BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 November, 2007, 21:32 GMT 02:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نگراں حکومت کا سب سے بڑا چیلنج

 نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو
وزیر اطلاعات و نشریات نثار اے میمن کو میڈیا کے مسائل حل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے
نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو نے اعتراف کیا ہے کہ نگران کابینہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج تمام فریقین کے ساتھ مل کر صاف، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

یہ بات انہوں نے سنیچر کو نگران کابینہ کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔


کابینہ نے وفاقی وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور سید افضل حیدر کو ہدایت کی کہ ان سیاسی کارکنوں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں اور طلباء کی رہائی کے لیے صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر جائزہ لیں، جنہیں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بقول حکومت حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

کابینہ نے وزیر اطلاعات و نشریات نثار اے میمن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ میڈیا کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کریں۔

سیکرٹری داخلہ اور چیف سیکرٹری سرحد نے کابینہ کو ملک میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نثار اے میمن نے بتایا کہ کابینہ نے بعض غیر ملکی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حوالہ سے بلاجواز بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی اقدار کے خلاف اور پاکستان کے زمینی حقائق کے ادراک سے عاری قرار دیا۔

جمعہ کو حلف اٹھانے والی نگران وفاقی کابینہ میں کم از کم چار ایسے وزراء ہیں جو اس سے پہلے بھی جنرل مشرف کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو وزیراعظم نواز شریف کو فارغ کرنے کے بعد جنرل مشرف نے جو چھبیس رکنی کابینہ تشکیل دی تھی ان میں یہ چار بھی شامل تھے۔ ان میں انعام الحق، عباس سرفراز خان، نثار اے میمن اور شاہدہ جمیل شامل ہیں۔

سابق سیکرٹری خارجہ انعام الحق کو انیس سو ننانوے میں وزیر مملکت برائے انورِ خارجہ مقرر کیا گیا تھا تاہم اب انہیں مکمل وزیرِ خارجہ بنایا گیا ہے۔

صوبہ سرحد کے سابق وزیراعلیٰ میر افضل خان کے بھتیجے عباس سرفراز خان کو ایک بار پھر کشمیر اور شمالی علاقاجات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

وہ ایوان بالا یعنی سینٹ کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔ انتخابی سیاست میں انہوں نے قدم پہلی وزارت کے بعد رکھا تھا لیکن انہیں دو ہزار دو کے عام انتخابات میں کامیابی نہیں مل سکی تھی۔

نثار میمن کو ایک اطلاعات و نشریات کی دوسری بار اس وقت ملی ہے جب کہ میڈیا ایک مرتبہ پھر تقریباً اسی موڑ پر ہے جہاں آٹھ سال پہلے کھڑا تھا۔

ڈاکٹر شاہدہ جمیل کو ماضی میں وزارت قانون کی جگہ اس مرتبہ ترقی نسواں ، سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کے قلمدان دیے گئے ہیں۔ وزارت قانون کا قلمدان سید افضل حیدر کو سونپا گیا ہے۔

بےنظیر ابھی نظر بند ہیںبےنظیر کے مضامین
بیرون ملک قارئین کے لیے مہم
بھٹو، مشرف’گریجویٹ‘اسمبلی
قومی اسمبلی کی مدت ختم،رات بارہ بجے تحلیل
نجی چینلدو کو اجازت
دو مقامی نجی چیلنز ’آج‘ اور ’ڈان نیوز‘ کو اجازت
بینکر سے وزیر اعظم
مختصر سی سیاسی زندگی مگر سبک رفتار
چودہواں دن
نگراں حکومت، بےنظیر کی نظربندی ختم
ارباب غلام رحیمسندھ اسمبلی کے5سال
اسمبلی نے کئی اچھے برے ریکارڈ قائم کیے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد