’اللہ نے چاہا تو جمالی رہیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ جب تک اللہ کو منظور ہوگا میر ظفراللہ جمالی وزیراعظم رہیں گے جبکہ صوبہ سندھ میں ان کے بقول گورنر راج نافذ نہیں ہوگا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں انتظامی تبدیلیوں کا آغاز ہوچکا ہے اور باقی جو کچھ ہونا ہوگا وہ آٹھ دس دن میں ہوجائے گا۔ تاہم انہوں نے سندھ میں سیاسی تبدیلی آنے کی تردید نہیں کی۔ بدھ کے روز وزیراعظم جمالی کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کابینہ میں صوبہ سندھ کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا اور حالیہ بم دھماکوں پر تشویش ظاہر کی گئی ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ چودھری شجاعت کے درمیان اختلافات کی خبریں درست ہیں ، اس پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہلکی پھلکی موسیقی چلتی رہتی ہے لیکن صدر جنرل مشرف کا کیمپ آفس سب کے لئے کھلا ہے کیونکہ وہ سب جنرل کے حمایتی ہیں۔ سندھ میں فوج کو اہم کردار دینے کی بھی وفاقی وزیر نے تردید کی اور ان کہنا تھا کہ سندھ کے گورنر عشرت العباد کے خلاف اس وقت کوئی مقدمہ درج نہیں ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے حج پالیسی کی منظوری دی ہے جس کے تحت ایک لاکھ چالیس ہزار پاکستانی امسال حج کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئندہ حج کے موقعہ پر پاکستان کی سرکاری ایئر لائن پی آئی اے عازمین حج سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے سبب گزشتہ سال کی نسبت بیس فیصد زیادہ کرائے وصول کرےگی ۔ قبل ازیں انہوں نے کابینہ میں کیےگئے فیصلوں کے متعلق تحریری بیان پڑھا جس کے مطابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے غیر ملکیوں کا انخلا پاکستان کے مفاد میں ہے نہ کہ کسی کو خوش کرنے کے لئے ۔ وزیراعظم نے فاٹا میں ’ ڈائلاگ اور ڈویلپمینٹ، یعنی مزاکرات اور ترقی کی پالیسی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے وزیر خزانہ کو ہدایت دی کہ صوبہ سرحد کے گورنر کی مشاورت سے قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لئے رقم فراہم کی جائے جبکہ انہوں نے وزارت پانی و بجلی کو بھی ان علاقوں میں پینے کے پانی اور بجلی کی فراہمی کی ہدایت کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کابینہ نے جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کے ترجیعی تجارت کے معاہدے SAPTA کی بھی رسمی منظوری دی جس پر بھارت کی سابق حکومت نے اس پر دستخط کیے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||