سندھ اسمبلی کے اچھے برے پانچ سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کی بارہویں صوبائی اسمبلی نے اپنی معیاد مکمل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا اور اس دوران دو وزیراعلیٰ اور کئی وزرا تبدیل ہوئے اور مخلوط حکومت نے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ سندھ کی مخلوط حکومت گری تو نہیں مگر پانچوں سال کانپتی ضرور رہی۔ اراکین کی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری رہا جن میں اکثریت پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ وفاداریاں تبدیل کرنے والوں میں تین خواتین بھی شامل تھیں اور آخری رکن عبدالرحمان راجپوت تھے جنہوں نے صدارتی انتخاب میں صدر مشرف کی حمایت کا نعرہ لگا کر ایم ایم اے سے علیحدگی اختیار کی۔ اپوزیشن رہنما مخدوم جمیل الزمان نے کہا کہ حکومت نے باقاعدہ ان ممبران پر اس قدر زور ڈالا کہ ان پر اقدام قتل تک کے مقدمات دائر کیے گئے تاکہ وفاداریاں تبدیل کی جاسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ارباب غلام رحیم وزیراعلیٰٰ بنے تو انہوں نے اپنا ایجنڈہ ہی یہ رکھا تھا کہ مخالفین کیڑے مکوڑے ہیں، ان کو کچلو اور ان کو مارو۔ صوبائی اسمبلی کے قیام کے بعد مہر سردار علی محمد کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا، جن کے بارے میں یہ تاثر عام تھا کہ اگر انہوں نے کوئی بڑا کام نہیں کیا تو کسی کو تکلیف بھی نہیں پہنچائی۔ مگر ان کو ہٹانے کے بعد ارباب غلام رحیم کے آتے ہی سیاسی انتقامی کارروائیوں اور ذاتی حملوں کا طوفان آگیا ۔ایک رکن اسمبلی زاہد بھرگڑی کو بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔ موجودہ حکومت میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا، جس میں پیپلز پارٹی کو دیگر اضلاع کے ساتھ لاڑکانہ میں بھی دیوار سے لگادیا گیا۔ سینئر وزراء سردار احمد ارباب غلام رحیم کی حمایت میں کہتے ہیں کہ ان کی شخصیت متنازعہ ہوسکتی ہے لیکن وہ دین دار آدمی ہیں تاہم کچھ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے بارے میں ان کے ذاتی نظریات ہیں ۔ ان وزراء کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں انہوں نے جتنا سیاسی ضبط دیکھا ہے اس سے پہلے کبھی نظر نہیں آیا، اپوزیشن سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کتنے لوگوں کو جیل بھیجا گیا اور کتنے لوگوں کو مارا گیا۔
ایک سو اڑسٹھ اراکین پر مشتمل صوبائی اسمبلی کے بیالس اجلاس ہوئے، جن میں باون قرار دادیں منظور کی گئیں۔ سندھ کے دو اہم مسائل یعنی پانی اور وسائل کی تقسیم صوبائی سیاست کے محرکات رہے ہیں۔ دونوں کا کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ ان پانچ برسوں میں اپوزیشن اور حکومت نے دونوں مسائل پر مشترکہ قراردادیں منظور کیں جبکہ باقی تمام ہی مسائل پر رائے تقسیم رہی۔ تیسرا اہم مسئلہ بیروزگاری کا رہا، نئی ملازمتوں پر پابندی رہی اور جب یہ پابندی نرم بھی ہوئی تو اس پر عمل سیاسی بنیادوں پر ہی ہوا جو آخری وقت تک جاری رہا۔ سینیئر وزیر سردار احمد کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے۔ ان کے مطابق اس حکومت نے سب سے زیادہ سوشل سیکٹر پر توجہ دی ہے اور ان پانچ برسوں میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے سب سے زیادہ رقم رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے ہر سال پانچ ارب سے سات ارب روپے کا اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ ان کی اس رائے سے اپوزیشن متفق نہیں۔ اپوزیشین رہنما مخدوم جمیل کا کہنا ہے کہ عوام کی بھلائی کا کوئی کام نہیں ہوا اور پانچوں سال نشیب وفراز میں گزرے ہیں جن میں عوام نے سکھ سے ایک مہینہ بھی نہیں گزارا۔ قانون سازی بھی صرف وہ ہی کی گئی ہے جس میں حکومت دلچسپی رکھتی تھی۔ ارباب غلام رحیم ایک متنازعہ وزیر اعلیٰ رہے جن سے کبھی ان کی اپنی جماعت مسلم لیگ ق ناراضگی کا اظہار کرتی تو کبھی فنکشنل مسلم لیگ مختلف شکوک و شبہات کی بنا پر ان پر تنقید کرتے رہی، کبھی متحدہ قومی موومنٹ تحفظات کا اظہار کرتی اور ایک مرتبہ معاملات حکومت سے علیحدگی تک جا پہنچے تھے۔ مگر ارباب غلام رحیم صدر مشرف کے فرمانبردار رہے اور اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہے ۔ | اسی بارے میں وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف لے لیا 09 June, 2004 | پاکستان سندھ کابینہ تحلیل، اسمبلی اجلاس ہوگا08 June, 2004 | پاکستان سندھ اور صدر مشرف کے ’موثر اقدامات‘08 June, 2004 | پاکستان ’سندھ میں حکومت ہمارا حق‘08 June, 2004 | پاکستان وزیرِاعلیٰ سندھ نے استعفیٰ دے دیا07 June, 2004 | پاکستان ’سندھ میں تبدیلی جمہوری ہو گی‘02 June, 2004 | پاکستان سندھ: وسیع تر مخلوط حکومت 03 June, 2004 | پاکستان سندھ اسمبلی میں گرما گرمی18 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||