وزیرِاعلیٰ سندھ نے استعفیٰ دے دیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ علی محمد مہر نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب صوبہ کے دارالحکومت کراچی میں تشدد کے واقعات کی وجہ سے صورتحال خراب ہے۔ اگرچہ سندھ کے گورنر نے کہا ہے کہ مسٹر مہر نے استعفٰی کا فیصلہ ذاتی وجوہ کی بنا پر کیا ہے تاہم سندھ کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مرکزی حکومت نے ان سے کہا تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ اگرچہ مسٹر مہر نے وزارت اعلیٰ چھوڑ دی ہے تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ اس سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں کیسے بہتری آئے گی۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے پرتشدد واقعات پر صدر جنرل مشرف کی برہمی سے لگ رہا تھا کہ صوبائی حکومت میں اہم تبدیلی آنے والی ہے۔ صدر نے ایک سنّی عالم کے قتل اور پھر ایک شیعہ مسجد میں ہونے والے دھماکے میں کئی افراد کی ہلاکت کے بعد کہا تھا کہ وہ شہر میں حالات بہتر بنانے کے لئے سخت ترین اقدامات کریں گے۔ وزیر اعلیٰ کے استعفٰی سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض اعلیٰ افسران کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ علی محمد مہر کا تعلق حکمراں مسلم لیگ سے ہے تاہم ان کے بارے میں عام رائے تھی کہ وہ ایک کمزور وزیراعلیٰ ہیں۔ سندھ میں مسلم لیگ نے متحدہ قومی موومنٹ کی حمایت سے مخلوط بنائی تھی اور گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔ علی محمد مہر کے استعفیٰ کے بعد اس عہدے کے لئے بہت سے ارکانِ صوبائی اسمبلی کوشش کریں گے۔ اس سلسلے میں ارباب غلام رحیم کے وزیر اعلیٰ بننے کے سب سے روشن امکانات بتائے جا رہے ہیں۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک نئے وزیر اعلیٰ تشدد کے واقعات کے خاتمے کے لیے کوئی واضح منصوبہ پیش نہیں کرتے یہ تبدیلی بے معنی ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||