BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 November, 2007, 18:12 GMT 23:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تقسیمِ اقتدار کے اصول وہی رہینگے

جنرل مشرف
اگر فوجی وردی ہی صدر کی کھال ہے تو وہ کھال تو اسی دن اتر گئی تھی جس دن انہوں نے ملکی سیاست پر بزور بغاوت قبضہ کیا تھا
جنرل پرویز مشرف جس وردی کو اتارنے کی غالباً حتمی تیاریاں شروع کر چکے ہیں وہ اسے اپنی کھال کہتے تھے۔ انیس سو چونسٹھ سے وہ جسے بھی نظر آئے اسی کھال میں نظر آئے۔

یہ جاننا تو شاید نا ممکن ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی کھال اتارتے وقت ان کے دل و دماغ پر کیا گزر رہی ہو گی۔ لیکن تماش بین اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ پاکستان کے سیاسی جنگل میں ’بے کھال‘ والے کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

جنرل مشرف کو اس امر کا احساس ہو نہ ہو لیکن اگر فوجی وردی ہی ان کی کھال ہے تو وہ کھال تو اسی دن اتر گئی تھی جس دن انہوں نے فوجی امور سے ہٹ کر ملکی سیاست پر بزور بغاوت قبضہ کیا تھا۔

اس دن یعنی بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو ان کی اصل کھال وہ وردی نہ رہی جسے انہوں نے بارہا جمہوریت کے خون کی کلف لگا کر نیا کرنے کی کوشش کی۔ بغاوت کے بعد جنرل مشرف کی خاکی کھال کی جگہ اس سیاسی نقشے نے لے لی تھی جس کے تحت وہ پاکستانی سیاست میں اپنی مستقل جگہ بنانا چاہتے تھے۔

اس سیاسی نقشے میں نہ تو بینظیر بھٹو کی جگہ تھی، نہ ہی نواز شریف کی اور ان کی غیر موجودگی میں خیال کیا جا رہا تھا کہ جنرل مشرف کی خاکی کھال اترنے سے پہلے ایک متبادل سیاسی قیادت کھڑی کر لی جائے گی جو ان کی سیاسی کھال ثابت ہو گی۔

آج کے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو صاف ظاہر ہے کہ اس سیاسی نقشے کی حیثیت اب ایک بوسیدہ چیتھڑے سے زیادہ نہیں رہی۔ بینظیر بھٹو بھی وطن واپس آ چکی ہیں اور اس وقت نواز شریف بھی پاکستان میں ہی موجود ہیں۔ رہی بات متبادل سیاسی قیادت کی تو اس کا یہ حال ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو ان کی اپنی ہی جماعت ٹکٹ نہ دے سکی۔

خاکی کھال کے بعد
 لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جنرل مشرف اپنی خاکی کھال ادھڑنے کے بعد یکایک بالکل ننگے ہو جائینگے۔ جمہوریت، بنیادی حقوق اور شخصی آزادی کی طرف ان کا رویہ جو بھی ہو، اپنے ادارے کے سیاسی عزائم اور سیاسی طاقت کی انہوں نے آخری دم تک حفاظت کی ہے

اس عرصے میں انہوں نے جیسے تیسے اپنے لیے صدر کا اہم عہدہ تو برقرار رکھا لیکن ایسا کرنے کے لیے ان کو وہ آئین ہی ادھیڑنا پڑا جو ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے صدارتی عہدے کا محافظ ہونا تھا۔

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جنرل مشرف اپنی خاکی کھال ادھڑنے کے بعد یکایک بالکل ننگے ہو جائینگے۔ جمہوریت، بنیادی حقوق اور شخصی آزادی کی طرف ان کا رویہ جو بھی ہو، اپنے ادارے کے سیاسی عزائم اور سیاسی طاقت کی انہوں نے آخری دم تک حفاظت کی ہے۔

جنرل مشرف نے اکثر کہا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ آرمی چیف کے سیاست میں آنے سے پوری فوج سیاست میں کود پڑتی ہے۔ پاکستانی سیاست کے پیرائے میں یہ ایک لغو و لایعنی بات ہے۔

اس سال نو مارچ سے لے کر اب تک جو کچھ ہوا، وہ جنرل مشرف کے لیے فوج کی مکمل حمایت کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ خاص طور پر جس ڈھٹائی سے انہوں نے عدلیہ سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لیا، دوسرا پی سی او لے کر آئے اور ملک میں ایمرجنسی لگا کر تمام بنیادی حقوق پس پشت ڈال دیے، کیا یہ سب کچھ کوئی ایسا سیاسی رہنما کر سکتا تھا جسے فوج کی حمایت نہ ہو؟

پھر باوجود اس کے کہ جنرل مشرف عدلیہ سے جنگ کے بعد اپنی سیاسی ساکھ اور خوشنودی تقریباً مکمل طور پر کھو چکے تھے، بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو وطن واپسی کے باوجود کھل کر سیاست کرنے کی اجازت نہ مل سکی۔ کیا فوج کی مکمل حمایت کے بغیر جنرل مشرف کے لیے یہ سب کچھ کرنا ممکن تھا؟

ان مشکل حالات میں بھی فوج کی جانب سے جنرل مشرف کی حمایت برقرار رہنے کی ایک بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان میں اقتدار کی بنیادی بانٹ کو نہیں چھیڑا۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان میں سیاسی اقتدار ہمیشہ فوج کے ہاتھ میں رہا ہے جسے وہ اپنی مرضی کے مطابق مختلف سیاستدانوں میں بانٹتی رہی ہے۔ جنرل مشرف نے اپنے آٹھ سالہ دور میں کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے اس بنیادی حقیقت کے بدلنے کا کوئی خطرہ ہو۔

اس صورتحال میں ان کے وردی اتارنے کا صرف یہ مطلب ہے کہ پہلے وہ ملک کے سیاسی نقشے کے خالق تھے جبکہ وردی کے بغیر وہ اس نقشے کا اتنا ہی اہم یا غیر اہم حصہ ہونگے جتنا کہ مسلم لیگ (ق)، پاکستان پیپلز پارٹی یا پاکستان مسلم لیگ (ن) ۔

اور بالکل جس طرح سے جنرل مشرف پچھلے آٹھ سال سے اقتدار کی بوٹیاں اپنی صوابدید میں اپنے من پسند سیاستدانوں میں بانٹتے رہے ہیں، اب اسی طرح سے ان کے جانشین جنرل اشفاق پرویز کیانی یہی فعل سر انجام دینگے۔

فرق صرف اتنا ہو گا کہ جنرل مشرف اب دینے والوں میں سے نہیں بلکہ مانگنے والوں میں سے ہونگے۔ تلخ ہی سہی لیکن یہ حقیقت ہے کہ جنرل مشرف کے وردی اتارنے کے بعد بھی پاکستان میں اقتدار کی بنیادی تقسیم کے اصول بالکل وہی رہیں گے جو ملک بننے سے لیکر ٹوٹنے تک اور ٹوٹنے سے لیکر آجتک رہے ہیں۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی مشرف کے نائب جنرل
تجربہ کار کور کمانڈر، آئی ایس آئی اور اب سربراہ
صدر مشرف چھوٹے مشرف
صدرجنرل پرویز مشرف چھوٹےہو کرکیا بنیں گے؟
 واہگہ بارڈر پاکستان 14، انڈیا 25
پاکستان میں فوج نے سربراہ انڈیا سے کم بدلے
اخباروں میں نواز
ہر اخبار میں نواز شریف آمد کی خصوصی کوریج
نواز شریف کی واپسینواز شریف کی واپسی
نواز شریف کے استقبالیہ جلوس کی جھلکیاں
نواز شریفنواز شریف کی واپسی
ڈیل نہیں تو رویوں میں تبدیلی کیسے آئی؟
فوجفوج پر خودکش حملے
آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو حملہ آوروں کا نشانہ
اسی بارے میں
اغوا کنندہ کا اعلان
23 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد