور ساٹھ برسوں میں رشتوں کے اس سفر میں جس طرح دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بگڑے اور کبھی خوشگوار ہوئے، اسی کی جھلک بالی وڈ فلموں میں بھی نظر آئی۔ انیس سو سینتالیس کی آزادی کے بعد سے انیس سو تہتر تک کسی بھی فلمساز نے ان بھیانک یادوں کو جگانے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے کرب جھیل رہے ان انسانوں کی کہانی کو پردے پر اتارنے کی ہمت نہیں کی۔ پھر ایم ایس سیتھو نے ایک قدم بڑھایا اور انہوں نے سماج میں رہنے والے ان مسلمانوں کے کرب کی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ہمت کی۔ انہوں نے فلم ’گرم ہوا‘ بنائی۔ اس فلم میں اپنے دور کے عظیم فنکاروں نے کام کیا۔ مشہور شاعر کیفی اعظمی نے فلم کی کہانی (عصمت چغتائی کی غیر مطبوعہ کہانی پر مبنی) اور مکالمے لکھے۔ بلراج ساہنی، شوکت کیفی، شمع زیدی، فاروق شیخ، نے اس فلم میں اہم کردار نبھائے۔ کہانی ایک مسلمان گھرانے کی تھی۔ مرزا سلیم ( بلراج ساہنی ) تقسیم ملک کے بعد بھی ہندوستان چھوڑ کر نہیں جاتے۔ آگرہ میں جوتوں کا کاروبار کرنے والے اس خاندان کو اپنا پشتینی مکان بھی چھوڑنا پڑتا ہے۔ قدم قدم پر انہیں اور ان کے بیٹے سکندر ( فاروق شیخ ) کو اپنی تنگدستی اور بے روزگاری کی مار سہتے ہوئے اپنی عزت وقار اور خود داری کو قائم رکھنے کی جنگ لڑنی پڑتی ہے۔
سیتھو نے ایک انتہائی حساس موضوع کو بڑے کمال کے ساتھ برتا۔ اپنی اس فلم میں اس درد اور کرب کو حقیقی انداز میں دکھانے کی کوشش کی جسے اس وقت لوگوں نے دنیا کے ساتھ ساتھ خود سے بھی چھپانے کی کوشش کی تھی۔ اس فلم نے تقسیم کی وجہ سے سماجی، مالی نقصانات اور ذہنی کرب کو اجاگر کیا۔ اس میں یہ بھی واضح طور پر بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اپنی جڑوں سے الگ ہونے کا درد کیا ہوتا ہے۔ گرم ہوا کے بعد گووند نہلانی نے ٹی وی فلم ’تمس‘ بنائی جو سکھ خاندان کی کہانی ہے۔ تقسیم ملک کی اس کہانی میں بھی وہی درد اور کرب ہے۔ مصنف اور صحافی خشونت سنگھ کی ناول ’ٹرین ٹو پاکستان‘ پر بھی فلم بنی۔ مندمل ہوئے زخم پھر تازہ ہوئے۔ تقسیم ملک کی فلموں کے ساتھ ساتھ بالی وڈ نے پاکستان کے ساتھ رشتوں کو بھی اپنی فلموں میں نمایاں طور پر پیش کیا۔ بیشتر فلموں میں سرحد پار دہشت گردی، کشمیر، انیس سو اکہتر اور کارگل جنگ کو موضوع بنایا گیا۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو منفی طور پر دکھانے والی فلمیں انیس سو ستانوے سے زیادہ بننے لگی تھیں۔ اس مختصر عرصہ میں ہند پاک تعلقات پر بیس فلمیں بنیں۔ اس وقت مرکز میں ہندتوا وادی نظریات کی حامل حکومت تھی۔ انیس سو ستانوے میں فلم ’بارڈر‘ کی نمائش ہوئی۔
ملک کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ کے عین چند ماہ قبل اس فلم کی نمائش ہوئی اور اس میں وہی نظریات پیش کیے گئے جو ان ہندتوا نواز کے دل کی پکار تھے۔ یہ فلم انیس سو اکہتر کی جنگ کے پس منظر میں بنائی گئی تھی۔ انیس سو ننانوے میں ’سرفروش‘ منظر عام پر آئی لیکن اس فلم میں سرحد پار دہشت گردی کو الگ انداز میں بتایا گیا تھا۔ ’مشن کشمیر‘ میں کشمیری نوجوان کو ہندوستانی فوج کے ظلم کے خلاف جنگ لڑتے دکھایا گیا۔ شاید یہ پہلی فلم تھی جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح ہندوستانی پولیس افسر کے ہاتھوں بے گناہ کا قتل ہوتا ہے، لیکن اس کے لیے جواز بھی دیا گیا کہ دہشت گردوں کے درمیان عام شہری کی شناخت مشکل تھی اور وہ انجانے میں ہلاک کر دیے گئے۔ بالی وڈ کی فلموں میں پاکستان کو زیادہ تر منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں جب بھی پاکستان کے خلاف ہیرو مکالمے بولتا ہے لوگ کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے ہیں۔ جیسے فلم ’ماں تجھے سلام‘ میں ’ہم جیو اور جینے دو کے سدھانت (اصول ) پر چلتے ہیں۔ نہ ہم پہل کرتے ہیں اور نہ کبھی کریں گے۔‘ فلم ’غدر‘ میں فلمساز نے ایک ڈائیلاگ ’اس ملک سے زیادہ مسلمان ہندوستان میں ہیں اور ان کا دل ہمیشہ یہی کہتا ہے ہندوستان زندہ باد‘ اور اس پر جذباتی مسلمانوں نے بھی تالیاں بجائیں۔ ممبئی کے فلمساز آخر منفی نظریات پر مبنی فلمیں کیوں بناتے ہیں؟ کیا وہ اس کے حامی ہیں۔ کہانی اور مکالمہ نویس جاوید صدیقی اس سے اتفاق نہیں کرتے، ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہر فلم ساز کا اپنا نظریہ ہوتا ہے۔ ایسی فلمیں وقت کی محتاج ہوتی ہیں۔ عام امن پسند اور سیکولر ذہن رکھنے والا انسان اسے پسند نہیں کرتا اور کئی اعلی فلم سازوں نے اس سے اپنا دامن بچائے رکھا۔ پھر آپ کو اس وقت کے سیاسی منظر نامہ کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا۔ سیاست ہماری زندگی کا حصہ ہے اور اسی کو اس دور کی فلموں میں نمایاں طور پر پیش کیا گیا تھا۔ پاکستان میں بھی اس قسم کی فلمیں بنی ہوں گی جس میں ہندوستان کو گالیاں دی گئی ہوں گی۔‘ سن دو ہزار میں فلم ’غدر‘ آئی۔ تقسیم کے دور کے فساد کو دکھانے کی کوشش کی گئی۔ اس فلم میں سنی دیول کی زبان سے پاکستان کو برا بھلا کہا گیا اور سنی کو پاکستان کے خلاف انڈین ہیرو کا درجہ دے دیا گیا۔
بالی وڈ کے جن فلم سازوں نے پاکستان کو منفی کردار میں پیش کیا انہوں نے البتہ کبھی ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت نہیں دکھائی بلکہ ہر مسلمان کو وطن پرست دکھایا۔ فلم ’سرفروش‘ میں انسپکٹر اقبال، ’مشن کشمیر‘ کا پولیس افسر خان ( سنجے دت ) اس کی اچھی مثال ہو سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہندوستان پاکستان تعلقات پر بنی ہر فلم میں پاکستان کو منفی کردار میں پیش کیا گیا ہو۔ فلم ’حنا‘ میں پاکستان کی اچھی اور مثبت تصویر پیش کی گئی۔ ’غدر‘ کے بعد لیکن ہر وہ فلم جس میں پاکستان کو منفی انداز میں پیش کیا گیا وہ فلاپ ہو گئی۔ بہت بڑے بجٹ کے ساتھ بنی ’ایل او سی‘ ’لکش‘ اور’دیوار‘ جیسی فلمیں بہت بری طرح فلاپ ہوئیں۔ اس وقت اپنے عروج پر چل رہے امیتابھ بچن، رتیک روشن اور بڑی سٹار کاسٹ بھی انہیں ڈوبنے سے نہیں بچا سکی۔ ’ماں تجھے سلام‘، ’پکار‘، ’زمین‘ ، ’میں ہوں نہ‘، میں بھی پاکستان کو اچھے انداز میں نہیں پیش کیا گیا۔ ان فلموں میں سے صرف ’میں ہوں نہ‘ کامیاب ہوئی۔
نامور فلم ساز مہیش بھٹ کا کہنا تھا کہ ’اس وقت عوام پاکستان کے ساتھ امن چاہتے ہیں اور خود سیاسی حالات اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ دونوں طرف سے راستے کھل گئے ہیں۔ اس لیے عوام نے منفی انداز میں پیش کیے گئے تعلقات کو مسترد کر دیا‘۔ پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی لڑائی بھی بالی وڈ فلموں کا ہمیشہ موضوع رہی ہے۔کسی میں صحیح انداز میں ان کے مسائل پر روشنی نہیں ڈالی گئی لیکن فلم ’فنا‘ ایسی واحد فلم کہی جا سکتی ہے جس میں ایک خاتون پولیس افسر تبو کی زبانی یہ کہلایا گیا ہے کہ ’کشمیریوں سے انہیں اپنے ملک چننے کے لیے ریفرنڈم کرانے کا جو وعدہ کیا گیا تھا اسے پورا نہیں کیا گیا اور یہ ان کے ساتھ دھوکہ تھا‘۔ جنگ اور نفرت کے بعد اب دونوں ممالک میں امن کی فضا قائم ہو رہی ہے اور اسی لیے اس پس منظر میں اب جو بالی وڈ فلمیں بن رہی ہیں وہ اسی حالات کا آئینہ ہیں ویر زارا جیسی فلمیں ہندوستان اور پاکستان کے اچھے تعلقات کو پیش کرنے والی ایک بہترین فلم ثابت ہوئی۔ مہیش بھٹ مانتے ہیں کہ فلموں میں ہمیشہ مثبت نظریہ پیش کیا جانا چاہیے۔ ’ہم ایک ہیں ہماری زبان، ہمارا کلچر، ہمارے دکھ، ہماری بھوک ہمارے مسائل سب ایک ہیں تو پھر کیوں ہم ایک دوسرے کو گالیاں دینے کے بجائے ہم سب مل کر اس سے لڑیں اور دلوں میں محبت پیدا کریں اور فلموں سے بہتر کوئی اور اچھا ذریعہ ہو ہی نہیں سکتا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||