مشرف سے ملاقات نہیں:نواز شریف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کے دورۂ سعودی عرب کے دوران دونوں رہنماؤں کی ملاقات کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں اور ایسی کوئی بھی ملاقات بے نیتجہ ہی ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف منگل کو دو روزہ دورے پر سعودی عرب جا رہے ہیں جہاں وہ سعودی شاہ عبداللہ اور دیگر اعلی حکام سے مختلف امور پر گفتگو کریں گے تاہم جنرل مشرف کے دورۂ سعودی عرب کے حوالے سے یہ قیاس آرائیاں بھی گردش میں ہیں کہ وہ اس دورے کے دوران وہ سابق جلاوطن پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ریاض میں قیام کے دوران صدر مشرف اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی ملاقات کا طے شدہ پروگرام میں کوئی ذکر نہیں۔ تاہم خیال ہے کہ سعودی شاہ کے ساتھ مذاکرات میں نواز شریف کا معاملہ بھی زیر غور آسکتا ہے۔ نواز شریف کے قریبی ساتھی بھی اب تک صدر اور نواز شریف کے درمیان کسی ملاقات کے امکان کو رد کر رہے ہیں۔ خود نواز شریف نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں اس قسم کی خبریں سن رہا ہوں کہ جنرل مشرف سعودی عرب آ رہے ہیں تاہم میں جدہ میں ہوں اور وہ ریاض جا رہے ہیں اور میری اطلاعات کے مطابق وہ جدہ نہیں آ رہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’مشرف صاحب کی جانب سے ملاقات کے لیے حال میں کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے البتہ پچھلے دو ماہ میں انہوں نے دو تین مرتبہ ملاقات کے لیے رابطہ کیا لیکن میں نے معذرت کر لی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’جنرل مشرف سے میری ملاقات کا کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا اور اس کا فائدہ بھی کچھ نہیں کیونکہ میرا مطالبہ ہے کہ ایک جمہوری پاکستان ہونا چاہیے اور آمریت اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے لیکن جنرل مشرف کو اس مطالبے سے سخت اختلاف ہے‘۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ’ہمارا مطالبہ ہے ججوں کو بحال کیا جائے اور ایمرجنسی ملک سے ختم ہو جو جنرل مشرف کے بس کی بات نہیں لہذٰا بات کس چیز پر ہوگی۔میں ذاتی مفادات پر ان سے بات نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی میں ان سے وزیراعظم کا عہدہ مانگ رہا ہوں‘۔ نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ’مشرف نے میرے مطالبے ماننے ہوتے تو یہ کام نہ کرتے جو تین نومبر کو کیے‘۔ اس سوال پر کہ اب جبکہ صدر مشرف امریکہ کی بھی نہیں سن رہے تو کیا حزبِ اختلاف کی جماعتیں احتجاج سے مشرف کو مجبور کر سکیں گی کہ وہ ان کے مطالبات مان لیں، نواز شریف نے کہا کہ اس سے قطع نظر کہ مشرف صاحب کسی باہر کے ملک کی بات سنتے ہیں یا نہیں کم از کم انہیں پاکستانی عوام کی آواز پر کان دھرنے چاہیئیں‘۔ مبصرین کے مطابق سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت امریکہ کی طرز پر اب جنرل مشرف اور نواز شریف کے درمیان مفاہمت کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ | اسی بارے میں بینظیر کے بیان کا خیرمقدم14 November, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی میں انتخابات مشکل‘12 November, 2007 | پاکستان ’نگران حکومت کا حلف غداری‘16 November, 2007 | پاکستان بینظیر، نیگروپونٹے کی بات چیت16 November, 2007 | پاکستان نگراں حکومت کا سب سے بڑا چیلنج17 November, 2007 | پاکستان مشرف کسی صورت قبول نہیں: بینظیر18 November, 2007 | پاکستان مشرف اہلیت: سپریم کورٹ نے درخواستیں خارج کر دیں19 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||