| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسائل کا حل ناممکن نہیں: جمالی
پاکستان کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کا حل قربانی سے ممکن ہے۔ بدھ کے روز بی بی سی کے نامہ نگار سنجیوشری واستو کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کے حل میں دشواریاں موجود ہیں پھر بھی انہیں یقین ہے کہ ان مسائل کا حل قربانی دیکر ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فروری میں بات چیت شروع ہوگی اور دونوں طرف کے حکام مل بیٹھیں گے تو حل کی جانب سفر شروع ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ذاتی طور پر کوئی دقت نظر نہیں آتی، بس ذرا لچک دکھانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حالات کا تقاضا ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت اپنی عوام کی فلاح و بہبود کی فکر کرے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ دونوں ملکوں کے سربراہوں کی ملاقات سے پہلے ملاقات کے بارے میں ہی غیر یقینی موجود تھی پھر اچانک بات اتنی آگے کیسے چلی گئی، جمالی نے کہا کہ اس بارے میں دونوں ملکوں کے مابین تو رابطہ اسی وقت سے شروع ہوگیا تھا جب بھارتی وزیراعظم واجپئی نے گزشتہ سال اپریل میں سری نگر میں جلسۂ عام سے خطاب میں پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی بات چیت مرحلہ وار ہوتی ہے اچانک کچھ نہیں ہوتا۔ جنرل مشرف پر قاتلانہ حملے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ جس طرح کے اقدامات انہوں نے کیے ہیں ان کی روشنی میں یہ غیر متوقع نہیں تھے۔ جمالی نے کہا کہ جنرل مشرف نے ملک کی بہتری کے لئے کام کیا ہے اور ایسے عناصر ہر جگہ پائے جاتے ہیں جو ان کاموں کی مخالفت کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||