BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 November, 2007, 10:47 GMT 15:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خوش طبع مگر خاموش‘
جنرل اشفاق پرویز کیانی
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنرل کیانی کو پاکستان کے موجودہ سیاسی تناؤ کے دو بڑے کرداروں کا ذاتی اعتماد بہرحال حاصل ہے
پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے تاریک گوشے میں رہنے والے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بدھ کو چمکتی دھوپ میں جب فوج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تو دنیا بھر میں لوگ ان کی اور ان کے پیشرو کی ایک ایک جنبش کو دیکھ رہے تھے۔

بری فوج کے ہیڈکوارٹر راولپنڈی کینٹ میں ایک رنگارنگ تقریب میں جنرل پرویز مشرف نے جوہری طاقت سے لیس پاکستانی فوج کی کمان کی علامتی چھڑی پچپن سالہ جنرل کیانی کے ہاتھ میں تھمائی۔

اے ایف پی کے نامہ نگار ڈینی کیمپ کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے پیش رو نے کہا: ’میں ان کی پیشہ ورانہ مہارت سے واقف ہوں، یہ ایک بہترین سپاہی ہیں۔‘

لیکن شاید اس کی وجہ فوج کی وہ غیر متزلزل حمایت تھی جو خود پرویز مشرف کو ’صدر جنرل پرویز مشرف‘ سے ’صدر پرویز مشرف‘ بننے کے طویل عرصے کے دوران حاصل رہی ہے کہ انہیں حاضرین کو بتانا پڑا کہ انہیں ’یقین ہے کہ فوج جنرل کیانی کی بھی اسی طرح وفادار رہے گی جیسی کہ وہ خود ان کی تھی۔‘

ان کی مصدقہ وفاداری کی وجہ سے آٹھ اکتوبر کو جنرل مشرف نے چین سموکر اور گولف کے دیوانے جنرل اشفاق کیانی کوفوج کا آئندہ سربراہ چنا تھا۔ اپنے اس انتخاب کے بارے میں جنرل مشرف اتنے پُراعتماد ہیں کہ تین ہفتوں سے جاری ایمرجنسی کے پہلے دن جب وہ عام لوگوں کو دکھائی نہیں دیے اور افواہ پھیلی کہ شاید ان کے نائب نے انہیں نظر بند کر دیا ہے تو کہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے اس کا جواب قہقہے کی شکل میں دیا تھا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں فوج کی طاقت کلیدی رہی ہے ایمرجنسی کے نفاذ سے سیاسی بحران میں آنے والی شدت کو کم کرنا شاید جنرل اشفاق کیانی کا پہلا امتحان ہوگا۔

ملک کی اندروی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایک ایسی فوج کے کمانڈر ہونے کی حیثیت سے کہ جو ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے جنرل کیانی کی قیادت باقی دنیا کے لیے بھی اہم ہے۔

لیکن شاید خوش طبع مگر اپنے کام سے مطلب رکھنے والے ایک صوبیدار کے اس بیٹے کی صلاحیتیں سردست پس پردہ رہ کر جنرل مشرف کو موجودہ مشکلات سے نکالنے پر مرکوز ہوں گی۔

وزارت عظمیٰ کے دنوں میں بینظیر بھٹو کے مشیروں میں شامل رہنے والے جنرل کیانی بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان شراکت اقتدار کے لیے ہونے والے مذاکرات کے مرکزی کردار رہے ہیں۔ اگرچہ اب بینظیر ان مذاکرات کے نتائج سے مکمل مایوسی کا اظہار کر چکی ہیں لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنرل کیانی کو پاکستان کے موجودہ سیاسی تناؤ کے دو بڑے کرداروں کا ذاتی اعتماد بہرحال حاصل ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ دوسروں کی بات غور سے سننے کی شہرت رکھنے والے جنرل کیانی کو واشنگٹن میں بھی اہم لوگوں کا اعتماد حاصل ہے جو پاکستان کی صورتحال کو بے چینی سے دیکھ رہے ہیں۔

اپنے آبائی شہر میں قائم ملٹری کالج جہلم کے فارغ التحصیل جنرل کیانی نے انیس سو اکہتر میں بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور امریکہ کے جنرل سٹاف کالج فورٹ لیونورتھ کے فارغ التحصیل بھی ہیں۔

نئے نامزد آرمی چیف کو انفینٹری بٹالین سے کور کمانڈنگ تک کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ سن دو ہزار ایک اور دو میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیاں سخت کشیدگی تھی اس وقت وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز تعینات رہے۔

جنرل پرویز مشرفصدر پھر صدر
چیف آف آرمی سٹاف کا دور اقتدار
وردی کے بغیر مشرف
اب دینے والے نہیں مانگنے والے ہوں گے
’تاریخی چیلنج‘
پاکستانی فوج مخالفین کی زد میں
 جاوید ہاشمی’ملک کی تباہی‘
فوج کے سیاسی کردار سے مزید تباہی ہوگی: ہاشمی
’ کاروباری مفادات‘
فوج پرعائشہ صدیقہ کی کتاب سے اقتباسات
صدر پرویز مشرف’وردی میری کھال‘
’فوجی وردی پہننے میں فخر محسوس ہوتا ہے‘
سازش میں اہم کردار
ایم کیو ایم کا فوج کے ہاتھوں استعمال
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد