سرحد، پنجاب میں مظاہرے،گرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد اور پنجاب میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کے مظاہروں کو پولیس نے روک کر متعدد قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں جمیعت علماء اسلام (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں جے یو آئی کے متعدد قائدین کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔ ادھرگوجرانوالہ میں پولیس لاٹھی چارج کے بعد پیپلز پارٹی کو جلوس نکالنے سے روک دیا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس نے سات اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سمیت دو سو کے قریب افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ پشاور میں جمعہ کی نماز کے بعد نمک منڈی میں جمیعت علماء اسلام( ف) کے درجنوں کا رکنوں نےایمر جنسی کے نفاذ کے تیرہ روز بعد خاموشی توڑتے ہوئے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس نے بعد میں شعبہ چوک پر ایک احتجاجی
مظاہرین نے ایمر جنسی کے نفاذ کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔اس موقع پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی جسکے نتیجے میں مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیاجبکہ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے شدید لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔اس موقع پر پولیس نے جلوس کی قیادت کرنے والے جیمعت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا شجاع الملک، سیکریٹری اطلاعات جلیل جان، سابق صوبائی وزیر آصف اقبال داؤد زئی سمیت دیگر تین کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ جمعہ ہی کو عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے بھی پشاور میں ایک جلوس نکالا جسکے خلاف بھی پولیس نے لاٹھی چارج کا سہارا لیتے ہوئے تین کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ مردان اور ایبٹ آباد میں بھی مظاہرے کے دوران اے این پی کے سات کارکنوں کی گرفتاری کی اطلاع ہے۔ اسکے علاوہ ضلع صوابی میں عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن) ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی نے علیحدہ علیحدہ جلوس نکالے تاہم انہوں نے بعد میں ایک جگہ پر پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کرلی۔تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کی وجہ سے اس مشترکہ جلسے میں شرکت نہیں کی۔ بونیر، دیر، کوہاٹ، لکی مروت، کرک، ہنگو اور چارسدہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی اے این پی اور جے یو آئی (ف) کے زیر اہتمام الگ الگ مظاہرے منعقد ہوئے ہیں۔
دوسری طرف ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد نجی ٹیلی ویژن چینلز کی بندش کیخلاف جمعہ کو پشاور سمیت صوبہ سرحد کے زیادہ تر علاقوں میں صحافیوں نے پریس کلبوں کے باہر احتجاجی کیمپ لگائےتاہم ایبٹ آباد یونین آف جرنلٹس نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ادھر گوجرانوالہ میں پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے اعلان کیا تھاکہ وہ بے نظیر بھٹو کے اعلان کردہ لانگ مارچ کے آخری مرحلے کے طور پر گوجرانوالہ سے جہلم کی جانب ایک جلوس لیکر جائیں گے۔ جمعہ کی سہہ پہر پولیس نے جی ٹی روڈ پر جمع ہوجانے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا اور انہیں حراست میں لیے لیا۔گرفتار ہونے والوں میں چار اراکین قومی اسمبلی چودھری منظور، ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان، قمر زمان کائرہ اور امتیاز صفدر وڑائچ شامل ہیں۔ پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپیں کئی گھنٹے جاری رہیں۔ پولیس نے جی ٹی روڈ پر زبردستی دکانیں بند کرائیں اور کئی دکانداروں کو بھی مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ پنجاب پولیس نے اس سے پہلے لانگ مارچ کے پہلے دومرحلوں یعنی لاہور سے اوکاڑہ اور پھر فیصل آباد سے گوجرانوالہ کو بھی اسی طرح گرفتاریوں سے ناکام بنانےکی کوشش کی تھی۔ لاہور سے بے نظیر بھٹو کو بھی لانگ مارچ کی قیادت نہیں کرنے دی گئی تھی اور انہیں نظر بند کردیا گیا تھا۔ بے نظیر نے اپنی رہائی کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ لانگ مارچ دوبارہ کرنے کےبارے میں وہ حتمی فیصلہ اپنی پارٹی کے ساتھیوں کی مشاورت سے کریں گی۔ لاہور پولیس کے ایک افسر نے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سے اب تک پیپلز پارٹی کے صرف چارسو کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے تاہم پیپلز پارٹی کے ترجمان کا کہناہے کہ گرفتار ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ادھر ایمرجنسی کے خلاف محتدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام بھی ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا۔گوجرانوالہ کے شیرنوالہ گیٹ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کو پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد منتشرکر دیا۔مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیاجس سے ایک اہلکار زخمی اور پولیس وین کا نقصان پہنچا۔پولیس نے ایم ایم کے ضلعی صدر سمیت درجن بھر کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ |
اسی بارے میں مجلسِ عمل کی پی پی پی کو دعوت08 November, 2007 | پاکستان عمران خان جیل بھیج دیے گئے، ایمرجنسی مخالف مظاہرے جاری14 November, 2007 | پاکستان محمد میاں سومرو پاکستان کے نگراں وزیر اعظم15 November, 2007 | پاکستان سندھ میں احتجاجی مظاہرے، گرفتاریاں14 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||