BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نواز کو واپس نہیں بھیجیں گے‘
مسلم لیگ کے حمایتی
پشاور میں پاکستان مسلم لیگ کے حمایتی نواز شریف کی واپسی کی خبر کا جشن منا رہے ہیں

صدارتی ترجمان ریٹائرڈ میجر جنرل راشد قریشی نے کہا ہے کہ نواز شریف سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی، وہ اپنی مرضی سے آ رہے ہیں اور کوئی انہیں واپس نہیں بھیجے گا۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ سوال کیا، کہ یہ کس نے کہا ہے کہ ڈیل ہوئی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ آرہے ہیں اور ہم نے سنا ہے کہ اتوار کو وہ پہنچ جائیں گے‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ صدر مشرف سعودی عرب گئے تھے اور اس طرح کی خبریں آ رہی ہیں کہ وہاں سعودی حکمرانوں ساتھ مل کر کوئی ڈیل ہوئی ہے؟ صدارتی ترجمان نے کہا کہ ’نہیں، جتنا مجھے معلوم ہے بات چیت ضرور ہوئی ہے صدر مشرف کی سعودی حکام سے لیکن وہ بات چیت کیا تھی اس بارے میں مجھے علم نہیں کیونکہ میں وہاں موجود نہیں تھا‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر نواز شریف اتوار کو پہنچ رہے تو کیا انہیں واپس سعودی عرب پہنچا دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ ’ایسی تو کوئی خبر نہیں ہے میرے پاس‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنی مرضی سے آ رہے ہیں اور کوئی انہیں واپس نہیں بھیجے گا‘۔

 جتنا مجھے معلوم ہے بات چیت ضرور ہوئی ہے صدر مشرف کی سعودی حکام سے لیکن وہ بات چیت کیا تھی اس بارے میں مجھے علم نہیں کیونکہ میں وہاں موجود نہیں تھا
راشد قریشی

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سربراہ اور سابق پاکستانی وزیراعظم نواز شریف اتوار کو مدینے سے پاکستان آئیں گے اور ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز اور بھائی شہباز شریف ان کے ہمراہ پاکستان آنے کے لیے برطانیہ سے سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔

اس سے قبل نواز شریف کے بھائی اور پنجاب کے سابق وزیراعلٰی شہباز شریف نے بی بی سی اردو کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ نواز شریف نے جمعہ کو سعودی شاہ سے الوداعی ملاقات کی ہے اور وہ عمرے کی ادائیگی کے بعد پاکستان واپس جائیں گے۔

نواز شریف کی واپسی کی خبروں میں تیزی اس وقت سے آئی تھی جب پاکستان کے صدر جنرل مشرف نے اسی ہفتے سعودی عرب کا ایک غیر متوقع دورہ کیا جس میں انہوں نے سعودی شاہ سے ملاقات کی تھی۔ اس دورے کے اعلان کے بعد نواز شریف اور جنرل مشرف کی ملاقات کی خبریں گردش میں تھیں تاہم بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کسی بھی ایسی ملاقات کے امکان کو رد کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے کو اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کر کے انہیں حراست میں لے لیا تھا اور بعد ازاں نواز شریف ایک معاہدے کےتحت اپنے خاندان سمیت جلاوطن کر دیے گئے تھے۔

تاہم دس ستمبر کو نواز شریف نے سپریم کورٹ کی جانب سے وطن واپسی کی اجازت ملنے پر پاکستان واپس آنے کی کوشش کی تھی تو انہیں اسلام آباد ائرپورٹ سے ہی ایک خصوصی طیارے کے ذریعے واپس سعودی عرب بھجوا دیا گیا تھا۔

نوازملنے کا ارادہ نہیں
جنرل مشرف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں:نواز
کلثوم کا عزم
سیاست میں آنا خواہش نہیں مجبوری
نواز لیگ کا سیز فائر
سعودی عرب کا حمایتی دھڑا جنگ جیت گیا
نواز شریفآخر کیا ہوا؟
اے پی ڈی ایم کے کارکن کہاں رہ گئے تھے
نواز شریف’آئین سے متصادم‘
نواز شریف کی ملک بدری پر عالمی تشویش
نواز جلاوطنی پر احتجاجنواز ملک بدری
یوم سیاہ اور احتجاج کی تصویری جھلکیاں
’زیرو سم گیم‘
فوج سے شراکتِ اقتدار کی کڑوی گولی
اسی بارے میں
مشرف سعودی دورے سے واپس
21 November, 2007 | پاکستان
نواز شریف کی دوسری واپسی
09 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد