BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 04:14 GMT 09:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نواز شریف اتوار کولاہور میں‘
مسلم لیگ کے حمایتی
گرجرانوالہ میں پاکستان مسلم لیگ کے حمایتی جنرل مشرف کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں

پاکستان کے جلاوطن وزیراعظم اور مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف اتوار پچیس نومبر کو وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔

لندن میں مقیم نواز شریف کے بھائی اور پنجاب کے سابق وزیراعلٰی شہباز شریف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تصدیق کی اور کہا کہ’ ہم اتوار کو سعودی عرب ائر لائنز کی پرواز سے لاہور جا رہے ہیں‘۔

شہباز شریف نے بتایا کہ نواز شریف نے جمعہ کو سعودی شاہ سے الوداعی ملاقات کی ہے اور وہ اتوار کو عمرے کی ادائیگی کے بعد اپنی اہلیہ کلثوم نواز اور خود شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان واپس جا رہے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار علی سلمان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی پارٹی کے سربراہ نواز شریف آئندہ چند دنوں میں پاکستان میں ہوں گے۔مسلم لیگی رہنما جاوید ہاشمی نے کسی بھی ڈیل کو خارج ازامکان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ’نواز شریف اور ڈیل دو متضاد چیزیں ہیں اور معاملہ صرف سعودی فرماں روا اور نواز شریف کے درمیان ہے‘۔

شہباز شریف بھی اس مرتبہ اپنے بھائی کے ہمراہ ہوں گے

پاکستان کے قومی اخبارات میں بھی نواز شریف کے علاوہ ان کی اہلیہ کلثوم نواز اور شہباز شریف کی متوقع پاکستان آمد کے بارے میں خبریں شائع ہورہی ہیں۔نواز شریف کی واپسی کی خبروں میں تیزی اس وقت سے آئی تھی جب پاکستان کے صدر جنرل مشرف نے اسی ہفتے سعودی عرب کا ایک غیر متوقع دورہ کیا جس میں انہوں نے سعودی شاہ سے ملاقات کی تھی۔

اس دورے کے اعلان کے بعد نواز شریف اور جنرل مشرف کی ملاقات کی خبریں گردش میں تھیں تاہم بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کسی بھی ایسی ملاقات کے امکان کو رد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ’جنرل مشرف سے میری ملاقات کا کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا اور اس کا فائدہ بھی کچھ نہیں کیونکہ میرا مطالبہ ہے کہ ایک جمہوری پاکستان ہونا چاہیے اور آمریت اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے لیکن جنرل مشرف کو اس مطالبے سے سخت اختلاف ہے‘۔

یاد رہے کہ بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے کو اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کر کے انہیں حراست میں لے لیا تھا اور بعد ازاں نواز شریف ایک معاہدے کےتحت اپنے خاندان سمیت جلاوطن کر دیے گئے تھے۔

تاہم دس ستمبر کو نواز شریف نے سپریم کورٹ کی جانب سے وطن واپسی کی اجازت ملنے پر پاکستان واپس آنے کی کوشش کی تھی تو انہیں اسلام آباد ائرپورٹ سے ہی ایک خصوصی طیارے کے ذریعے واپس سعودی عرب بھجوا دیا گیا تھا۔

نوازملنے کا ارادہ نہیں
جنرل مشرف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں:نواز
کلثوم کا عزم
سیاست میں آنا خواہش نہیں مجبوری
نواز لیگ کا سیز فائر
سعودی عرب کا حمایتی دھڑا جنگ جیت گیا
نواز شریفآخر کیا ہوا؟
اے پی ڈی ایم کے کارکن کہاں رہ گئے تھے
نواز شریف’آئین سے متصادم‘
نواز شریف کی ملک بدری پر عالمی تشویش
نواز جلاوطنی پر احتجاجنواز ملک بدری
یوم سیاہ اور احتجاج کی تصویری جھلکیاں
’زیرو سم گیم‘
فوج سے شراکتِ اقتدار کی کڑوی گولی
اسی بارے میں
مشرف سعودی دورے سے واپس
21 November, 2007 | پاکستان
نواز شریف کی دوسری واپسی
09 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد