محصور فوجی اور مستقبل کا خوف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے دیرینہ سربراہ اور اس وقت ملک کے متنازعہ صدر جنرل پرویز مشرف ہمیں اکثر یاد دلاتے رہتے ہیں کہ وہ ایک کمانڈو رہ چکے ہیں اور اس لیے وہ کسی سے بھی نہیں ڈرتے۔ آٹھ سال برسرِ اقتدار رہنے کے بعد ابھی تک ان کی سیاسی چالیں اسی کمانڈو ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ان چالوں کے پیچھے چھپا چہرہ آٹھ سال پہلے سیاست کی آتش نمرود میں بے خطر کود پڑنے والے بے باک اور نڈر کمانڈو کا چہرہ نہیں ہے۔ بدھ کے روز جاری کردہ صدارتی فرمان کے پیچھے جو چہرہ نظر آیا وہ میدان جنگ میں گھرے ایک ایسے فوجی کا چہرہ تھا جو ابھی بھی بندوق تو تھامے ہے لیکن اس کے سیاسی قلعے کی تمام فصیلیں اس کے آس پاس آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی ہیں۔ اس فوجی کے چہرے پر جھنجھلاہٹ بھی ہے، غیر یقینی کا عالم بھی اور دھیرے دھیرے بڑھتا ہوا ایک انجان مستقبل کا خوف بھی۔ بظاہر بدھ کو جاری ہونے والے صدارتی فرمان کا مقصد اسلام آباد کے لیے ایک نئی ہائی کورٹ کا قیام ہے لیکن اسی فرمان میں ایک اور آئینی ترمیم بھی دندنا رہی ہے جس کے تحت جنرل مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
آٹھ سال پہلے جاری ہونے والے عبوری آئینی حکم میں بھی جنرل مشرف کی ماورائے آئین حکومت کو تحفظ دینے کے لیے یہی کچھ کیا گیا تھا۔ پھر ملک کی سپریم کورٹ سے آئینی ترامیم کا اختیار لے کر آئین میں ترمیم کی گئی تھی اور آخر میں اس ترمیم کو 2002 میں منتخب ہونے والی اسمبلی سے قبولیت کی چھاپ لگوا کر آئین کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا تھا۔ کیا اب بھی پاکستان کی سیاسی اور آئینی سمت یہی ہو گی؟ یہ ممکن ضرور ہے لیکن کوئی تو وجہ ہے کہ اس امکان کے باوجود بھی اپنے سیاسی قلعے میں محصور فوجی جھنجھلایا ہوا اور قدرے خوفزدہ نظر آتا ہے۔ آخر یہ وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ پاکستان کے مشہور سیاسی تجزیہ کار آئی اے رحمٰن جنرل ضیاالحق کو فریب کا بادشاہ کہتے تھے۔ ان کے مطابق جنرل ضیا نے ہمیشہ اپنی سیاست کسی کسی نہ فریب کے ذریعے کی۔ جب پی پی پی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی سیکولر سیاست کو نکیل پہنانے کی ضرورت پڑی تو جنرل ضیا نے اسلام کا نعرہ بلند کیا۔ اپنے اقتدار کے لیے امریکی حمایت کی ضرورت محسوس ہوئی تو افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی کو ایک عظیم جہاد کا نام دے کر پورے ملک کو اس میں جھونک دیا۔ بھارت سے بات بگڑی تو خالصتان تحریک کی بھرپور حمایت کرنے کے باوجود ایک کرکٹ میچ دیکھنے اچانک ہندوستان جا ٹپکے۔ اور ملک میں ایم آر ڈی کے نام سے جمہوریت کی بحالی کی تحریک چلی تو انہوں نے غیر جماعتی انتخابات کا شوشہ چھوڑ کر ملک میں جمہوریت لانے کا فریب کیا۔
فریب اور دھوکا دہی کی سیاست ہمیشہ پاکستانی فوجی حکمرانوں کا بنیادی ہتھیار رہی ہے۔ غالباً اس لیے کہ ان کے سیاسی مخالفین اپنے اصل اہداف کو بھول کر وہم و فریب کے انہیں جالوں میں الجھے رہیں اور ملک کا سیاسی ایجنڈا طے کرنے کا اختیار ہمیشہ فوجی حکمرانوں کے ہاتھ میں ہی رہا۔ شروع میں صدر مشرف نے بھی ایسا ہی کیا۔ کارگل میں چھیڑی جانے والی غیر اعلانیہ جنگ جیسے ’سنگین جرم‘ کی سزا سے بچنے کے لیے نواز حکومت کا تختہ یہ کہہ کر الٹ دیا کہ ملک دیوالیہ ہونے والا تھا۔ صدر یا وزیر اعظم کے اختیارات تو سلب کر لیے لیکن خود کو چیف ایگزیکیٹیو کہا۔ کہنے کو مذہبی انتہا پسندی کے خلاف امریکہ کے کلیدی حلیف بنے لیکن اس دور میں طالبان کو پہلی مرتبہ پاکستان میں خود کو باقاعدہ منظم کرنے کا موقع ملا۔ روشن خیال اعتدال پسندی کا نعرہ بلند کیا لیکن رجعت پسند مذہبی جماعتوں کو اپنا حلیف بنایا۔ خود کو جمہوریت پسند کہا لیکن بلوچستان کے باغی رہنماؤں کو فضائی حملوں کے ذریعے نیست و نابود کیا۔
ایسی مثالوں کی ایک لمبی فہرست ترتیب دی جا سکتی ہے جس سے یہ واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ ہر فوجی حکمران کا بنیادی رستہ ایک ہی ہوتا ہے۔ البتہ اس پر بچھائے جانے والے فریب کے غالیچے ہر حکمران کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن آج کے صدارتی فرمان کے بعد لگتا یوں ہے کہ جنرل پرویز مشرف یہ انتہائی اہم ہتھیار بھی کھو چکے ہیں۔ بدھ کا صدارتی فرمان نہ تو کسی فریب میں لپٹا ہے اور نہ ہی اس میں ایسے کوئی کواکب نظر آ رہے ہیں جو ہوں تو کچھ اور نظر کچھ آئیں۔ جو ہونے والا ہے وہ اس صدارتی فرمان میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ ایمرجنسی کے بعد قائم کی جانے والی سپریم کورٹ جنرل مشرف کے اس فرمان کو عوام کی نظر میں کبھی بھی وہ قانونی تحفظ نہیں دے سکتی جو 1999 کی فوجی بغاوت کو اس وقت موجود سپریم کورٹ نے دیا تھا۔ آج کی سپریم کورٹ عوام کی نظر میں جنرل مشرف کی ویسی ہی بی ٹیم ہے جیسی کے مسلم لیگ قاف۔ اور اگر پاکستان نے جنرل مشرف کے اپنے فارمولے کے مطابق بھی جمہوریت کی طرف لوٹنا ہے تو ملک میں کبھی نہ کبھی تو آئین بحال ہو گا ہی۔ گویا آج جاری ہونے والے صدارتی فرمان کو آئین کا حصہ بنانے کے لیے جنرل مشرف کا آنے والی قومی اسمبلی پر انحصار 2002 کی نسبت کہیں زیادہ ہو گیا ہے۔
ایسے میں کیا وہ آزادانہ انتخابات کا خطرہ مول لے سکتے ہیں چاہے ان پر ان کے مغربی حلیفوں کی جانب سے منصفانہ انتخابات کے لیے کتنا ہی دباؤ کیوں نہ ہو؟ آج کے فرمان نے دراصل آزادانہ انتخابات کے صدارتی عہد کی قبر کھودی ہے۔ عام حالات میں شاید جنرل مشرف کو اس کی کوئی فکر نہ ہوتی۔ لیکن آجکل انہیں شدید بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے اور اس میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر آنے والے انتخابات متنازعہ ہو گئے تو پھر جنرل مشرف کا سیاسی مستقبل کیا رہ جائے گا؟ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارا قلعہ بند فوجی اس قدر جھنجھلایا، گھبرایا اور خوف زدہ لگ رہا ہے۔ اب شاید اس کے پاس پاکستانیوں کو دینے کے لیے کوئی فریب بھی نہیں بچا۔ |
اسی بارے میں بینظیر، نیگروپونٹے کی بات چیت16 November, 2007 | پاکستان محمد میاں سومرو نے حلف اٹھالیا16 November, 2007 | پاکستان عمران کی گرفتاری کے خلاف احتجاج16 November, 2007 | پاکستان ’انتخابی شیڈول متاثر نہیں ہوگا‘16 November, 2007 | پاکستان سرحد، پنجاب میں مظاہرے،گرفتاریاں16 November, 2007 | پاکستان ’حکومتی اعتراضات بلا جواز ہیں‘17 November, 2007 | پاکستان ’میں ہوں توجوہری ہتھیار محفوظ ہیں‘17 November, 2007 | پاکستان مشرف کو اب جانا ہوگا17 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||