’عرب قومیت زندہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان پر اسرائیلی حملے کے چار ہفتے اب مکمل ہونے والے ہیں۔ اس عرصے میں ایک اندازے کے مطابق سات سو سے زیادہ لبنانی شہری اور کوئی ایک سوسے کچھ کم اسرائیلی شہری اور فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان کے خلاف اپنی فوجی کارروائی اس وقت تک نہیں روکے گا جب تک وہ حزب اللہ کا خاتمہ نہ کر لے جب کہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کو لبنان کی سرحدوں سے نکالنے کے لیئے اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک ان کا ایک فرد بھی زندہ ہے۔ ماہرین اور مختلف خبر رساں اداروں کی اطلاعات کے مطابق اب تک کی لڑائی میں دونوں فریق اپنے اپنے فوری مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نہ اسرائیل حزب اللہ کو زیر کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے اور نہ حزب اللہ اسرائیلی حملے کو پسپا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق یہ ضرور ہوا ہے کہ حزب اللہ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ جوں جوں لڑائی میں شدت آ رہی ہے صرف لبنان میں ہی نہیں بلکہ بلکہ پوری عرب دنیا میں حزب اللہ کی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے۔ پورے عالم عرب میں کوئی ایسا ملک نہیں جو اعلانیہ حزب اللہ کی مخالفت کر سکے، خود عراق کی حکومت نے، جو اینگلو امریکی اتحاد کی پیدا کردہ ہے یہ کہنے میں تاخیر نہیں کی کہ وہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل اور اس کی حامی حکومتوں کو اگر کوئی تشویش ہوسکتی ہے تو یہی کہ وہ اتنی شدید بمباری اور لبنان کے عام شہریوں پر اتنی تباہی اور ہلاکتیں مسلط کرنے کے باوجود انہیں حزب اللہ سے دور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسرائیل اور اس کی حامی حکومتوں کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح عرب قومیت کے تصور کو کمزور کیا جائے اس لیئے کہ جب تک یہ تصور موجود ہے نہ اسرائیل ایک مملکت کے طور پر علاقے میں اپنے آپ کو محفوظ محسوس کر سکتا ہے نہ علاقے میں اس کے سرپرستوں کے مفادات محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یوں تو یہ تصور ہمیشہ سے موجود ہے لیکن اس کو جمال عبدالناصر نے جو مہمیز دی تھی اس نے پورے عالم عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کی ایک مثال خود ناصر کی موت ہے۔ 28 ستمبر 1970 کو پورا عالمِ عرب رویا تھا ،عرب ہی نہیں وہ تمام لوگ روئے تھے جو نو آبادیاتی تسلط سے نجات کے طالب تھے۔
1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اتنی بری شکست کے باوجود عرب دنیا میں ناصر کی اس مقبولیت کی واحد وجہ یہ تھی کہ عرب عوام ان کو عرب قومیت کی علامت تصور کرتے تھے اور اس جنگ میں عرب افواج کو شکست ہوئی تھی عرب قومیت کو نہیں۔ فلسطین میں بھی اسرائیل کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ وہ کسی طرح مذہب یا فرقہ پرستی کی بنیاد پر فلسطینیوں کو آپس میں لڑادے لیکن وہ اب تک اس میں ناکام ر ہا ہے۔ لبنان کے خلاف موجودہ کارروائی کا بھی اصل مقصد یہی ہے کہ اتنی بمباری کرو، ایسی تباہی اور بربادی پھیلاؤ کہ لبنانی اور دوسرے عرب عوام یہ سمجھنے لگیں کہ ان کے مصائب کا سبب حزب اللہ ہے اور وہ اس سے لاتعلق ہوجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ لسانی اور ثقافتی بندھن اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ انہیں بمباری اور گولہ باری سے نہیں توڑا جاسکتا۔ اسرائیل عربوں اور فلسطینیوں کو زیر کرنے میں ناکام رہا ہے اب اسے ان کے دل جیتنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ممکن ہے اس میں کامیاب ہوجائے۔ |
اسی بارے میں لبنان: تازہ اسرائیلی حملے، شہری ہلاک07 August, 2006 | آس پاس متفقہ قرارداد میں ہفتوں لگ سکتے ہیں07 August, 2006 | آس پاس قرارداد توقعات پر پوری نہیں اتری06 August, 2006 | آس پاس موجودہ قرار داد قبول نہیں: لبنان06 August, 2006 | آس پاس فوجیوں سمیت 15 اسرائیلی ہلاک06 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||