رمیش ادیشی اور قومی مفاہمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایسا ملک جہاں سابق وزیراعظموں میں سے ایک کا ذاتی گھر شُوگر مل کا پرمٹ جاری کرنے کے عوض بنوا کر اسے تحفے میں دے دیا گیا ہو اس پیارے پاکستان کے سولہ کروڑ لوگوں میں اگر صرف کوئی مبینہ طور پر’ کرپٹ‘ آدمی ہے تو اس کا نام رمیش ادیشی ہے! رمیش ادیشی اس کراچي میں لینڈ یوٹلائزیشن افسر تھے جہاں جرنیلوں اور اعلٰی عدالتوں کے ججوں کو ڈیفنس اور کلفٹن میں پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں وہاں احتساب کے ترازو اور پبلک آفس رکھنے والوں کی کشتی میں صرف رمیش ادیشی بھاری ثابت ہوا ہے اور اسے بار بار سزا دی گئی ہے۔ رمیش ادیشی جیسی مکھیاں پاکستانی جہانِ انصاف کے تار عنکبوت میں پھنس جاتی ہیں جبکہ قومی مفاہمتی کّٹے وہاں سے گزر جاتے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ انیس سو اٹھاسی سے ننانوے تک حکومت کرنے والے سول و فوجی حکام اور ایجنسیوں نے ایک دوسرے کی بدعنوانی اور ڈاکہ زنیوں کی فائلیں ایک دوسرے کو دکھا کر ایک دوسرے کو خاموش کر دیا ہے اور اسے قومی مفاہمت کا نام دے دیا گیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مخدوم امین فہیم اب بھی سندھ میں ڈاکوؤں کو عام معافی دینے کے حق میں ہیں کہ نہیں۔
یہ اور بات ہے کہ پاکستانی تاریخ میں احتساب اور انتقام کے بیچ میں کوئي زیادہ فرق کبھی نہیں رہا۔ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کی تاریخ ایوب خان کے زمانے سےشروع ہوتی ہے جب الیکٹِو ڈس کوالیفیکیشن آرڈر یا ’ایبڈو‘ اور ’پروڈا‘ کے تحت ٹرائبیونل قائم کر کے مخالف سیاستدانوں یا ایوب خان کے اس وقت کے ناپسندیدہ سیاستدانوں، جن میں ان کے سابق وزیر دفاع اور سندھ میں بیک وقت مرد آہن اور ون یونٹ کی حمایت کے وجہ سے سندھ کے غدار کہلانے والے محمد ایوب کھوڑو ، پنجاب کے فیروز خان نون اور مشرقی پاکستان کے حسین شہید سہروردی سمیت قریباً سات ہزار لوگوں اور سیاستدانوں پر مقدمات قائم کر کے انہیں جیل بھج دیا گیا تھا اوربعض کو سزائيں دلوا کر نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ شاید یہی زمانہ تھا جب فیض ااحمد فیض نے شاہی قلعہ لاہور میں یہ شعر کہے تھے:
ایوب خان کے ’ایبڈو‘ اور ’پروڈا‘ کے بعد جب جنرل یحیٰی خان آئے تو ان کی فوجی حکومت نے بھی انسدادِ بدعنوانی کے نام پر تین سو تین سرکاری افسران کو نوکریوں سے فارغ کر دیا۔ ان افسروں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اپنی ون یونٹ مخالف تحریک سے ہمدردیوں کی وجہ سے مشہور تھے۔ ان میں مشہور سندھی ماہر لسانیات اور ناول نگار سراج الحق میمن بھی شامل تھے۔ ایوب خان کی حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو پر ان کی زمینوں پر غیر قانونی طور سرکاری بلڈوزر استعمال کرنے اور ہتھیار رکھنے کے مقدمات قائم کیے جو کبھی ثابت نہ ہو سکے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے حکومت میں آنے کے فوراً بعد انیس سو بہتّر میں تیرہ سو سرکاری افسروں کو فارغ کر دیا جن میں ایک خاصی بڑی تعداد سندھ میں ایسے سرکاری افسروں کی تھی جن سے ذوالفقار علی بھٹو یا ان کے وزیراعلیٰ غلام مصطفیٰ جتوئي سمیت پیپلزپارٹی کی حکومت میں آنے والوں کی ذاتی پرخاش تھی۔ مبینہ بدعنوانی کے نام پر سبکدوش کیے جانیوالے ان تیرہ سو افسران میں تب کراچي ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے افسر اور بھٹو کے دوست اور بعد میں سیاسی مخالف اور قومی اسمبلی کے سابق سپیکر الہٰی بخش سومرو بھی شامل تھے۔ وہی ذوالفقار علی بھٹو جب خود سیاسی انتقام پسندی کی بنیاد پر پر ججوں اور جرنیلوں کے عناد کا نشانہ بنے تو ان پر قتل کے مقدمے کے علاوہ مالی بےقاعدگیوں میں مبینہ طور غیر ملکی دوروں سے تحفے میں ملا قیمتی قانوس اپنے ذاتی گھر پر سجانے کا مقدمہ قائم کیا گيا جن میں ان کے مشہور ملازم نورو عرف نور محمد مغل سمیت ذاتی ملازموں کو بھی وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی گئي لیکن ضیاء اور ان کی تمام احتسابی مشینری اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھٹو پر مالی بدعنوانی کا جرم ثابت نہ کر سکی۔ وہ پھانسی چڑھ گئے لیکن انہوں نے جرنیلوں سے’قومی مفاہمت‘ کے نام پر سودے بازی نہیں کی۔
لیکن یہ ضیاءالحق تھے جنہوں نے سیاسی انتقام کو ’احتساب‘ کے ادارے کا نام دیا۔ انہوں نے احتساب کے نام پر انتخابات کو گيارہ سال تک حیلوں بہانوں سے ٹالے رکھا اور احتساب کے نام پر بھٹو کی پھانسی سمیت کئي مخالفین کی گردنیں صاف کر دیں۔ شریف خاندان، ضیا ءالحق اور انکے سمدھی اور ساتھی جرنیلوں اور ان کے خانوادوں نے مبینہ طور پر دن دگنی رات چوگنی کرپشن کی۔ چُھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا۔ ضیاء الحق کی موت کے بعد عام انتخابات ہوئے اورگيارہ سال تک اقتدار سے پرے شاہی قلعوں، ٹارچر کیمپوں اور جلاوطنیوں میں رہ کر آنے والی پیپلزپارٹی تک کو جرنیلوں نے’قومی مفاہمت‘ کے نام پر مشروط اقتدار دیا تو پی پی پی کے ایسے وزیر بھی تھے جنہوں نے کرپشن الیکٹرک شیور خریدنے سے شروع کی۔
پی پی پی کے اس پہلے دور حکومت پر عوامی شاعر حبیب جالب نے کچھ یوں کہا تھا: پی پی پی کے ایک وزیر نے محکمۂ آبپاشی کی ملکیت ایک سو سالہ قدیم ڈاک بنگلے کے ایک ایک حصے پر قبضہ کر کے اسے مسمار کروا کے اس کی جگہ ایک شاپنگ سینٹر اپنے نام پر’ممتاز مارکیٹ‘ بنوایا۔ کوئی بھی حکومت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی کیونکہ وہ صاحب سندھ کے ایک سابق کور کمانڈر کے لنگوٹیا دوست ہیں۔ تصور کریں کہ وہ ذوالفقار مرزا جو لیاقت میڈیکل کالج جامشورو کے ہاسٹلز میں وی سی آر کرائے پر چلاتا تھا اس سمیت زرداری اینڈ کمپنی سندھ میں سولہ شُوگر ملوں کے مالک بن گئے۔ پی پی پی اور مشرف ڈیل تو اس دن ہوچکی تھی جس دن انیس سو چھیانوے کے بعد پہلی بار ذوالفقار مرزا بدین میں منظر عام پر آ گئے تھے۔ صرف زرداری اینڈ کمپنی ہی کیا جب انیس سو نوے میں پیپلز پارٹی کی حکومت کرپشن کے الزمات پر ختم کر دی گئي، جسے بینظیر بھٹو نے ملٹری انٹیلیجنس اور آئي ایس آئی کی سازش قرار دیا تھا، تو غلام اسحاق خان، نواز شریف اور ہر بھٹو مخالف قوت کو آئی ایس آئی اور آئی جے آئي کی چھتری تلے ایک کر کے لوٹ مار کے لیے ملکی خزانے اور بنکوں کے منہ کھول دیے گئے۔ جام صادق علی ہوں کہ ایم کیو ایم حقیقی یا غیرحقیقی و اصلی، فاروق لغاری یا احتساب کے سرغنہ سیف الرحمان۔
اب اس کے کیا معنی کہ جب زرداری بھٹو اور ان کی پاکستان ملٹری انکارپوریٹیڈ نے ایک بات تو ثابت کر دی ہے کہ ان کی نظر میں کرپشن جمہوریت کے جلوس کے اڑتے ہوئے گرد و غبار کے سوا کچھ بھی نہیں۔ قومی مفاہمت کی مذاکراتی ٹیم بھلا ملک رحمان کے ساتھ ایف آئی اے کے اس چوہدری شریف کو بھی کیسے بھول سکتی تھی جو کراچی ائیر پورٹ پر آنے والے ہر نئے وزیراعظم کو شیروانی اپنے ہاتھوں سے پہناتے تھے اور اس دفعہ شاید اجرک یا دوپٹہ پہنائيں۔ کرماں والا ہاؤس کے چوہدری شریف بھی’قومی مفاہمت آرڈیننس‘ کے بہرہ مندوں میں شامل ہیں۔ ضیاءالحق کے بعد پاکستان کے لوگوں سے اس سے بڑا فراڈ ہو نہیں سکتا جو کچھ دن قبل’قومی مفاہمت آرڈیننس‘ کی شکل میں کیا گیا ہے۔ پی پی پی مشرف ڈیل ميں سب سے زیادہ فائدہ کسے ہوا ہے، میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا۔ اس نے کہا’انتہاپسندوں کو‘۔ سب سے بڑا نقصان کسے ہوا ہے۔ ’پاکستان کی سول سوسائٹی کو‘۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ بینظیر تیسری بار وزیر اعظم بن رہی ہیں۔اور کچھ تو نہیں لیکن اسلام آباد کے وی آئی پی لاؤنجوں میں سندھیوں اور پنجابیوں کے الٹیاں کرنے کا زمانہ پھر واپس آ جائےگا۔ خود بلٹ پروف گاڑیوں میں بیٹھ کر یہ رہنما عوام میں تحفظ کا احساس جگانے آئيں گے! حبیب جالب ہوتے تو کہتے: ’اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لُوٹ کو |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||