وجاہت مسعود لاہور |  |
 | تاریخ ساز فیصلے   جولائی کے فیصلے سے عدلیہ کی بالادستی بحال ہوئی تھی جب کہ 23 اگست کے فیصلے سے آئین اور جمہوری عمل کی بالادستی کے دروازے وا ہوئے ہیں۔  |
ایک مہینے کے وقفے سے پاکستان کی عدالتِ عظمٰی نے دوسرا تاریخ ساز فیصلہ سنا دیا ہے۔ 20 جولائی کے فیصلے سے عدلیہ کی بالادستی بحال ہوئی تھی جب کہ 23 اگست کے فیصلے سے آئین اور جمہوری عمل کی بالادستی کے دروازے وا ہوئے ہیں۔ عدالتِ عظمٰی کا فیصلہ بدیہی طور پر نہایت سادہ ہے۔ آئین کی دفعہ 15 کے تحت پاکستان کے ہر شہری کو ملک سے جانے یا واپس آنے کا حق حاصل ہے نیز یہ کہ حکومت کی طرف سے معاہدے کے طور پر پیش کردہ دستاویزات کو قانونی طور پر معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چنانچہ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔فطری طور پر مسلم لیگ (نواز) کے رہنماؤں اور کارکنوں کی خوشی دیدنی ہے لیکن پاکستان کے غیر جانبدار جمہوریت پسند عوام بھی اس فیصلے پر مسرور ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال قابلِ بحث ہی نہیں کہ نواز شریف وطن واپس آئیں گے یا نہیں۔ کوئی سیاستدان ان حالات میں وطن واپسی کے واضح اور غیر معمولی سیاسی فوائد سے محروم رہنا پسند نہیں کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ صدر مشرف ایک ہفتہ قبل اخباری مدیروں سے گفتگو میں جلاوطن سیاسی رہنماؤں کو وطن سے باہر رہنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ عدالتِ عظمٰی کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا رسمی اعلان ایک بات ہے جب کہ اس کے سیاسی عواقب کو برداشت کرنا بالکل مختلف امر ہے۔ قانون میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں جس کی مدد سے صدارتی سطح پر دی گئی معافی کو واپس لیا جا سکے۔ البتہ ایسے مقدمات کی سماعت دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے جن پر ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا۔  | شدید جذبات   چیف جسٹس کی حمایت میں تحریک سے لے کر اے پی ڈی ایم کے جلسوں تک یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ عوام سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف شدید جذبات رکھتے ہیں۔ اگر مشرف حکومت نے نواز شریف کو گرفتار کیا تو شدید ردِ عمل سامنے آئے گا۔  |
اس ضمن میں حکومت کی بنیادی مشکلات کے ڈانڈے موجودہ عوامی رجحان نیز پیچیدہ ملکی اور غیر ملکی صورتِ حال سے ملتے ہیں۔ چیف جسٹس کی حمایت میں تحریک سے لے کر اے پی ڈی ایم کے جلسوں تک یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ عوام سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف شدید جذبات رکھتے ہیں۔ اگر مشرف حکومت نے نواز شریف کو گرفتار کیا تو شدید ردِ عمل سامنے آئے گا۔ دوسری طرف انہیں آزادی سے سیاسی عمل میں شرکت کا موقع ملا تو وہ انتخابات میں شدید اتھل پتھل پیدا کر دیں گے۔ شاید اسی خدشے کے پیشِ نظر آٹھ اگست کی رات کو مشرف حکومت سے ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور کر رہی تھی۔ باخبر حلقوں کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ محض بیرونی مداخلت کے باعث روکنا پڑا۔ ایسے بیرونی عوامل تو اب بھی موجود ہیں۔ قبائلی علاقوں میں تصادم کی صورت حال گھمبیر سے گھمبیر تر ہو رہی ہے۔ امریکہ کی موجودہ حکومت اپنے آخری برس سے گزر رہی ہے اور ممکنہ صدارتی امیدواروں کے بیانات سے عوامی رجحانات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ چنانچہ پاکستانی حکومت مخمصے کا شکار ہے کہ نواز شریف کو آزادانہ طور پر سیاسی عمل میں حصہ لینے دیا جائے یا ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔ عدالتی فیصلے سے آن کی آن میں ملک کا سیاسی توازن درہم برہم ہو گیا ہے۔ ہفتہ بھر پہلے تک معلوم ہوتا تھا کہ پیپلز پارٹی انتخابات میں آسانی سے سادہ اکثریت حاصل کر لے گی۔ نواز شریف کے ملک میں موجود ہوتے ہوئے یہ بات ایسے یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ سرکاری مسلم لیگ کا رنگ تو اڑنے سے پیشتر بھی زرد ہی تھا۔ اب تو شاید اس پر مزید پانی پھر گیا ہے۔
 | رنگ زرد ہے   سرکاری مسلم لیگ کا رنگ تو اڑنے سے پیشتر بھی زرد ہی تھا۔ اب تو شاید اس پر مزید پانی پھر گیا ہے۔  |
پاکستان میں اس وقت بنیادی سوال سیاسی قوتوں اور فیصلہ ساز فوجی حلقوں میں آیندہ تعلقات کی نوعیت سے تعلق رکھتا ہے۔ اگرچہ پرویز مشرف کو بیرونی دنیا میں ابھی تک خاصی تائید حاصل ہے مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ بحرانی سیاسی صورتِ حال میں عسکری حلقے صدر مشرف کی غیر مشروط حمایت جاری رکھتے ہیں یا کسی مرحلے پر ادارے کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے عقبی نشست اختیار کر کے سیاسی قوتوں کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع دیتے ہیں۔عدالتِ عظمٰی کے ایک فیصلے نے شہرِ طرب میں امکانات کے ان گنت دوروازے کھول دیے ہیں۔ |