BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 February, 2008, 18:12 GMT 23:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرداری،مشرف مشینری،مفاہمت

زرداری
’پی پی پی کے مینڈیٹ کےخاتمے کے لیے مشرف مشینری نے این آر او کا لیور ہاتھ میں لیا ہے‘
اٹھارہ فروری کے انتخابات میں پاکستان کے عوام نے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو مسترد کر کے ایک طرح سے ان کو واپسی کا راستہ دکھا دیا ہے لیکن جنرل ریٹائرڈ مشرف کے مصاحبین و مشیر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری کو بینظیر بھٹو اور صدر مشرف کی’مفاہمت‘ کا پاس رکھنے کے لیے کیےگئے وعدے وعید یاد دلانے اور ان پر عمل کرنے کے لیے زور دیتے نظر آ رہے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کی ثالثی سے جنرل مشرف اور پاکستان پیپلزپارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کے نتیجے میں ایک مفاہمت ہوئی تھی۔

یہ اور بات ہے کہ اس کی پہل جنرل مشرف کی طرف سے ہی ہوئی تھی اور گذشتہ کئي مہینوں سے فریقین اور خاص طور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے بار بار اس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزمات بھی لگتے رہے ہیں۔ فریقین بینظیر بھٹو کی زندگي میں ہی اس مفاہمت کے ختم ہو جانے کی بھی بات کرتے رہے تھے۔

یہ معاہدہ کیا تھا؟

بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری سنہ دو ہزار چھ کے اوائل تک بھی مغربی اور خاص طور امریکی حکومت اور میڈیا کی نظر میں ایک کرپٹ حکمران جوڑا تھا جس نے مبینہ طور پر کروڑہا ڈالر لوٹ کر بیرونِ ملک بینکوں میں رکھے ہوئے تھے اور پاکستان اور یورپ میں مقدمات کا سامنا کر رہے تھے اس وقت بھی بینظیر بھٹو کی موجودگی کی فقط اتنی اہمیت تھی کہ وائٹ ہاؤس کے مشہور سالانہ دعائیہ ناشتے کی تقریب میں صدر بش تو درکنار ان کی سیکرٹری خارجہ کونڈا لیزا رائیس نے بھی انہیں فقط دور ہی سے ہاتھ ہلا کر سلام کیا تھا۔

یہ وہ دن تھے جب بظاہر علاج کی غرض سے نیویارک میں میڈیسن ایونیو کے ایک اپارٹمنٹ میں اپنے کتے میکس کے ساتھ بہت ہی ’لو پروفائل‘ میں رہنے والے آصف علی زرداری کو بینظیر بھٹو نے میڈیا سے کوئي بھی بات کرنے اور کسی بھی صحافی سے ملنے سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔

 بینظیر بھٹو کی امریکہ میں لابیئنگ اپنی جگہ، لیکن پاکستانی فوج اور اس کی ایجنسیوں کا دہشتگردی کی جنگ میں دہرا، تہرا کردار تھا جس سے امریکی انتظامیہ اور پینٹاگون نے مایوس ہوکر بینظیر بھٹو کی شکل میں پاکستان میں ایک اعتدال پسند اور سیاسی نعم البدل پا لیا تھا۔

پھر کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے پاکستان کے اس حکمران جوڑے نے واشنگٹن ایریا میں صدر بش کے ذاتی اور خاص پادری سے راہ و رسم پیدا کر لی جن کے ذریعے صدر بش اور ان کی انتظامیہ کے دل میں انہوں نے اپنے لیے ایک نرم گوشہ پیدا کروا ہی لیا۔

بینظیر بھٹو کے پرانے دوستوں پیٹرگلبرائتھ اور مارک سیگل کے توسط سے انہوں نے واشنگٹن اور نیویارک سے اپنے لیے زبردست لابیئنگ شروع کر دی جس میں مبینہ طور پر اہم کردار حسین حقانی نے بھی ادا کیا۔ بینظیر بھٹو امریکی پرنٹ میڈیا کے مشہور اخبارات میں متواتر مضامین لکھتی رہیں۔

وہ امریکی نسل اور لوگ جنہوں نے صرف پاکستان سے کوئي اچھا چہرہ اور خیر کی خبر نہیں سنی تھی ، اور ٹی وی پر پاکستان کے متعلق آتی ہوئی خبروں میں یا تو مشرف دیکھا تھا یا پھر اسامہ بن لادن کی تصاویر اٹھائے ہسٹریائي داڑھی پوشوں کے ہاتھوں امریکی پرچم نذر آتش ہوتے دیکھا تھا یا پھر دہشتگردی کے پیچھے مبینہ پاکستانی ہاتھ کے کار فرما ہونےکی خبریں، ان کے لیے پاکستان سے ایک خوبصورت عورت اور’آکسبرج‘ لہجے میں فرفر انگریزی بولتی جمہوریت اور اعتدال پسندی کی باتیں کرتی شخصیت بہت ہی متاثر کن تھی۔

مجھے یاد ہے کہ جب گذشتہ خزاں میں پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف نیویارک میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر پاکستان مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہروں میں زیادہ تر عمران خان اور شریف برادران کی تصاویر اٹھائے ہوئے مظاہرین سے ایک راہ چلتے امریکی نوجوان نے پوچھا تھا ’بینظیر بھٹو کی تصویر کیوں نہیں، وہ حیرت انگیز شخصیت ہیں‘۔

بینظیر بھٹو کی امریکہ میں لابیئنگ اپنی جگہ، لیکن پاکستانی فوج اور اس کی ایجنسیوں کا دہشتگردی کی جنگ میں’دہرا، تہرا‘ کردار تھا جس سے امریکی انتظامیہ اور پینٹاگن نے مایوس ہوکر بینظیر بھٹو کی شکل میں پاکستان میں ایک اعتدال پسند اور سیاسی نعم البدل پا لیا تھا۔ بقول ایک امریکی صحافی کے ’ایک ایسا شخص جس کے لبرل ہونے اور امریکی خارجہ پالیسی کے درمیان بمشکل ایک امتیازی لکیر نظر آتی تھی‘۔

 امریکہ کا مسئلہ مشرف کی ذات سے زیادہ، بقول ایک امریکی صحافی ’اس قانونی حیثیت کا ہے جس کا حامل اتحادی علاقے میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ساتھ دینے کا مینڈیٹ رکھتا ہو اور جو جنگ پانچ سال سے زیادہ عرصہ بھی جاری رہے رہ سکتی ہے‘۔ عملاً وہ مینڈیٹ ظاہر ہے کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے پاس نہیں رہا، دوسرے لفظوں میں مشرف کی صدارت جانکنی میں مبتلا وہ مریض ہے جس کی آکسیجن کاٹ لی گئی ہے پر وہ بیساکھیوں پر زندہ رہنے کی کوشش میں ہے۔

بینظیر نے ان کے قتل کے بعد حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب’ریکسنلیئیشن‘ ( مفاہمت) میں لکھا ہے وہ اگست دو ہزار چھ میں نیویارک میں تھیں جب جنرل مشرف نے انہیں ٹیلیفون کر کے مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جو اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے، ان مذاکرات میں اہم حصہ لیا تھا۔

جنوری دو ہزار سات میں ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیاں پہلی خفیہ ملاقات ہوئی اور بینظیر بھٹو نے لکھا’میری توقعات کے برخلاف یہ ملاقات نہایت ہی خوشگوار تھی‘۔

کہا جاتا ہے کہ بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان سیل فون نمبروں کا تبادلہ ہوا اور وہ جولائی دو ہزار سات سے قبل تک کئی بار ٹیلیفون پر بات چیت بھی کرتے رہے تھے۔

معروف امریکی صحافی اسٹیو کول نے ہفت روزہ ’نیویارکر‘ میں لکھا ہے کہ مشرف۔ بینظیر مذاکرات کی کامیابی کے لیے بش انتظامیہ نے زبردست اثرو رسوخ استعمال کیا اور سیکرٹری خارجہ کونڈالیز رائس اور ڈپٹی سیکرٹری رچرڈ باؤچر ان مذاکرات کو کسی سمجھوتے پر منتج کرنے کیلیے نہایت سرگرم رہے تھے۔

مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیاں مفاہمت کے نکات جنرل پرویز مشرف کی وردی اتارنے کے بعد پارلیمان سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے پی پی پی کی طرف سے خفیہ حمایت اور اس کے بدلے میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے زیر سماعت مقدمات کی واپسی شامل تھی۔

بینظیر نے ان کے قتل کے بعد حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب’ریکسنلیئیشن‘ ( مفاہمت) میں لکھا ہے وہ اگست دو ہزار چھ میں نیویارک میں تھیں جب جنرل مشرف نے انہیں ٹیلیفون کر کے مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جو اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے، ان مذاکرات میں اہم حصہ لیا تھا۔

مفاہمت پر مشرف حکومت کی طرف سے مخلص ہونے کی پیشگی شرط بینظیر بھٹو کی جلاوطنی سے وطن واپسی اور انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے انتخابی مہم چلانے کی پیشگی شرط بھی شامل تھی۔

بینظیر بھٹو کی اٹھارہ اکتوبر کو جلاوطنی سے واپسی کے بعد کراچی میں ان کے لاکھوں لوگوں کے استقبالی جلوس پر خود کش حملے سے لے کر ان کے راولپنڈی کے لیاقت باغ کے جلسے میں قتل ہونے سے چند لحظہ پہلے تک بینظیر بھٹو جنرل ریٹائرڈ مشرف کی طرف سے ان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی نہ فقط خلاف ورزیوں کی شکایات کرتی رہی تھیں بلکہ ان کو خط لکھ کر دو اعلیٰ حکومتی شخصیات کے ان کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا بھی کہا تھا۔

اب جبکہ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی عوام کا ٹھیک ٹھاک مینڈیٹ لے آئی ہے تو اس مینڈیٹ کو مارنے کیلیے مشرف مشینری نے ایک اور لیور ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے اور وہ ہے بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری سے کیا ہوا معاہدہ جیسے سرکاری طور ’قومی مصالحت آرڈیننسس‘ کہا جا رہا ہے۔

امریکی سول سوسائٹی اور میڈیا کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں براہ راست
یا بلاواسطہ فوجی راج کے خاتمے کا خواہاں نظر آتا ہے جبکہ امریکی انتظامیہ میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو بقول امریکی تجزیہ نگاروں کے، یہ سمجھتے ہیں کہ’آئندہ امریکہ کو جس کا بھی ساتھ دینا چاہیے سوچ سمجھ کر دینا چاہیے کہ پھر پچھتانا یا پاکستان کے عوام کی خفگی کا سامنا نہ کرنا پڑے‘۔

صدر مشرفلش پش وردی
’گڈ فرائيڈے‘ پر حسن مجتبیٰ کا کالم
کابل جرگہ محبوب اور کالی لکیر
پشتون سرحد کو کالی لکیر کہتے ہیں
جنرل مشرف، بینظیر بھٹورمیش اور مفاہمت
ضیاء کے بعد اس سے بڑا فراڈ ہو نہیں سکتا تھا
ایمرجنسیآمریت کا ہاتھی
’آپ ایک ڈکٹیٹر سے کیا توقع کر سکتے ہیں‘
نواز’لنگھ آ جا پتن۔۔۔‘
’جان بچاؤ تحریک سے ملک بچاؤ تحریک تک‘
جی ایم سیدجی ایم سید
’مسلم لیگ میں نہ جاتے تو سندھی گاندھی ہوتے‘
ذوالفقار علی بھٹوبھٹو نہ چھوڑے
’جن چھوڑے بھوت چھوڑے بھٹو نہ چھوڑے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد