ایمرجنسی ختم کریں: سلیم سیف اللہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ہنگامی حالت کے نفاذ کی مخالفت اب صرف سیاسی جماعتوں یا وکلاء تک محدود نہیں رہی بلکہ خود مسلم لیگ (ق) کے چند اہم رہنما بھی اسے فوراً اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سابق حکمراں مسلم لیگ کے سیکٹری جنرل مشاہد حسین کے بعد سابق وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ سلیم سیف اللہ خان نے بھی عام انتخابات سے قبل ایمرجنسی اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ سلیم سیف اللہ خان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کے شیڈول کے اعلان سے قبل ہنگامی حالت کا خاتمہ کیا جائے اور میڈیا پر سے پابندیاں ہٹائی جائیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے برابری کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لینے کے لیے حالات سازگار بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے ملک میں مثالی ترقیاتی کام کیے ہیں لہذا انتخابات جیتنے کے لیے انہیں ہنگامی حالت کی ضرورت نہیں۔ صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے سلیم سیف اللہ سینٹ کے رکن بھی ہیں اور اس سے قبل وہ محمد خان جونیجو کی کابینہ میں بھی وزیر رہ چکے ہیں۔ اس سے قبل مسلم لیگ کے سیکٹری جنرل مشاہد حسین نے بھی ہنگامی حالت کی مخالفت کی تھی۔ ان بیانات کو موجودہ ملکی حالات میں کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’مشرف آخری کارڈ کھیل چکے‘02 June, 2007 | پاکستان مشرف حکومت کی ’لوٹ سیل‘20 April, 2007 | پاکستان قرارداد: مشرف وردی سمیت صدر 23 March, 2006 | پاکستان سیاسی وفاداریاں بدل رہی ہیں08 August, 2005 | پاکستان پیر پگاڑا کے ساتھ ہوں، میاں اظہر22 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||