BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی سیاست کا’ٹوئنی ٹوئنٹی‘

جنرل مشرف
نواز شریف کی واپسی کے فیصلے نے جنرل مشرف کے سیاسی مستقبل پر لگے سوالیہ نشان مزید نمایاں کر دیے ہیں

آج سے سات سال پہلے جتنی سختی سے جنرل پرویز مشرف نے اپنے پرانے باس کو ملک بدر کر کے سعودی عرب بھیجا تھا اب سعودی حکومت اتنی ہی سختی سے ان کو واپس بھیجنے پر مصر نظر آتی ہے۔

گو جنرل مشرف کے ساتھ کیےگئے معاہدے کی طے شدہ شرائط کے مطابق پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ابھی تین برس مزید جلاوطنی بھگتنی تھی لیکن ان سات برسوں میں اتنا کچھ بدل گیا کہ نہ تو معاہدہ کے تحت بھاگنے والوں کے دل میں کوئی خوف بچا ہے اور نہ ہی معاہدہ کرانے والوں میں پہلے جیسا کر و فر۔

شاید اسی لیے توقع کی جا رہی ہے کہ اس دفعہ اگر شریف برادران ملک لوٹے تو جنرل پرویز مشرف زیادہ سے زیادہ انہیں جیل ہی بھیج سکیں گے۔ شریف خاندان کی واپسی کا تازہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب جنرل مشرف ایمرجنسی لگا چکے تھے، ایک نئے پی سی او کے تحت عدلیہ کا ڈنک نکال چکے تھے اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر چکے تھے۔

لیکن ان کی واپسی کے اس طویل دورانیے کے کھیل کی تازہ قسط کے فوری محرکات کیا تھے یہ شاید ہم کبھی بھی نہ جان سکیں۔

 گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جنرل مشرف دنیا بھر کے محبوب ٹھہرے اور یہی ان کے اقتدار میں دوام کی وجہ بنی۔ لیکن اب یہ معاشقے تیزی سے ختم ہوتے نظر آتے ہیں اور لگتا یوں ہے کہ جنرل مشرف کے بیرون ملک حمایتی اب ان کے بعد کی دنیا دیکھنے کی کوشش میں ہیں۔

کوئی کہتا ہے کہ وہ صدر مشرف کی مرضی کے خلاف اور سعودی عرب کے ذریعے ڈالے جانے والے امریکی دباؤ کے نتیجے میں واپس آ رہے ہیں جبکہ کسی کے خیال میں ان کی واپسی کی سب سے بڑی حمایتی پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بینظیر بھٹو ہیں جو نواز لیگ کے ذریعے مسلم لیگ (ق) کے ووٹ توڑنا چاہتی ہیں۔

کسی کی رائے میں یہ سارا کھیل صدر مشرف نے خود کھیلا ہے اور اس لیے کہ آئندہ انتخابات سے پیدا ہونے والی اسمبلیاں بکھری ہوئی، کمزور اور مستقل سیاسی انتشار کا شکار رہیں۔

حقیقت کیا ہے، فی الحال کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اس سے بھی شاید ہی کسی کو انکار ہو کہ محرکات سے قطع نظر نواز شریف کی واپسی کے فیصلے نے جنرل مشرف کے سیاسی مستقبل پر لگے سوالیہ نشان مزید نمایاں کر دیے ہیں۔

جنرل مشرف نے آٹھ سال پہلے اقتدار سنبھالا تو ان کو امریکہ پر ہونے والے گیارہ ستمبر کے حملوں سے پہلے دنیا بھر میں کہیں پذیرائی نہ ملی۔ لیکن گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد وہ دنیا بھر کے محبوب ٹھہرے اور یہی ان کے اقتدار میں دوام کی وجہ بنی۔ لیکن اب یہ معاشقے تیزی سے ختم ہوتے نظر آتے ہیں اور لگتا یوں ہے کہ جنرل مشرف کے بیرون ملک حمایتی اب ان کے بعد کی دنیا دیکھنے کی کوشش میں ہیں۔

سعودی حکومت نواز شریف کو واپس بھیجنے پر مصر نظر آتی ہے

جنرل مشرف کے بعد پاکستان کے لیے کونسی راہیں کھلی ہیں اور ان میں سے کونسی ملک کے لیے بہتر ہے، اس پر مختلف آراء ضرور ہو سکتی ہیں لیکن اس پر شاید ہی کسی کو اختلاف ہو کہ اب ان کا جانا ضروری ہے۔

گویا جس سیاست کو وہ آٹھ سال سے اپنی آہنی گرفت میں رکھے ہوئے تھے اب وہ تیزی سے ان کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ اور ان کی متوقع رخصت کے بعد اقتدار کی بندر بانٹ میں اپنا حصہ پکا کرنے کے لیے مختلف سیاستدان جن میں زیادہ تر پرانے پاپی ہی ہیں، پر تولنے لگے ہیں۔

چند دن پہلے تک یہ کھیل بنیادی طور پر بینظیر بھٹو، جنرل مشرف اور ان کی حمایتی جماعت مسلم لیگ (ق( تک محدود تھا لیکن اب نواز شریف کی متوقع واپسی سے اس میں ایک نئی سنسنی آئی ہے۔ پچھلے چند دنوں میں ملکی سیاست نے اس تیزی سے پلٹے کھائے ہیں کہ ہمارے ساتھی شفیع نقی جامعی موجودہ صورتحال کو سیاست کا ’ٹوئنٹی ٹوئنٹی‘ کہنے لگے ہیں۔

نواز شریف کی وطن واپسی کے فیصلے سے پہلے ملک کی سیاسی بساط کیسے بچھی تھی اس کا اندازہ لگانا آسان نہ تھا۔ اس بساط کے عین درمیان میں جمے جنرل مشرف اور ان کے سیاسی حمایتی تو صاف دکھائی دیتے تھے لیکن اس کا اندازہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ بینظیر بھٹو کی جگہ جنرل مشرف کی بغل میں ہے یا وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالےگھات لگائے بیٹھی ہیں۔ مولانا حضرات کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہ تھا۔

 جنرل مشرف اور نواز شریف مخالف سیاسی سمتوں کی انتہا پر آ کھڑے ہوئے ہیں اور ان دونوں کے بیچ ایک وسیع میدان ہے جس میں صرف اس کی جگہ بنے گی جو انتہائی موقف چھوڑ کر افہام و تفہیم کی بات کرے گا اور بینظیر بھٹو کے لیے اس سے زیادہ خوش آئند صورتحال اور کیا ہو سکتی ہے۔ ان کو اب صرف ایک ایسا فارمولہ ڈھونڈنا ہے جو ان کے بیرون ملک حمایتیوں اور ملک میں موجود پڑھے لکھے اور اعتدال پسند طبقوں کو قابل قبول ہو۔

یہ اہم سیاسی رہنما جنرل مشرف کے دوسرے پی سی او پر لعن طعن کرتے تو اکثر سنائی دیے لیکن اس کے سب سے بڑے شکار یعنی عدلیہ کے بارے میں اپنا موقف واضح نہ کر سکے۔ لیکن اب معاملہ کچھ واضح ہونے لگا ہے۔ جنرل مشرف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تین نومبر سے پہلے کی عدلیہ اب ماضی کا قصہ ہے اور برطرف شدہ جج صاحبان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔

اب اچانک ان کے سامنے نواز شریف اس مطالبے کے ساتھ آ کھڑے ہوئے ہیں کہ تین نومبر سے پہلے کی صورتحال کو غیر مشروط طور پر بحال کیا جائے۔ یوں جنرل مشرف اور نواز شریف مخالف سیاسی سمتوں کی انتہا پر آ کھڑے ہوئے ہیں اور ان دونوں کے بیچ ایک وسیع میدان ہے جس میں صرف اس کی جگہ بنے گی جو انتہائی موقف چھوڑ کر افہام و تفہیم کی بات کرے گا۔

بینظیر بھٹو کے لیے اس سے زیادہ خوش آئند صورتحال اور کیا ہو سکتی ہے۔ ان کو اب صرف ایک ایسا فارمولہ ڈھونڈنا ہے جو ان کے بیرون ملک حامیوں اور ملک میں موجود پڑھے لکھے اور اعتدال پسند طبقوں کو قابل قبول ہو۔

ایسے کئی اشارے ملتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے اندر اس نہج پر ابھی سے بات چل نکلی ہے۔ مثلاً اگر برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی غیر مشروط بحالی کا مطالبہ جنرل مشرف کے خلاف سیاسی انتہا پسندی ہے تو کیا حرج اگر ان کو بطور چیف الیکشن کمشنر آزادانہ انتخابات کرا کے عزت سے گھر جانے کا موقع دے دیا جائے۔

اگر فی الحال جنرل مشرف بینظیر بھٹو کو دوبارہ وزیر اعظم کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتے تو ان کی رخصت تک مخدوم امین فہیم کی قیادت میں ان کی جماعت حکومت کیوں نہیں بنا سکتی۔

جنرل مشرف کی مکمل ریٹائرمنٹ تک پاکستان کے سیاستدانوں کے لیے ٹائم پاس کرنے کے لیے کئی آپشنز ہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ ممکنات کا ایک دریا ہے جس کی لہروں میں ابھی کون جانے کتنی پیچیدگیاں پوشیدہ ہیں۔

ہمارا قلعہ بند فوجی
اب پاکستانیوں کے لیے کوئی فریب بھی نہیں بچا
صدر جنرل پرویز مشرف مشرف کی ’جلدی‘
’کہیں وائس چیف بڑا ہو کر حق نہ مانگنے لگے‘
نوازملنے کا ارادہ نہیں
جنرل مشرف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں:نواز
جنرل پرویز مشرف جنرل کی بھول بھلیاں
’صورت حال گمبھیر تر ہو رہی ہے‘
تین پرویز
تین پرویزوں کی دوستی کی سبق آموز کہانی
جنرل مشرفآٹھ سال بعد بھی
سب سے پہلے پاکستان، پر اس سے پہلے ’میں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد