گیارہویں کے امتحان نہیں ہونگے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں تعلیمی شعبے میں مزید تبدیلی لائی جارہی ہیں۔ اب نویں اور دسویں کے بعد گیارہویں اور بارہویں جماعت کا بھی مشترکہ ایک ہی امتحان لیا جائیگا۔ جبکہ ماڈرن تعلیم نظام اے اور او لیول کو ختم کرنے کی تجویز کو رد کیا گیا ہے۔ کراچی میں منگل کے روز ہونے والی بین الصوبائی تعلیم کانفرنس میں چاروں صوبوں کے محکمہ تعلیم کے وزراء اور وفاقی وزیر نے شرکت کی۔ تعلیمی پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ محکمۂ تعلیم کے وفاقی وزیر جاوید اشرف قاضی نے کانفرنس کے بعد اخباری کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اب پورے ملک میں تعلیمی سال اگست میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ امتحانات اپریل میں لیے جائینگے۔ انہوں نے بتایا کہ نویں اور دسویں کا مشترکہ امتحان دو ہزار سات سے جبکہ گیارہویں اور بارہویں جماعت کا امتحان دو ہزار نو سے لیا جائیگا۔ واضح رہے کہ نئی پالیسی کے تحت اب نویں اور گیارہویں جماعت کے امتحان نہیں ہونگے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ کانفرنس میں تھیوری کی مارکس بڑھاکر پچاسی کرنے جبکہ پریکٹیکل کی مارکس پچیس میں سے کم کرکے پندرہ کی گئی ہیں۔ اسی طرح آبجیکٹو امتحان ختم کرکے بیس مارکس کا ملٹی پل چوائیس سوال کا امتحان لیا جائیگا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پنجاب کے صوبائی وزیر نے تجویز پیش کی کہ اے اور او لیول نظام ختم کیا جائے مگر اس پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ اس لیے اس نظام کو پانچ سال کے لیے جاری رکھا جائیگا۔ اشرف جہانگیر نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ کسی بھی گمنام رائٹر کا مواد نصاب میں شامل نہیں کیا جائیگا۔ ان کے مطابق یہ تجاویز وفاقی کابینہ کو پیش کی جائینگی جس کے بعد جون دو ہزار چھ سے عملدرآمد کیا جائیگا۔ | اسی بارے میں ’نئی کتابوں کوجلا دیا جائے‘10 April, 2004 | پاکستان قابل اعتراض درسی مواد کی تحقیق 11 April, 2004 | پاکستان پاکستانی کتابیں دِلّی میں21 August, 2004 | پاکستان ڈاکٹر قدیرخان پر نئی کتاب 28 October, 2004 | پاکستان لاہور میں مقامی عالمی کتاب میلہ03 March, 2005 | پاکستان نصابی کتاب میں جارج بش پر نظم01 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||