BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 January, 2008, 13:29 GMT 18:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دیارِ دل، داستانِ محبت ‘

جی ایم سید
جی ایم سید پاکستان میں اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ قید و نظربند رہے
آج (سترہ جنوری) اس آدمی کا جنم دن ہے جس نے ایک چیز بڑی محنت اور محبت سے بنائي تھی اور آخر میں اس کے ٹوٹ جانے کے لیے لوگوں سے دعا کو ہاتھ اٹھانے کا کہا کرتا۔ ان کی محبت اور محنت سے بنائي ہوئی یہ چیز تھی پاکستان۔

ان کی ذاتی لائبریری میں جناح سمیت برصغیر کی تحریک آزادی کے تمام رہنماؤں سے خط و کتابت کی کئي فائلوں میں سر شاہنواز بھٹو کا وہ پوسٹ کارڈ بھی شامل ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو کے ختنے کی دعوت کے طور پر جی ایم سید کو بھیجا تھا۔ اس تقریب میں جاکر سید شریک بھی ہوئے تھے۔ پھر وہ اپنی تصانیف میں جا بجا جناح کو انگریزوں کا اور بھٹو کو پنجاب کا ’شو بوائے‘ قرار بھی دیتے رہے تھے۔

دنیا میں جی ایم سید شاید نیلسن منڈیلا کے بعد سب سے زیادہ قید کاٹنے والے قیدی تھے۔ وہ شاید نیلسن منڈیلا سے بھی آگے جاتے تھے کیونکہ نیلسن منڈیلا کو تو پھر بھی اس وقت کے نسل پرست جنوبی افریقہ کی کسی نہ کسی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ پاکستان میں جی ایم سید کو اپنی ربع صدی سے بھی زائد قید کے دوران کبھی بھی کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ ان کی وفات بھی ایام اسیری کے دوران ہی ہوئی۔

وہ سندھ میں کبھی ہندو مسلم فرقہ وارانہ فسادات کے بانی بھی تھے تو پاکستان میں اسلامی بنیاد پرستی کیخلاف علی الاعلان قلمی اور فکری جنگ لڑنے میں بھی پیش پیش تھے۔ ان پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے تو کفر کے فتوے بھی لگے اور غداری کی تہمتیں بھی۔

اگر وہ کانگریس سے مسلم لیگ میں نہ گئے ہوتے تو ’سرحدی گاندھی‘ خان عبدالغفار خان کی طرح سندھی گاندھی کہلاتے۔ وہ جو جناح پر قاتلانہ حملے میں ان کے ہلاک ہو جانے کی افواہ سن کر دھاڑیں مار کر رونے لگے تھے۔ جی ایم سید جنہوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ سندھ سے وہ ہندؤوں کو ایسے نکالیں گے جیسے ہٹلر نے جرمنی سے یہودیوں کو نکالا تھا۔ پاکستان کی قرارداد سندھ اسمبلی میں پیش کرنے والے سید نے بعد میں آنے والے وقتوں میں اسے اپنا ’عظیم تاریخی گناہ‘ قرار دیا تھا۔

 انیس سو بہّتر میں مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بننے کے بعد انہوں نے بھی سندھ کی آزادی ’سندھو دیش‘ کی شکل میں حاصل کرنے کی بات کی اور سندھ متحدہ محاذ کو ’جیے سندھ متحدہ محاذ‘ میں تبدیل کیا لیکن ان کے اثر و فکر کا اصل حلقہ نوجوان سندھی قوم پرست اور خاص طور سندھ یونیورسٹی سمیت سندھ کے دیگر تعلیمی اداروں میں جیے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوان کارکن رہے۔

غلام مرتضی المعروف جی ایم سید سترہ جنوری انیس سو چار کو دادو ضلع کے گاؤں سن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد شاہ کو خاندانی دشمنی کی بناء پر قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ اپنے جد امجد سید حیدر شاہ سنائي کی درگاہ کے سجادہ نشین تھے۔

سید کی تمام پرورش گھر کی عورتوں اور تعلیم و تربیت بشمول سندھی، فارسی و انگریزی خانگي ٹیچروں کے پاس گھراورگاؤں سن میں ہی ہوئي تھی۔ اپنے اساتذہ حامد علی میمن، ریوا چند بالچند اور قاضی محمد ہاشم سے اس وقت برصغیر اور مسلم دنیا کے سیاسی حالات و تحاریک کے بارے میں بھی سید کو علم حاصل ہوا۔

یہ زمانہ ہندوستان میں خلافت کی تحریک کا زمانہ تھا-

سولہ سال کی عمر میں سید نے لاڑکانہ میں ہونیوالی تین روزہ خلافت کانفرنس میں شرکت کی جس میں مولانا ابواالکلام آزاد سمیت برصغیر کے بڑے بڑے قوم پرست رہنما شریک ہوئے تھے جن میں باری میاں فرنگ محلی بھی شامل تھے۔

بعد میں جی ایم سید نے ایک ایسی خلافت کانفرنس کی میزبانی اپنے گاؤں سن میں بھی کی تھی۔ سن کے سٹیشن پر وہ چودہ سال کی عمر میں گاندھی کے استقبال کے لیے بھی گئے تھے جب وہ وہاں سے سندھ کے دورے کے دوران گزرے تھے۔ جی ایم سید نے گاندھی سے متاثر ہوکر کھدر کا لباس اور چرخہ بھی اپنا لیا۔

لیکن پھر وہ آل آنڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوکر سندھ میں ہندو مسلم فرقہ واریت کے داعی بھی بنے تھے جب انیس سو تیس کی دہائي میں سکھر میں مسجد منزل گاہ کے قریب مسجد مندر مسئلے پر ہندو مسلم فسادات میں کئي لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

جی ایم سید نے آل آنڈیا مسلم لیگ سندھ کے صدر کی حیثیت سے پاکستان بننے سے بھی کئي برس قبل انیس سو تیس کی دہائي میں بہار میں فسادات کے متاثرین مسلمانوں کو سندھ میں آ کر بسنے کی اپیل کی تھی جس پر ایک بڑی تعداد میں بہاری مسلمان سندھ میں آباد ہوئے جس میں مشہور بہاری مہاجر رہنما مولانا عبدالقدوس بہاری بھی شامل تھے۔

برصغیر میں تحریک آزادی کے دوران وہ سندھ میں سب سے زیاد مقبول مسلم لیگي رہنما تھے جو جب کراچی میں قائداعظم کو پہلی بار سندھ میں مدعو کر کے نیپیئر روڈ پر جلسے سے خطاب کرنے کو لائے تھے تو انہیں زیادہ تر عوام نہیں جانتے تھے۔

سندھ اسمبلی میں اکثریت سے پاکستان کی قرارداد پاس کروا کے پاکستان بنانے میں بھی جی ایم سید پیش پیش رہے۔ وہ مسلم لیگ میں محمد علی جناح سے اختلاف کرنے والے پہلے اور شاید آخری مسلم لیگي لیڈر تھے۔ اگرچہ ان کے جناح سے اختلافات ان کے مسلم لیگ سندھ میں مبینہ طور سید گروپ کے غلام حیدر شاہ (سابق وزیر اعلی سندہ مظفر حسین شاہ کے والد) کو انتخابات میں ٹکٹ نہ دینے پر ہوئے لیکن سید اور ان کے حامی اسے’سندھ کے مفادات پر‘ اختلافات قرار دیتے رہتے تھے۔

جناح نے بعد میں ان کے خلاف قاضی محمد اکبر کو انتخابی ٹکٹ دیا اور مبینہ زبردست دھاندلیوں سے جی ایم سید کو شکست ہوئی۔ بعد میں انتخابی عذرداری میں بھی یہ انتخابات باطل قرار پائے اور دھاندلیوں کا اعتراف قاضی محمد اکبر نے اپنی زندگي کے ایک آخری انٹرویو میں بھی کیا تھا۔ یہ جناح کی زندگي میں ہی جی ایم سید کے خلاف انتخابات میں دھاندلیوں کی پہلی تاریخ ہے۔

News image
 جی ایم سید نے آل آنڈیا مسلم لیگ سندھ کے صدر کی حیثیت سے پاکستان بننے سے بھی کئي برس قبل انیس سو تیس کی دہائي میں بہار میں فسادات کے متاثرین مسلمانوں کو سندھ میں آ کر بسنے کی اپیل کی تھی جس پر ایک بڑی تعداد میں بہاری مسلمان سندھ میں آباد ہوئے

جی ایم سید پاکستان میں اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ قید و نظربند رہے جو پیپلز پارٹی کے پچھلے دور حکومت میں ان کی آخری سانسوں تک جاری رہا۔انہوں نے اپنی نظربندی کے دوران زیادہ تر وقت تصنیف و تالیف، کارکنوں اور لوگوں سے ملاقاتوں میں صرف کیا اور انیس سو بہّتر سے ہر سال سترہ جنوری کو اپنی سالگرہ ایک بڑے جلسے کی صورت میں منانے کی شروعات کی جو ان کی عمر کی آخری سالوں تک جاری رہی۔ جی ایم سید کی سالگرہ کا اجتماع سندھی قوم پرستوں کا ایک بڑا دن ہوا کرتا تھا۔

انیس سو پچاس کے عشرے میں وہ سندھ اسمبلی میں ون یونٹ کیخلاف ووٹ کرنے والے صرف تین اراکین میں شامل تھے ( دیگر دو افراد عبد المجید جتوئی اور رئیس غلام مصطفی بھرگڑی تھے)۔ وہ انیس سو اٹھاون میں مغربی پاکستان اسمبلی میں ون یونٹ کیخلاف اکثریتی ووٹ پاس کروانے میں کامیاب ہوگئے تھے کہ ایوب خان نے ملک پر مارشل لاء نافذ کر دیا۔

جی ایم سید سنہ انیس سو اٹھاون سے لے کر سنہ اڑسٹھ تک مختصر وقفوں کے علاوہ ایوب خان کے تمام دور میں نظر بند رہے۔ انہی دنوں میں انہوں نے اپنی متنازعہ کتاب ’جيئيں ڈٹھو آہے موں‘ یا ’جیسا میں نے دیکھا‘ لکھی۔ اس پر ملاؤں نے ان پر کفر کے فتوے لگائے۔

انیس سو چھہتر میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والا ایک گلستان خان نامی شخص انہیں قتل کرنے کیلے ان کے گاؤں سن’مہمان‘بن کر آیا تھا اور صبح کے وقت اس نے جی ایم سید کے سامنے اعتراف کیا کہ راولپنڈي کی مسجد میں اس نے مولوی سے جمعے کے خطبے میں سنا تھا کہ جی ایم سید اور شیخ ایاز، بقول گلستان خان کے، کافر ہو چکے ہیں اور اسی لیے واجب القتل ہیں لیکن اس نے ان کی باتیں سن کر اور انہیں تہجد اور اشراق پڑھتا دیکھ کر اپنا ارادۂ قتل تبدیل کر دیا۔ اگرچہ جیے سندھ تنظیم کے نوجوانوں نے اس شخص کو اس کے مبینہ ہتھیار سمیت پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا تھا لیکن جی ایم سید نے عدالت میں اس شخص کو معاف کر دیا تھا۔

 دنیا میں جی ایم سید شاید نیلسن منڈیلا کے بعد سب سے زیادہ قید کاٹنے والے قیدی تھے۔ وہ شاید نیلسن منڈیلا سے بھی آگے جاتے تھے کیونکہ نیلسن منڈیلا کو تو پھر بھی اس وقت کے نسل پرست جنوبی افریقہ کی کسی نہ کسی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ پاکستان میں جی ایم سید کو اپنی ربع صدی سے بھی زائد قید کے دوران کبھی بھی کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ ان کی وفات بھی ایام اسیری کے دوران ہی ہوئی۔

انیس سو بہّتر میں مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بننے کے بعد انہوں نے بھی سندھ کی آزادی ’سندھو دیش‘ کی شکل میں حاصل کرنے کی بات کی اور سندھ متحدہ محاذ کو ’جیے سندھ متحدہ محاذ‘ میں تبدیل کیا لیکن ان کے اثر و فکر کا اصل حلقہ نوجوان سندھی قوم پرست اور خاص طور سندھ یونیورسٹی سمیت سندھ کے دیگر تعلیمی اداروں میں جیے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوان کارکن رہے۔

جیے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کا رکن بننا کالج جانے والے اکثر سندھی نوجوانوں کا شوق ہوتا تھا اور ’ٹہکہ‘ بھی۔ آصف علی زرداری بھی کچھ عرصے کے لیے جیے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ممبر بنے رہے تھے۔

حیرت ہے کہ ڈاکٹر کرشنا مینن اورگاندھی سے سخت متاثر اور ساری عمر عدم تشدد کی بات کرنے والے سید کی جیے سندھ کے کئي نوجوان کارکنوں نے تشدد اور جرائم کا راستہ اختیار کیے رکھا جس کا اعتراف سید نے کئی بار برملا کیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں انیس سو تہتر کے متفقہ آئين پر دستخط کرنے کے لیے ولی خان سمیت نیپ کے پشتون اور بلوچ رہنماؤں کے پاس بھیجا تھا۔ بھٹو انہیں اندرا گاندھی سے شملہ مذاکرات کے لیے اپنے وفد میں بھی لے جانا چاہتے تھے لیکن بعد میں ان کا نام واپس لے لیا گیا تھا۔

اگرچہ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے بعد سندھ میں فوجی عدالتوں سے سب سے زیادہ قید اور کوڑوں کی سزائيں کھانے والے جیے سندھ کے کارکن تھے لیکن وہ جب بیمار تھے تو ان کی ‏عیادت کو فوجی آمر جنرل ضیا ءالحق ہسپتال میں ان سے ملنے آئے تھے جسے اکثر سندھی عوام نے کبھی پسند نہیں کیا۔

ضیاءالحق کی حکومت نے انہیں بھارت کا دورہ کرنے کی اجازت بھی دی تھی جس میں ایک مرتبہ وہ وہاں زیرعلاج خان عبدالغفار خان کی عیادت کو گئے تھے۔ان کے وفد کے ایک رکن کو بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں نے روک کر پاکستانی فوج کے مشتتبہ جاسوس کے طور پر پوچھ گچھ کی تھی۔

جی ایم سید مئی انیس سو پچانوے میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے دوران اکانوے سال کی عمر میں نظربندی کے دوران ہسپتال میں فوت ہوئے اور ان کے آخری وقت تک انہیں پیرول پر رہائی سے انکار ہوتا رہا۔

پیپلزپارٹی کے جیالے اپنی جگہ لیکن پاکستان میں وقت کی حکومتوں، قید، کوڑوں اور ٹارچر سیلوں میں جیے سندھ کے بہت سے کارکن اور رہنما پابند سلاسل یا لاپتہ رہے ہیں ہیں جن کی مشرف دور میں ایک مثال ڈاکٹر صفدر سرکی، آصف بالادی سمیت جیے سندھ کے کئی کارکن ہیں۔

ڈاکٹر صفد سرکی جی ایم سید سے پہلی ملاقات کا تذکرہ یوں کرتے جیسے وہ اپنے پہلے عشق یا معشوق کی کہانی بتا رہے ہوں۔ سندھی شاعر نیاز ہمایونی نے جی ایم سید کے لیے ہی کہا تھا

’تیرا پرتو پڑا جس بھی نادار پر
عشق نے دولت عطا کی اسی یار کو‘

اسی بارے میں
جی ایم سید کی تصویر خارج
16 August, 2007 | پاکستان
جئے سندھ کا لانگ مارچ ختم
12 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد