جمالی ’ہارڈ ٹاک پاکستان‘ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی بدھ کی شام بی بی سی ورلڈ کے پروگرام ’ہارڈ ٹاک پاکستان‘ میں مختلف سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔ پہلے سے ریکارڈشدہ یہ پروگرام پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے شب اور گرینچ وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے نشر کیا جائے گا۔ جمالی کا کہنا تھا کہ ہر دہشت گرد بڑا خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے پوری طرح سے تیار رہنا چاہئے۔ انہوں نے القاعدہ کو خبردار کیا کہ وہ پاکستان سے دور رہے۔ انہوں نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ وانا میں ہونے والی کارروائی امریکی ایما پر کی گئی ہے، اور یہ کہ جنرل مشرف کے مقابلے میں وہ صاحب اختیار نہیں۔ جمالی کا کہنا تھا کہ صدر مشرف پر دو حملے ہوئے اور تحقیقات نے ایک خاص رخ اختیار کیا جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا: ’یہ میرا ملک ہے، یہ میرا وطن ہے، میں جانتا ہوں کہ اس کے لئے کیا بہتر ہے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جنوبی وزیرستان میں کی جانے والی فوجی کارروائی کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے جس کی طرف صدر مشرف نے اشارہ کیا تھا، تو جمالی نے کہا کہ ہر دہشت گرد بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے اس امکان کو یکسر مسترد کیا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں روپوش ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||