جمالی کو بھارت سے امید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے کہا ہے کہ وہ پرامید ہیں کے بھارت’ آسیان ریجنل فورم‘ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت نہیں کرےگا اور اس ضمن میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں ڈالے گا۔ منگل کے روز انہوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کو یقین ہے اور وہ پراعتماد ہیں کہ بھارت مخالفت نہیں کرے گا‘۔ دس ممالک کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’ایسوسی ایشن آف سائوتھ ایسٹ ایشیا نیشنز’ جسے آسیان بھی کہا جاتا ہے، اس کے علاقائی فورم ’اے آر ایف‘ میں پاکستان کی شمولیت کی بھارت ماضی مییں مخالفت کرتا رہا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم نے بدعنوانی کے خاتمے کے متعلق اقوام متحدہ کے کنوینشن کے بارے میں تین روزہ عالمی کانفرنس کا افتتاح کیا۔ وزیر اعظم نے کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے اقوم متحدہ کا معاہدہ یا کنوینشن بہت بڑا قدم ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کو لوٹی ہوئی دولت واپس ملنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ ترقی پذیر ممالک سے بڑے پیمانے پر بدعنوانی سے حاصل کی گئی دولت ترقی یافتہ ممالک میں جمع کرائی گئی ہے۔ انہوں نےمزید کہا کہ کرپشن یا بدعنوانی کی لعنت ختم کرنا ضروری ہے تا کہ وسائل غربت کے خاتمے اور اقتصادی ترقی پر صرف کئے جا سکیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان بھی بدعنوانی سے متعلق مسائل کا شکار ہے۔ انہوں نے مندوبین پر زور دیا کہ وہ کرپشن کے خاتمے کے متعلق سفارشات مرتب کریں اور یہ بھی طے کریں کہ بدعنوانی میں ملوث افراد کو ثالثی کی سہولت دینا غلط ہے یا درست؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر کسی کو ملازمت وغیرہ دینا بدعنوانی نہیں، کیونکہ اس طرح پوری دنیا میں ہوتا ہے چاہے امریکہ ہو یا برطانیہ، وہاں بھی ایسے ہوتا ہے لیکن اس کی حد ہونی چاہیے، اگر حد سے معاملہ بڑھے گا تو پھر بدعنوانی کے زمرے میں بات آئے گی۔
وزیر اعظم جمالی نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب وہاں نئے صدر آتے ہیں تو باون ہزار افراد بھرتی کرتے ہیں جب صدر جاتا ہے تو سارے لوگ بھی جاتے ہیں۔ کانفرنس میں اقوام متحدہ کے علاوہ مختلف ممالک کے نمائندے بھی شریک ہیں، کانفرنس کا مقصد کرپشن کے خاتمے کے لئے عالمی تعاون حاصل کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس کنوینشن پر گزشتہ سال دستخط کرنے والے ابتدائی پندرہ ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے تاہم اس کی توثیق پاکستان نے ابھی تک نہیں کی۔ اقوام متحدہ کے نمائندے دمتری ولاسس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کنوینشن پر دستخط تو بہت سارے ممالک نے کئے ہیں لیکن توثیق صرف سات ممالک نے کی ہے جن میں کینیا، سری لنکا، الجیریا، نائیجیریا، کیمرون اور میکسیکو وغیرہ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیس ممالک کی توثیق کے بعد جس کے بعد یہ کنوینشن نافذ العمل ہوجائے گا۔ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے جمعہ کو صدر پرویز مشرف خطاب کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||