’بھٹو نہ چھوڑے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جن چھوڑے بھوت چھوڑے بھٹو نہ چھوڑے‘ یہ الفاظ ذوالفقار علی بھٹو عوامی جلسوں میں اپنے مخالفین کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کرتے تھے۔ ان کو اور ان کی اس بات کو تیس برسوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن آج کے پاکستان میں آئندہ ہفتے ہونیوالے انتخابات (اگر ہوئے تو) میں بھی ایک بار پھر جس شدت سے پاکستانی ریاست اور عوام چاہے ان کے مخالفین کو ان کے اس کہاوت نما مقولے کا سامنا ہے اتنا شاید پہلے کبھی نہیں تھا۔ تب بھی نہیں جب ان کو راولپنڈی جیل میں پھانسی دے کر ان کا تابوت ان کے ہی فالکن طیارے میں چکلالہ ایئر بیس سے جیکب آباد ہوائي اڈے پر پہنچا دیا گیا تھا اور پھر جیکب آباد سے لاڑکانہ میں گڑھی خدا بخش کے قبرستان پہنچا دیا گیا۔ پاکستان کے مقبول وزیراعظم اور رہنما کی اپنی ہی جنم بھومی پر ان کے گاؤں میں کرفیو لگا کر ایک لاوارث قیدی کی طرح ان کی سخت فوجی پہرے میں نماز جنازہ اور پھر تدفین۔ ’مردہ بھٹو زندہ بھٹو سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگا‘ عالمی نشریاتی اداروں نے اس کی پھانسی پر پہلے ہی دن کہہ دیا تھا۔ ایک لاغر فاقہ اور اذیت زدہ بھٹو کا پینسل سکیچ شاید کسی مغربی نامہ نگار نے اپنی نوٹ بک پر بنایا تھا۔
وقت پاکستان کی نوٹ بک پر آڑی ترچھی خون میں ڈوبی لکیریں کھینچتا چلا گیا۔ لیکن لگتا ہے پاکستان میں راستے کہیں نہیں جا رہے اگر جاتے ہیں تو گڑھی خدا بخش میں جاتے ہیں۔ سیم اور تھور کے پانیوں کے جوہڑ پر کنول کی طرح اپنا اجلا سفید سنگِ مرمری عکس چھوڑتا ہوا ، جسے مقامی صحافی تاج محل کہتے ہیں، ایک بڑا مزار اور اس میں ایک نہیں چار بھٹو دفن ہیں۔ یہ بھی برصغیر میں ایک عجیب و غریب لو سٹوری ہے۔ سر زمین سندھ کے سارے گلاب ختم ہوچکے لیکن پاکستان کے آنسو ہیں کہ تھمتے نہیں تھمتے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کیلیے مردہ بھٹو زندہ بھٹوؤں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوۓ ہیں۔ ’ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان چھت بغیر اک گھر ہے‘ نیویارک میں بینظیر بھٹو کے چہلم میں قرآن خوانی کرتی ہوئی ایک پی پی پی کارکن عابدہ ستار مجھ سے کہہ رہی تھیں۔ دیواریں ہل رہی ہیں، جنہیں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہی گرنے سے بچا سکتے ہیں۔
کہتے ہیں ستائيس دسمبر دو ہزار سات کو اپنے قتل کے کچھ گھنٹوں پہلے بینظیر بھٹو نے بلاول ہاؤس اسلام آباد میں اپنے پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر کو بلا کر ان کو آئندہ آنیوالے انتخابات میں خفیہ ایجنیسوں خاص طور پر آئي ایس آئی کے ہاتھوں متوقع دھاندلیوں کے متعلق ایک رپورٹ تیار کرنے کو کہا تھا، جو اس دن اپنے لیاقت باغ کے خطاب کے بعد انہوں نے امریکی سینیٹر آرلین اسپیکٹر اور کانگریس مین پیٹرک کینیڈی کے حوالے کرنا تھی۔ لیکن اس سے پہلے ہی وہ ایک اور مردہ بھٹو میں تبدیل کردی گئیں۔ ان کے آبائی اور آخری آرامگاہ والے صوبے سندھ میں ان کے قتل کو باقی پاکستان سے ذرا مختلف لیا گیا ہے۔ محرم سے پہلے ایک اور محرم۔ کالے کپڑے ہیں، سینہ کوبی ہے، بقول سندھی اخبارات ’ہر شخص کی آنکھ اور دل میں فرش عزا بچھا ہوا ہے۔‘ دونوں اطراف سے انتخابات سے پہلے نتیجہ آچکا ہے۔ ’تیر پر ٹھپہ یا سینے پر تیر‘ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں۔ پاکستانی اخبارات اور نجی ٹی وی چینلوں کو ڈرا دھمکا کر یا اشتہارات سے ان کے منہ بند کر دیے گئے ہیں۔ دیکھا آپ نے کہ بینظیر کے چہلم کے دن صرف صحافی نصرت جاوید کے آنے پر ’آج‘ ٹی وی کی نشریات چوبیس گھنٹوں تک بند کردی گئیں۔ اخبارات میں وہ کچھ رپورٹ نہیں ہو رہا جو وہاں سے عوام ایک دوسرے کو ’سینہ گزٹ‘ کے ذریعے سنا رہے ہیں۔
مجھے میرے ایک دوست نے بتایا کہ دادو ضلع، جہاں ’جیئے بھٹو‘ کہنے پر لوگوں کو پی پی پی مخالف امیدواروں کے ذاتی گارڈوں نے اپنے ہتھیاروں کے منہ کھول کر لوگوں کو قتل کیا ہے وہاں پی پی پی کارکنوں اور ووٹروں نے ایک انوکھے احتجاجی طریقے کو دہرایا ہے۔ وہ کرتے یہ ہیں کہ سرکاری حمایت یافتہ مسلم لیگ (قاف) کے امیدواروں کے سامنے بیچ شہر چوک پر برہنہ ہو کر دکھا دیتے ہیں۔ دادو کے لوگوں نے فوجی آمر ضیاءالحق کے سامنے بھی اس طرح کا احتجاج کیا تھا۔ ’جن چھوڑے بھوت چھوڑے بھٹو نہ چھوڑے‘ کا اس سے زیادہ کیا ہوگا کہ آصف علی زرداری جو انیس سو پچاسی میں ضیاءالحق کے حق میں ریفرنڈم کے دوران بمعہ اپنے والد کے نواب شاہ میں ان کے حق میں بیلٹ پیپروں پر ٹھپے لگاتے دیکھے گئے تھے وہ اب بھٹو کی کرسی کے جانشیں ہیں اور کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو انہیں اپنی کرسی سے نہيں قبر سے باندھ کر گئی ہیں۔ اب یہ جی ایچ کیو کا جبر ہے کہ تاریخ کا جبر کہ سیاہ ملبوس آصف علی زرداری کا عوامی اور بینظیر بھٹو کے سوگ کے جلسوں میں انداز خطابت بھٹو کے انداز بیاں کی یاد دلاتا ہے۔ ’ہم وہ ٹولہ ختم کر کے لوٹیں گے یا پھر گڑھی خدا بخش میں دفن ہوجانا ہے‘ وہ آصف علی زرادری جو اس سے پہلے کہا کرتے تھے ’یا سنٹرل جیل یا پرائم منسٹر ہاؤس۔‘ میں چاہوں یا نہ چاہوں لیکن آصف علی زرداری تاحال پاکستان میں ایک اسٹیبلشمنٹ مخالف علامت بن چکے ہیں۔ لیکن مجھے پتہ نہیں کیوں لگتا ہے کہ شاید پاکستان کی تاریخ اور سِوکس سے پولو کھیلنے والی ناعاقبت اندیش اسٹیبلشمنٹ کے تیور اور نیت سے لگتا ہے کہ وہ اسے شیخ مجیب الرحمان بنانا چاہتے ہیں۔
ٹھٹھہ میں اس کی انتخابی مہم کاجلسہ سندھ کے لوگوں کا مشرف اور اس کی قاف لیگ کے خلاف ایک ریفرنڈم تھا۔ وہ ٹھٹھہ جہاں سے ذوالفقار علی بھٹو نے بھی انیس ستر میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا اور اس سے قبل جہاں کا ٹریفک سپاہی ملک شیر علی سڑک پر ڈیوٹی دیتے بھٹو کا دوست بن گیا تھا۔ مجھے نیویارک میں سیالکوٹ کے جاوید احمد بتا رہے تھے کہ ان کے کسی رشتہ دار نے انہیں بتایا ہے کہ سیالکوٹ میں فیکٹریوں اور دکانوں پر پولیس والے جا کر کہہ رہے ہیں کہ ووٹ قاف لیگ کو دینا ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ الیکش کمیشن آف پاکستان اور آئی ایس آئی کا تمام حسنِ کارگردگی اپنی جگہ لیکن جو طریقۂ واردات ارباب رحیم کے باورچی سے ایس ایچ او بنائے ہوئے پیارو حجام اپنائے ہوئے ہیں اس سے تھر میں انتخابات کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ بدنصیب تھریوں سے پاکستان کا خوش نصیب وزیر اعظم شوکت عزیز چنوایا گیا جو بغیر کسی الوداعی تقریب کے راتوں رات ملک سے چلتا بنا۔ تھانیدار، پٹواری، وڈیروں کے منشیوں کے بیٹے یا گود لی ہوئی بیٹیوں کے شوہران ڈی پی اوز، سندھ کے کچے میں ڈاکو اور گجرات کے بیلے میں چھپے اشتہاری ہی اصل میں حقیقی الیکشن کمیشن ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||