فنکاروں کے تبادلے اور فلمی صنعت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تقسیمِ ملک کے ان ساٹھ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان فنکاروں کے تبادلے ہوئے۔ یہ تبادلے کتنے خوش آئند ہیں؟ انہوں نے ہندوستانی اور پاکستانی فلمی صنعت کو کتنا فروغ دیا اور ان کا مستقبل کیا ہے؟ کیا ان تبادلوں نے دلوں کے درمیان پیدا خلیج کو واقعی کم کیا ہے؟ ان موضوعات پر ہم نے بالی وڈ کے نامور کہانی اور مکالمہ نویس جاوید صدیقی سے گفتگو کی۔ س: ہند پاک کے درمیان فنکاروں کے اس تبادلے کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ ج (جاوید صدیقی): کسی بھی ملک کو کم سے کم اپنی تہذیب اور ثقافت کو عام کرنے کے لیے اپنی سرحدوں کے قوانین کو نرم کرنا چاہیے۔ پھر ہندوستان اور پاکستان کا تو کلچر، ان کی تاریخ، ان کا اعتقاد اس کی زبان سب کچھ مشترک ہے۔ فنکاروں کے تبادلوں سے دونوں ممالک کو فائدہ ہی ہوا ہے۔ گزشتہ ساٹھ برسوں میں ہندوستان میں جو کچھ ہوا وہ وہاں پہنچا اور پاکستان نے جو تجربات کیے وہ ہم تک پہنچے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ س:فنکاروں کے اس تبادلے نے دونوں ممالک کے درمیان کی خلیج دور کرنے میں مدد کی ہے؟ ج (جاوید صدیقی): بے شک اور بہت حد تک۔ البتہ سیاسی خلیج، جس کا تعلق سیاستدانوں سے ہے۔ سیاستدانوں کے مفادات عوام کی طرح نہیں ہوتے۔اگر بات کریں عوام کی حد تک تو یہ صحیح ہے کہ عوام کے دلوں کی غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں۔ میں کئی مرتبہ پاکستان جا چکا ہوں کئی وفود وہاں گئے ہیں۔ لوگ انفرادی طور پر گئے۔ وہاں سے لوگ یہاں آئے۔ ظاہر ہے سماجی سطح پر لوگ ایک دوسرے سے متعارف ہوں گے تو غلط فہمیاں دور ہوں گی اور محبت بڑھے گی۔ س: بالی وڈ اور لالی وڈ کے اشتراک کو مزید مضبوط کرنے کے لیے دونوں ممالک کی حکومتوں کو کیا اقدامات کرنے چاہیے؟
ج (جاوید صدیقی): ممبئی اور لاہور کی فلمی صنعتوں کے اس اشتراک کی تو ابھی شروعات ہوئی ہے۔ پہلے ان کے پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لاہور میں ابھی کوئی اچھا سٹوڈیو نہیں ہے۔ ساؤنڈ لیب نہیں ہے۔ انہوں نے صنعتی طور پر ترقی نہیں کی ہے لیکن ہندوستان جدید ٹیکنالوجی ہے اور ساری سہولیات سے لیس ہے۔ صرف اچھی فلم بنانے کے جذبے سے تو کامیاب فلمیں نہیں بنائی جا سکتیں۔ ان کے پاس اچھے فنکار کہانی کار، مکالمہ نویس، شاعر ہیں لیکن یہ سب جدید ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس لیے دونوں ممالک کے درمیان اگر یہ تبادلے ہوتے ہیں تو پاکستان بھی اپنے یہاں بہترین فلمیں بنا سکتا ہے۔ ہندوستان میں بڑے پیمانے ہر پر زر مبادلہ آئے گا۔ ہندوستان کے پاس اگر جدید تیکنالوجی ہے تو ساتھ ہی اس کے پاس بھی کچھ کمی ہے۔ اگر ہمیں فلم کی شوٹنگ کے لیے بنگلہ چاہیے تو ہم سوئٹزرلینڈ اور آسٹریلیا کا رخ کرتے ہیں پھر وہاں گوروں کو دور رکھ کر اپنے ملک جیسا ماحول پیدا کرنا ہو تو یہاں سے جہاز میں بھر کر لوگوں کو لے جانا پڑتا ہے جس سے فلم کا بجٹ بڑھ جاتا ہے جبکہ پاکستان میں شوٹنگ آسانی کے ساتھ ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں بڑے خوبصورت مقامات ہیں اور وہاں اونچی بلند عمارتوں سے زیادہ بنگلوں کا کلچر ہے۔ اس سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ہم جیسے ہی ہیں اس لیے ہمیں بھیڑ بھی اکٹھا کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ س: پاکستانی اداکاروں نے یہاں فلموں میں کوئی خاص مقام نہیں بنایا جبکہ وہاں کے گلوکار یہاں بہت مقبول ہوئے؟ ج (جاوید صدیقی): فنکار کی کامیابی یا ناکامی کا انڈسٹری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے یہ فنکار کی اپنی کارکردگی پر منحصر ہے۔ رہا سوال گلوکاروں کا تو یہ سمجھ لیجیے کہ وہ اچھے ہیں اور اسی لیے لوگوں نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا ہے۔ س: آپ پاکستانی فلمساز شہزاد رفیق کی فلم پر کام کر رہے ہیں؟
ج (جاوید صدیقی): شہزاد رفیق کی ایک فلم ’تیرے لیے‘ کی کہانی اور مکالمے لکھے ہیں۔ اس فلم میں ہندوستانی اور پاکستانی دونوں فنکار ہیں۔ میں نے اس فلم میں دونوں ممالک کے تعلقات کو عجیب طریقے سے دکھانے کی کوشش کی ہے۔ یہاں کے عوام جب اپنی سرحدوں میں ہوتے ہیں تو دشمنی نفرت اور غلط فہمیوں کے ساتھ جیتے ہیں لیکن جب یہی لوگ کسی تیسرے ملک یعنی یورپ، امریکہ میں ہوتے ہیں تو یہ ایک دوسرے کے بہترین دوست بن جاتے ہیں۔ میں نے یہی دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر یہ باہر دوست بن کر رہ سکتے ہیں تو پھر اپنے اپنے ملک کے اندر کیوں نہیں؟ س: پاکستان میں فلم مغل اعظم، تاج محل اور آوارہ پن کی نمائش سنیما گھروں میں ہوئی اور اب فلم قافلہ کی دس اگست سے پاکستان کے ہر بڑے شہر میں نمائش شروع ہو گی۔کیا پاکستان میں بالی وڈ فلموں کی نمائش سے دونوں ممالک کی فلمی صنعت کو فروغ حاصل ہو گا؟ ج (جاوید صدیقی): یقینی طور پر ہندوستانی فلمی صنعت چھ حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ پانچ تو ہندوستان میں ہے لیکن ایک حصہ اوورسیز کا ہے۔ جس میں دنیا کے دیگر ممالک شامل ہیں اگر اس میں پاکستان کے پانچ سے سات کروڑ ناظرین کو شامل کر لیا جائے تو فلموں کو زیادہ زر مبادلہ ملے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایک بھی اردو یا پنجابی فلمیں نہیں بن رہی ہیں۔ میں لاہور میں واقع پاکستان کے سب سے بڑے ایورنیو سٹوڈیو گیا تھا جہاں اس وقت بارہ پشتو فلمیں بن رہی تھیں۔ فلمیں نہیں بن رہی ہیں اس لیے وہاں کے سنیما گھر شاپنگ مال میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ اگر یہاں کی فلمیں وہاں کے سنیما گھروں میں دکھائی جائیں گی تو وہاں کے برباد ہوتے سنیما گھر آباد ہو جائیں گے اور وہاں کی بیمار فلمی صنعت ایک بار پھر زندہ ہو سکتی ہے۔ س: حکومت پاکستان یا سینسر بورڈ نے فلموں کی نمائش پر آخر اتنی سخت پالیسی کیوں اپنائی ؟ ج (جاوید صدیقی): سینسر بورڈ کا تعلق حکومت سے اور حکومت موجودہ سیاست کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ اگر سیاسی ذہن ہی صاف نہیں تو آپ اور کیا توقع کر سکتے ہیں۔ ہندوستانی فلموں اور فنکاروں کو وہاں آ کر کام کرنے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی ہے۔ جب دروازے ہی بند ہوں تو کھٹکھٹانے سے کیا فائدہ لیکن اب نئی حکومت آئی ہے۔ اس کی پالیسی کافی لبرل ہے۔ اور اس کی وجہ سے اب چند فلموں کی نمائش ہوئی ہے اور امید ہے کہ اور بھی فلموں کی نمائش ہو گی اور اس طرح تعلقات بڑھتے جائیں گے۔ ( جاوید صدیقی نے فلم شطرنج کے کھلاڑی، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، چپکے چپکے چوری چوری، بازی گر اور امراؤ جان کی کہانی اور مکالمے لکھے ہیں۔) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||