BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 November, 2007, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر، نواز نامزدگی کی تیاری

ابھی تک بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے
پیپلز پارٹی کی چئر پرسن بینظیر بھٹو اور حکمران مسلم لیگ کے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے لیے اندرون سندھ سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے گئے ہیں۔

حکمران مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دینا شروع کردیا ہے۔ البتہ مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف سمیت اپوزیشن کی بعض جماعتیں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپائی ہیں کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گی یا نہیں، اور اگر انتخاب میں حصہ لیا تو کس کس جماعت سے انتخابی اتحاد ہوگا کس سے
’سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ‘ کی جائے گی؟

امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے سب سے نازک پوزیشن بظاہر مسلم لیگ نواز کی ہے۔ یہ پارٹی اپنے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس تک نہیں بلا سکی حالانکہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں صرف چار روز رہے گئے ہیں۔

لیکن لاہور سے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف، حمزہ شہباز اور کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی بھی حاصل کیے گئے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے ترجمان احسن اقبال نے الیکشن شیڈول کو حکومتی دھاندلی قرار دیا ہے۔

نواز اور شہباز شریف کے لیے لاہور سے کاغذات نامزدگی حاصل کیےگیے ہیں

احسن اقبال نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو تین ہفتوں کےدوران پاکستان میں ان کی مرکزی قیادت سمیت پانچ ہزار کارکن اور رہنما حراست میں لیے گئے۔ یہی وہ دن تھے جب ان کےپارلیمانی بورڈ کے اجلاس ہونے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے جماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل ظفر اقبال جھگڑا اورمسلم لیگ صوبہ سرحد کے صدر پیر صابر شاہ سمیت بڑی تعداد میں مقامی رہنما اور کارکن حراست میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں انتخابات کو کسی صورت آزادنہ اور منصفانہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مسلم لیگ نواز کے مقابلے میں اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلزپارٹی نے بیشتر سیٹوں پر امیدواروں کا فیصلہ لندن میں کرلیا تھا۔

پیپلز پارٹی لاہور کے سیکرٹری اطلاعات زکریا بٹ نے بتایا کہ لاہور کی قومی اسمبلی کے چھ سات حلقوں سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع کی بچی ہوئی نشستوں پر امیدواروں کا حتمی فیصلہ کرنے کے لیے بینظیر بھٹو نے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس بلا لیاہے۔ لاہور سے اعتزاز احسن کے لیےبھی کاغذات نامزدگی حاصل کیے گئے ہیں۔

بینظیر لاڑکانہ سے الیکشن لڑنے کی تیاری میں ہیں

مسلم لیگ نواز کے ترجمان احسن اقبال سے پوچھا گیا کہ آخر وہ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں پیچھے کیوں رہ گئے تو احسن اقبال نے کہا کہ سترہ اٹھارہ دنوں کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکن مختصر مدت کے لیے پکڑے تو گئے لیکن ان کے تقریباً تمام مرکزی اور صوبائی لیڈر آزاد تھے اور وہ کسی نہ کسی حد تک انتخابی تیاریوں کو جاری رکھ سکے۔

اندرون سندھ سے نامہ نگار علی حسن نے بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے کاغذات نامزدگی کشمور سے حاصل کیے گئے ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے نامزدگی فارم لاڑکانہ سے لیے گئے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کی ایک بڑی جماعت جے یوآئی نے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں اپنے طور پر امیدواروں کے نام فائنل کرلیے ہیں لیکن ابھی انہیں یہ علم نہیں کہ جماعت اسلامی اور ایم ایم اے کی دیگر جماعتوں کے ساتھ اس کی سیٹ ایڈجسمنٹ کس طرح ہوگی۔

صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی نے انتخابی بورڈ تشکیل دیدیا ہے اور امیدواروں کو ٹکٹ کے لیے فوری طور پر درخواستیں جمع کرانے کا کہا ہے۔

ادھر بلوچستان میں حکمران مسلم لیگ، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی گروپ سے انتخابی اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمٹ کی منتظر ہے جبکہ قوم پرست حلقوں کا دباؤ ہے کہ قوم پرست سیاسی جماعتیں اپنے اپنے اختلاف ختم کرکے اتحاد بنائیں۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچ قوم پرستوں کی خواہش ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی،نیشنل پارٹی عبدالحئی گروپ اور نواب اکبر بگٹی مرحوم کی جمہوری وطن پارٹی ایک پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں جبکہ پختون جماعتوں کے ہمدرد پختونخواہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس دیکھنا چاہتے ہیں جس میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہوں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے اب تک کی تیاریوں سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ حکمران اتحادی جماعتوں کے سوا جمیعت علمائے اسلام اور پیپلز پارٹی انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ تاہم مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کو پرسوں بلائے جانے والے اے پی ڈی ایم کے اجلاس کے فیصلوں کا انتظار ہے۔

اس اجلاس میں اگر بائیکاٹ کا فیصلہ نہ ہوسکا تو پھر کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں صرف دودن رہ جائیں گے اور ان جماعتوں کو اسی قلیل عرصے میں امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دینے سے لیکر انتخابی اتحاد بنانے اور سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹنمٹ کے کڑے مراحل سے گزرنا ہوگا۔

جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچآزاد کمیشن ضروری
’الیکشن کمیشن منصفانہ ہونا چاہیے‘
بینظیرلاڑکانہ کا دورہ
گھر واپسی یا پھر انتخابی مہم کا آغاز
قاضی حسین احمدالیکشن لڑیں یا نہ؟
بائیکاٹ کے حوالے سے سیاسی مشورے
جنرل مشرفانتخاب چھ اکتوبر کو
صدر جنرل مشرف اخبارات پر چھائے رہے
مولانا فضل الرحمٰن اپوزیشن مخمصے میں
انتخابات بائیکاٹ، اپوزیشن کی سوچ بچار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد