مشرف سعودی دورے سے واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف سعودی عرب کے دورے کے بعد واپس اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین ملک میں کشیدہ سیاسی صورتحال کے باوجود جنرل مشرف کے اس دورے پر جانے کو کافی اہم قرار دے رہے ہیں۔ واپسی کے فوراً بعد جنرل مشرف نے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم سے ملاقات کی ہے اور خیال ہے کہ ملاقات میں سپریم کورٹ میں جاری مقدمات میں پیش رفت اور متوقع نتائج پر بات ہوئی ہے۔ تاہم سرکاری طور پر اس ملاقات کے بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے دورے کے دوران عمرہ ادا کرنے کے علاوہ سعودی فرماں روا عبداللہ بن عبدالعزیز سے شاہی محل میں خصوصی ملاقات کی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ معاملات اور علاقائی اور بین الاقوامی امور پر غور کیا۔ شاہ عبداللہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے کیونکہ خطہ کی سلامتی میں اس کا اہم کردار ہے اور اس کی ترقی و خوشحالی سعودی عرب کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ صدر مشرف نے شاہ عبداللہ کو ان حالات کے بارے میں آگاہ کیا جو ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا باعث بنے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال، بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور شدت پسندی، عدلیہ اور ریاست کے دیگر ستونوں کے درمیان ٹکراؤ کے باعث ان کے پاس یہ انتہائی مشکل فیصلہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
تاہم دونوں ممالک کے ذرائع جنرل مشرف اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے درمیان کسی ملاقات سے انکار کر رہے ہیں لیکن عام خیال یہ ہی ہے کہ جنرل مشرف اور شاہ عبداللہ کی نواز شریف کی پاکستان واپسی کا معاملہ بھی زیر غور آیا ہوگا۔ صدارتی ترجمان راشد قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کے معاملے پر وزارت خارجہ سے رابطے کے لیے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کی ملاقاتوں کی تفصیل ان کے پاس ہوتی ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب صدر کو کئی قانونی اور سیاسی مسائل دوچار ہیں، ان کے دورے کی وجہ کے بارے میں راشد قریشی کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ صدر ان معاملات پر براہ راست ہی نظر رکھیں۔ ان کا موقف تھا کہ ملکی حالات معمول پر ہیں۔ جنرل مشرف کے ساتھ اس دورے میں وزیر خارجہ تو شریک نہیں تھے تاہم اطلاعات ہیں کہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ ان کے ہمراہ تھے۔ صدارتی ترجمان نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ صدر اپنا دور روزہ دورہ مختصر کر کے پہلے لوٹ آئے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ یہ ایک روزہ دورہ ہی تھا۔ سرکاری تردید کے باوجود اخباری خبروں کے مطابق جنرل مشرف نے سعودی حکام پر واضع کیا کہ انہیں انتخابات سے قبل نواز شریف کی واپسی قبول نہیں اور یہ کہ نواز شریف کے بیانات کو بھی بند کیا جائے۔ |
اسی بارے میں مشرف اہلیت: درخواستیں خارج19 November, 2007 | پاکستان ’رکاوٹوں کے باوجود ترقی جاری‘18 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی ختم کریں: نیگرو پونٹے19 November, 2007 | پاکستان مرکزی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس20 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||