جی ایم سید پر صوبے اور وفاق کا تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے محکمہ تعلیم نے نصاب میں قوم پرست رہنما جی ایم سید اور مسلم لیگی رہنما خان بہادر ایوب کھوڑو کی تصاویر اور ان کے بارے میں مواد شامل کرنے پر وفاقی حکومت کے اعتراضات کو رد کیا ہے۔ سندھ کے نصاب میں قوم پرست سیاست کے بانی جی ایم سید اور سابق وزیر اعلیٰ خان بہادر ایوب خان کے مضامین اور تصاویر کو چوتھی کلاس کی معاشرتی علوم کی کتاب میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت نے اعتراض کیا تھا۔ وفاقی محکمہ تعلیم کی جانب سے تحریر کیے گئے ایک خط میں جی ایم سید اور ایوب کھوڑو کے مضامین اور تصاویر کو شامل کرنے کو نصابی اور درسی کتاب کے انیس چوہتر کے ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور انہیں خارج کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سندھ کے صوبائی محمکہ تعلیم نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ جی ایم سید اور ایوب کھوڑو کی تصاویر نصاب میں نظرثانی کے فیصلے کے تحت شامل کی گئی ہیں تاکہ بچوں کو تاریخ کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جاسکے کیونکہ پرانا نصاب موجودہ وقت اور تاریخ کے تقاضوں کو پورا نہیں کرپا رہا ہے۔ صوبائی محکمہ تعلیم کے مطابق نصاب میں کچھ اور تبدیلیاں زیر غور ہیں جس سے وزارت تعلیم کو آگاہ کیا جائےگا۔ مسلم لیگی رہنما ایوب کھوڑو کی صاحبزادی اور صوبائی وزیر تعلیم حمیدہ کھوڑو کا کہنا ہے کہ جی ایم سیداور ایوب کھوڑو سندھ کے قومی ہیرو ہیں۔ ان کا ذکر اور تصاویر شامل کرکے انہوں نے کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے انہیں ان کا خط نہیں ملا ہو اس لیئے ایک مرتبہ پھر انہیں تحریری طور پر آگاہ کیا جائےگا۔ پاکستان سٹیڈیز کے استاد اور سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن کے سربراہ لیاقت عزیز کا کہنا ہے کہ جی ایم سید کا ذکر اور تصویر نصاب میں شامل کرنا اچھا قدم ہے کیونکہ پاکستان کے قیام میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جی ایم سید نہ ہوتے تو پاکستان کا قیام عمل میں نہیں آسکتا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کراچی میں انیس سو سینتیس کو مسلم لیگ کے اجلاس میں جی ایم سید نے پاکستان کے قیام کے لیئے قرارداد منظور کروائی تھی جو بعد میں انیس سو اڑتیس کو سندھ اسمبلی سے منظور کروائی گئی۔ لیاقت عزیز کے مطابق لاہور میں چوبیس مارچ انیس سو چالیس کوقیام پاکستان کی قراداد منظور کی گئی تھی۔ اس جلسے میں بھی جی ایم سید موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوب کھوڑو کا تاریخ میں اتنا بڑا کردار نہیں رہا ہے اور سندھ میں بھی ان کا کردار متنازعہ ہی رہا ہے کیونکہ ون یونٹ کا قیام انہیں کی حمایت سے نافذ ہوا تھا ان کا ذکر اگر نصاب سے خارج کیا جاتا ہے تو سندھ کے لوگوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ جی ایم سید کی فکر کی پیروکار تنظیم جئے سندھ قومی محاذ کے چئرمین بشیر قریشی کا کہنا ہے کہ جی ایم سید ایک اٹل حقیقت ہے ان کا سندھ کی سیاست کے علاوہ ادب اور ثقافت کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے لوگ مظلوم ہیں، وفاق ہر وقت کسی نہ کسی طرح ان کے حقوق کی پامالی کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں احتجاج کا کوئی نوٹس تو نہیں لیا جاتا مگر وہ تاریخی حقائق سامنے لانے کے لیئے اس ایشو پر بھی احتجاج کریں گے۔ |
اسی بارے میں نصابی کتب کا تنازعہ پھرگرم20 April, 2004 | پاکستان لیفٹ رائٹ میں پھنسا تعلیمی نصاب22 April, 2004 | پاکستان ’اماں جی‘ نصابی کتابوں میں30 November, 2005 | پاکستان کتاب میں رہیں گے، نصاب میں نہیں 05 December, 2005 | پاکستان متنازع نظم پر بحث جاری07 December, 2005 | پاکستان ’تعلیمی نصاب ازسرِ نو مرتب ہوگا‘20 December, 2005 | پاکستان ’نصاب سےنفرت انگیز مواد خارج‘21 January, 2006 | پاکستان نصاب سے ناراض ُسنّی جماعتیں06 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||