کراچی اور کوئٹہ میں ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی چھ مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد متحدہ مجلس عمل کے مطالبہ پر کراچی ، حیدرآباد اور کوئٹہ میں ہڑتال کی گئی جبکہ ملک کے دوسرے علاقوں میں معمول کے مطابق بازار کھلے رہے اور ٹرانسپورٹ چلتی رہی۔ اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں بھی کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق چلتا رہا۔ اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے ایک احتجاجی جلوس کی قیادت کی۔ یہ جلوس جمعہ کی نماز کے بعد لال مسجد سے شروع ہوا جو آبپارہ چوک پرپہنچ کر ختم ہوگیا۔ جلوس کے شرکاء نے امریکہ اور صدر مشرف کی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ پنجاب اور سرحد کے صوبائی دارالحکمتوں میں معمول کے مطابق کاروبار چلتا رہا۔ لاہور اور پشاور میں حسبِ معمول بازار کھلے رہے اور سڑکیں بھی مصروف رہیں۔ کراچی سے ہمارے نمائندے کے مطابق شہر کے بیشتر علاقوں میں کاروبارِ زندگی بند رہا۔ سڑکوں پر ٹریفک بہت کم تھی اور نجی اور سرکاری دفاتر میں بھی لوگوں کی تعداد معمول سے کم رہی۔ شہر کے زیادہ تر بازار اور تجارتی مراکز بند رہے۔ شہر کے کئی علاقوں سے پتھراؤ اور سڑکوں پر ٹائر جلانے کے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں۔ سہراب گوٹھ کے علاقے میں صبح ہی سے گڑ بڑ تھی۔ بعض مشتعل افراد نے پتھراؤ کیا اور سڑکوں پر ٹائر جلائے۔ جمعہ کی نماز کے بعد بنارس چوک کے علاقے میں کچھ افراد نے تھانے پر پتھراؤ کیا۔ تاہم پولیس نے فائرنگ کر کے لوگوں کو منتشر کر دیا گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں کچھ افراد زخمی ہوئے ہیں اور مظاہرین کے پتھراؤ سے چار پولیس والے بھی زخمی ہوئے ہیں۔ شہر کی مختلف مساجد میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے ہوئے جہاں علما نے مظاہرین سے خطاب کیا اور مفتی نظام الدین شامزئی کے قتل کی مذمت کی اور شہر میں ہونے والے تشدد کے واقعات کے حوالے سے حکومت پر تنقید کی۔ کراچی میں مفتی نظام الدین شامزئی کے قتل اور امام بارگاہ علی رضا میں بم دھماکے سے پچیس افراد کی ہلاکت پر احتجاج کے طور پر مجلس عمل نے ہڑتال کا مطالبہ کیا تھا۔ اس ماہ کراچی میں ضمنی انتخابات میں بھی تشدد کے واقعات میں بارہ افراد ہلاک ہوۓ تھے جن میں زیادہ تر کا تعلق مجلس عمل سے تھا۔ پنجاب میں لاہور کے علاوہ تمام قصبوں اور شہروں میں جمعہ کے روز بازار بند ہوتے ہیں اور اتوار کو کھلے رہتے ہیں۔ آج کراچی میں بازار مکمل طور پر بند رہے اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر نہیں آئی بلکہ نجی ٹرانسپورٹ بھی معمول سے کم تھی۔ حیدرآباد (سندھ) میں بازار بند رہے اور سندھی آبادی کے علاقوں میں جہاں عام طور سے ہڑتال نہیں ہوتی دکانیں بند رہیں۔ کوئٹہ میں جناح روڈ جو جمعہ کے روز کھلی رہتی ہے وہاں آج دکانیں بند تھیں تاہم دوسرے بازار جو جمعہ کے روز بند ہوتے ہیں جیسے لیاقت بازار اور ہاشمی مارکیٹ وہ آج معمول کے مطابق بند رہے۔ متحدہ مجلس عمل صوبہ سندھ کی انتظامیہ کے شدید مخلاف ہے اور حکومت میں شریک حریف جماعت ایم کیو ایم (متحدہ قومی موومینٹ) پر تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتی ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی ایک رپورٹ کے مطابق شہر میں ایک دن کی ہڑتال سے تقریبا پونے دو ارب روپے کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||