لِیگ میچ میں کون کیا کھیلے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چلیں یہ تو طے ہو گیا کہ وردی جسے جنرل پرویز مشرف اپنی کھال کہتے ہیں، اترنے والی ہے۔ اور جب یہ اترے گی، جنرل صاحب کو اس کا درد بھی بہت ہوگا۔ لیکن ان کے افاقے کے لیے اتنا کافی ہے کہ ان کے عبوری آئینی حکم پر لبیک کہنے والا کوئی منصف ، پانچ برس کے لیے ایک ’جنرل‘ سے صدارتی حلف لے گا۔ آئیے اب چلتے ہیں حلف برداری کی تقریب سے باہر جہاں میاں نواز شریف کی پاکستان آمد نے مسلم لیگ قاف کی چوہدراہٹ کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ اپنے سب سے بڑے حریف کو ارضِ مقدس سے وطنِ عزیز آنے کی اجازت دے کر سب سے پہلی ہزیمت تو خود جنرل صاحب کو اٹھانی پڑی ہے۔مگر اخلاقی شکست انہیں ہو نہیں سکتی کہ اس کا تعلق محسوس کرنے سے اور جنرل صاحب نے یہ کام صرف اپنے ہم وطنوں کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔ شاید یہ جاننے کے لیے کسی منطق کی ضرورت نہیں کہ شاہ عبداللہ کے مہمانِ خاص کو پاکستان واپسی کی اجازت کا فیصلہ جنرل مشرف نے خوش دلی سے نہیں کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے حریف کو واپس کیوں آنے دیا؟ ظاہر ہے اس سے جنرل مشرف کے دامن پر لگے کئی داغوں میں سے یہ داغ نسبتاً کم نمایاں ہو جائےگا کہ انہوں نے (خواہ مجبوری میں سہی) سیاست کی عین گرم بازاری کے دوران نواز شریف کو وطن آنے دیا۔اس اجازت سے تین نومبر کے فرمانِ شاہی کو بھی قبولیت کا درجہ بھی مل جائے گا۔
لیکن جنرل مشرف کو نواز شریف کی آمد سے سب سے زیادہ فائدہ یوں پہنچ سکتا ہے کہ انتخابات کے بعد پارلیمان کی نشستیں مسلم لیگ قاف، مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی میں اس طرح تقسیم ہو جائیں کہ کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کر سکے اور صدر مشرف بغیر کسی آزار کے منصبِ اقتدار پر برقرار رہیں۔ شریف برادران ووٹوں اور پارلیمان کی نشستوں پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتے ہیں اس سے پہلے یہ یاد آوری ضروری ہے کہ ملک میں بینظیر بھٹو کے بقول قاف لیگ کی ہی نگراں حکومتیں قائم ہیں جن کو جنرل صاحب کی وفاداریوں کا شرف حاصل ہے۔ آخر انتظام بھی جنرل مشرف کا، انتظامیہ بھی جنرل مشرف کی۔ جب پنجاب میں پرویز الہیٰ کے وفادار صوبے کے چودھری اور سندھ میں غلام رحیم کے کارگزار اربابِ انتظام ہوں گے تو ایسے میں شریفوں کو کون نوازے گا اور بینظیروں کو کون پوچھے گا۔ پنجاب کے شریف جب میدان میں اتریں گے تو ناممکن ہے کہ صوبے کے چوہدریوں کو لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ قاف لیگ نے پانچ سال میں روٹی کی قیمت پانچ روپے کر کے غریبوں کے منہ سے نوالہ تک چھین لیا ہے لہذا وہ جب ووٹ مانگیں گے تو منہ کی کھائیں گے۔ پی پی پی مخالف ووٹ جو قاف لیگ کو مجبوراً پڑ سکتا تھا، نواز شریف کے حُسنِ اثر سے صرف مسلم لیگ نون ہی کے حصے میں آئے گا۔ اگر نگرانوں کے انتظام میں خلل پڑ گیا اور نواز شریف کا نعرہ چل گیا تو یقیناً قاف لیگ کو نقصان ہوگا لیکن سوال یہ ہے کیا قاف لیگ کے نقصان سے جنرل مشرف کو کوئی فائدہ ہوگا؟
ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ جنرل مشرف کو معلوم ہے کہ آرمی چیف نہ رہنے سے قاف لیگ کی مفاد پرست فطرت ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ لہذا قاف لیگ کی کمزوری جنرل صاحب کی طاقت بن جائے گی۔ البتہ اس کا ایک نقصان یہ ہوگا کہ کنگز پارٹی کا دم خم جاتا رہے گا اور کسی غیر متوقع صورتِ حال میں درباریوں کا نہ ہونا گھاٹے کا سودا بن سکتا ہے۔ جنرل مشرف کو نواز شریف کی آمد سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میدان نہیں مار سکے گی۔ آخر تاجروں کا ووٹ تاجروں ہی کو جائے گا۔ پیپلز پارٹی کی عددی کمزوری بہرحال جنرل مشرف کے حق میں جائے گی اور اس سے بینظیر بھٹو کی بارگیننگ پوزیشن مضبوط نہیں رہے گی۔ موجودہ حالات میں خود نواز شریف کے سیاسی کردار کے دو رُخ ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ انفرادی حیثیت میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کے طور پر میدان میں رہیں۔ مسلم لیگ نون اس وقت کافی انتشار کا شکار ہے۔ چوہدریوں نے فوج کی مدد سے بساطِ سیاست ہی کچھ ایسے بچھائی کہ مسلم لیگ نون، نون سے قاف ہوگئی۔ لہذا انفرادی طور پر پارٹی کو سنبھالنے اور اسے ازسرِ نو منظم کرنے میں شریفوں کو کافی مشکل ہوگی۔ لیکن اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف اجتماعی طور پر بکھری ہوئی اپوزیشن کو یکجا کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟ اگر وہ ایسا کر لیتے ہیں تو شاید جنرل مشرف کے لیے اس سے بڑی تکلیف کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ اور بظاہر وہ ایسا ہونے بھی نہیں دیں گے۔
اتفاق کہیئے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں ماضی میں جنرل مشرف کو ہٹانے کی صدا لگاتی رہی ہیں لیکن اگر ’اے پی سی‘ بلائی گئی تو مجبوریاں آدھے سیاست دانوں کے آڑھے آ گئیں۔ اگر ’اے آر ڈی‘ طلب کی گئی تو باقی کے نصف سیاست دان وہاں نہیں آئے۔اے پی ڈی ایم بنا تو کچھ سیاست دانوں کو قبول تھا اور کچھ کو نہیں۔ تو نواز شریف کے پاس ایسا کون سا جادو ہے کہ وہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں کو یک زبان کر لیں گے؟ سوال یہ اٹھیں گے کہ متحدہ اپوزیشن کی قیادت کون کرے گا؟ نواز شریف، بینظیر بھٹو یا کوئی اور؟ الیکشن کا بائیکاٹ ہوگا یا الیکشن میں حصہ لیا جائے گا۔ نعرہ ’پرانی‘ عدلیہ کی بحالی کا ہوگا یا ’پرانی‘ عدلیہ کو بھلا دیا جائے گا۔ غرض یہ کہ ’آل پارٹیز اپوزیشن‘ والے مفروضے میں محالات زیادہ اور ممکنات کم ہیں۔ اگر ایسا ہو بھی جائے تو کسی بھی صورت ایسا اتحاد نہ اپنے بہادر جنرل کو قبول ہوگا نہ امریکہ بہادر کو۔الیکشن کا بائیکاٹ ہوا تو جرنیلی انتخابات کی آبرُو خاک میں مل جانے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا جس سے بچنے کے لیے حاکمِ وقت کے محل میں قانونی پیرزادے پھر سے بیٹھ سکتے ہیں، اور آئین کو پھر سے ذبح کر کے گھر کےمنصفوں سے اس کا جواز بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اور اگر اس محال اتحاد نے مل کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا تو آٹھ جنوری کی شام متحدہ اپوزیشن کی زبان پر جیت کے نعرے نہیں بلکہ دھاندلی کا واویلہ ہوگا جسے پی سی او کے سائے میں حلف اٹھانے والے جج شاید سُن ہی نہیں پائیں گے۔ |
اسی بارے میں کوئی ڈیل وِیل نہیں، 3 نومبر سے پہلے والی عدلیہ بحال کی جائے: نواز شریف25 November, 2007 | پاکستان آج کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائیں گے25 November, 2007 | پاکستان مشرف سعودی دورے سے واپس21 November, 2007 | پاکستان بینظیر، نواز نامزدگی کی تیاری22 November, 2007 | پاکستان نواز کی واپسی آئندہ چند دن میں:ہاشمی23 November, 2007 | پاکستان APDM کی کال پر احتجاج، گرفتاریاں23 November, 2007 | پاکستان ’نواز شریف نومبر میں پھر واپس‘15 October, 2007 | پاکستان نواز شریف کی دوسری واپسی09 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||