’نصاب سےنفرت انگیز مواد خارج‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں تعلیمی نصاب کے اسلامیات، انگریزی اور اردو مضامین میں سے مذہب، فرقے اور قومیت کے خلاف قابل ِنفرت مواد خارج کیا جائےگا۔ اس بات کا اعلان وفاقی وزیرِ تعلیم جاوید اشرف قاضی نے ہفتے کے روز روٹری کلب انٹرنیشنل کے زیراہتمام ڈسٹرکٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ شمالی علاقہ جات میں جاری ہنگاموں کی وجہ سے نصاب کے ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت پیش آئی۔ ان کے مطابق وہاں اسلامیات کا نصاب خاص طور پر متنازعہ تھا، جس میں دیا گیا طریقۂ نماز صرف ایک مسلک کے عقائد کی نمائندگی کرتا تھا اس لیے اسے ختم کیا گیا ہے۔ جاوید اشرف قاضی نے بتایا کے معاشرتی علوم کے مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کیا جارہا ہے اور اس میں سے جغرافیہ اور تاریخ کو الگ الگ کیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق تاریخ میں وہ کچھ بھی پڑھایا جاتا ہے، جس کی اب ضرورت نہیں رہی ہے اس لیے اسے تبدیل کیا جائےگا۔ پاکستان میں تعلیمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بائیس ہزار سکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے اور اساتذہ کی تنخواہیں کم ہیں جس میں اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’نان فارمل ایجوکیشن پراجیکٹ‘ فنڈ کی عدم دستیابی کے باعث ناکام ہوگیا ہے۔ گیارہ ارب روپے کے اس پراجیکٹ کے لیےصرف ڈیڑھ ارب روپے جاری کیے گئے تھے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ شعبۂ تعلیم میں اصلاحات کے لیے ایک سو ارب روپے مختص کیے گئے تھے مگر ان میں سے صرف سات ارب روپے فراہم کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال سے صدر اور وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا ہے اور انہوں نے اس پروگرام کو نئے سرے سے شروع کرنے کو کہا ہے۔ | اسی بارے میں ’تعلیمی نصاب ازسرِ نو مرتب ہوگا‘20 December, 2005 | پاکستان متنازع نظم پر بحث جاری07 December, 2005 | پاکستان گیارہویں کے امتحان نہیں ہونگے07 December, 2005 | پاکستان کتاب میں رہیں گے، نصاب میں نہیں 05 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||