BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 September, 2007, 08:16 GMT 13:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سروں کے چراغ جلاتے جیالے

پیپلز پارٹی کے جیالے
ہزاروں پروانوں کی سیاسی کمائي بھٹو خاندان آج تک کھا تا رہا ہے
میرا پاکستان کا قومی شناختی کارڈ اب بھی میرے بٹوے میں موجود ہے جسکا اب اور کوئی بھی مصرف نظر نہیں آتا سوائے اس کے کہ اس پر نکلی ہوئی میری بلیک اینڈ وائیٹ تصویر عبد العزیز پروانے کی کھینچی ہوئی ہے۔ اس تصویر کے ذریعے میری عبد العزیز پروانے سے یادوں کا تار جڑا ہوا ہے۔

عبد العزیر فوٹوگرافر کا ’پروانہ‘ تخلص نہیں تھا بلکہ وہ جل کر پروانہ کہلائے ہیں۔ زندہ آگ میں جل کر۔وہ پیشے کے لحاظ سے فوٹو گرافر اور سیاسی لحاظ سے پاکستان پیپلز پارٹی کا جیالا ہے۔

پروانہ عبد العزیز ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی قید اور پھانسی کے مقدمے کےخلاف خود کو آگ لگائي تھی۔ یہ افراد کراچي سے لیکر پشاور تک تھے اور ان میں نو جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔ عبدالعزیز پروانہ بھی آگ میں جھلس کر سخت زخمی ہوا تھا لیکن بچا لیاگيا اور پھر ایک طویل عرصہ جیل میں رہا۔

’اس شمع فروزاں کو آندھی سے ڈراتے ہو
اس شمع فروزاں کے پروانے ہزاروں ہیں‘

پاکستان میں پیپلزپارٹی کے عبد العزیز پروانے جیسے ہزاروں پروانے ہیں جن کی سیاسی کمائي بھٹو خاندان آج تک کھا تا رہا ہے۔

پی پی پی کے جیالے پاکستان میں ایک فرقہ ہیں۔ یہ لیڈروں کی طرح بقول شخصے، ’فرقہ تصویریہ‘ نہیں بلکہ برصغیر میں عاشقوں کی ایک الگ جنس ہے۔ ان کا موازنہ دنیا میں فٹ بال کے شیدائيوں اور محرم میں ماتم کرنے والوں سے کیا جا سکتا ہے۔

سیاست میں بھٹو کے داخل ہونے سے پہلے ایسے جیالے پن کی مثال صرف پیر پگاڑو کے مریدوں میں ملتی تھی

اگر آج استاد دامن زندہ ہوتے تو اپنا یہ شعر بینظیر اور اس کے جیالوں سے منسوب کرتے ’اے پتر ہٹاں تے نئيں وکدے تو لبھدی پھرے بازار کڑے-‘ کڑے بازار لبھدی تو کیا، وہ ان پر بازار سجائے کھڑی ہے!

پاکستان کی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو کے داخل ہونے سے پہلے ایسے جیالے پن کی مثال صرف پیر پگاڑو کے مریدوں میں ملتی تھی۔ فرقی فقیر اور غیر فرقی ققیر، جنہیں بھٹو اپنی زبان میں ’کچے حر‘ اور ’پکے حر‘ کہا کرتا۔

بھٹو کی اپنی ایک زبان تھی جس سے بھٹو نے لوگ اپنے اسیر اور دشمن بنائے۔ جیسے سندھی میں کہتے ہیں یہی زبان تمہیں دھوپ میں بٹھائے یہی زبان سا‌ئے میں۔

’مائی بلیو آئیڈ بوائے‘ وہ میرے دوست ظفریاب کو کہا کرتے۔ وہ ایک دوسرے صحافی اور فوٹوگرافر ظفر احمد کو ویتکانگ کہا کرتے اور اپنے ملاژم عثمان سومرو کو ’فلیشمین۔‘

مطلب کہ امریکی سلینگ اور اورانگریزی سمیت عالمی ادب سے چناؤ سے لیکر نج سندھی میں حیدرآباد کے بھرے جلسے میں تالپور معززین اور اپنےدوستوں دشمنوں کو گالیاں دینے میں زبان اور اشاروں کی زبان استعمال کرنے تک بھٹو میں سندھی وڈیرا اور سوشلسٹ ساتھ ساتھ رہتے تھے۔

جب لنکنز ان، کیلیفورنیا، لاڑکانے کا وڈیرا، پاکستانی جنگوازم یا بڑھک بازی اور سندھی میراثی ایک شخص میں ساتھ ساتھ آئے تو اس نے ایک زمانہ اپنا گرویدہ بنا دیا۔ اسی لیے ایک بھٹو مخالف شاعر اور ایڈیٹر سردار علی شاہ ذاکر نے ایک دفعہ کہا تھا:
’قوم کی دختر بھی ناچے مادر بھی ناچے
اے دوست اس قوم کا کیا ہوگا حال
جس قوم کا لیڈر بھی اسٹیج پر ناچے‘

بھٹو نے ایک زمانہ اپنا گرویدہ بنا دیا

لیکن لوگوں کو سردار علی شاہ کی شاعری سے کوئی سروکار نہیں تھا، ان کو بھٹو سے عشق ہوگیا تھا۔ سندھ، پنجاب، سرحد، بلوچستان میں، ہر شہر اور گاؤں میں بھٹو کےلئے لوگوں کے پاس اپنی اپنی کہانیاں ہیں اور ہر شہرگاؤں میں پیپیلز پارٹی کے جیالے ہیں جنہیں جاگیردار بھٹو سیاسی طور اپنے زلف تراشیدہ مرید سمجھتے ہیں (زلف تراشیدہ مرید وہ ہوتے تھے جنکی وفاداری کے ثبوت کے طور پر انکے پیر انکی ایک زلف کاٹ دیا کرتے تھے)۔ مگر بھٹو کےساتھ یہ سلسلہ وفا کا ان کے سیاست میں آنے سے بنا تھا جب لوگ پیر ملاں، وڈیرے، جاگیردار اور پرانے ایکٹروں سے تنگ بیٹھے تھے۔

لوگوں کو مداریوں جیسے بھرے مجموعے میں ’اس کی باتیں بہار کی باتیں‘ لگي تھیں۔ مثال کی طور پر: ’ہم ہندوستان سے ہزار سال تک لڑتے رہیں گے‘ ’ زمین کسان کی، ملیں مزدور کی‘ ’سریوال تین وال‘ ’ڈبل بیرل خان‘ وغیرہ۔

جب چند ہفتے قبل بینظیر بھٹو نے اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر سے نیویارک میں ملاقات کی تو مجھے بھٹو کا وہ بیان یاد آیا جس میں انہوں نے اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع کےلئے ایک جلسے میں کہا تھا ’ہم موشے دایان کی دوسری آنکھ بھی نکال دیں گے۔‘ بلاشبہ بھٹو ایک اور دور میں تھا بینظیر ایک اور عہد میں ہیں لیکن جیالے اور جنرل وہی ہیں بھٹو والے۔

بی بی آئي ڈیل لائي
 وہ جیالے، جنہوں نے لاہور ائر پورٹ پر اس کی لندن سے جلاوطنی سے وطن واپسی پر ’بینظیر آئی ہے انقلاب لائي ہے‘ کا نعرہ لگایا تھا اب کے بار کراچي ائرپورٹ پر کیا یہ نعرہ لگائیں گے ’بی بی آئي ڈیل لائي‘ یا پھر یہ نعرہ ’بینظیر کا ایک ہی بھائي الطاف بھائي الطاف بھائي۔‘

پیپلزپارٹی کے جیالے کشور کمار کے ہرگانے کی طرح ہر دور میں جوان ہوتے ہیں۔ یہی وہ جیالے تھے جنہوں نے پہلی بار بھٹو کےلئے اپنی جانیں پیر پگاڑو کے حروں کے قلعے سانگھڑ میں قاتلانہ حملے کے دوران بھٹو کے اوپر برستی گولیوں کے بیچ میں آکر نذر کی تھیں۔

جب ذوالفقار علی بھٹو کے کاروں اور جیپوں کے جلوس پر حملے کے وقت وڈیرے پتلی گلی لینے لگے تھے تو کارکن اس کی گاڑی کے آگے آ گئے تھے۔ گولیوں سے گھائل ہوکر گرنے لگے تھے تو بھٹو اپنی گاڑي سے نکل کر آئے اور کہنے لگے تھے ’مت مارو، میرے ورکروں کو مت مارو، میں ہوں ذوالفقار علی بھٹو مجھے مارو۔‘

وہی جیالے ڈیرہ اسماعیل خان میں تھے اور وہی اس پر حملے کے وقت رحیم یار خان میں اس کی ڈھال بنے سینہ سپر تھے۔یہ پیپلز پارٹی میں چوری کھانے والے نہیں خون دینے والے مجنوں ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت آئے یا جائے وہ بس کبھی ریل میں تو کبھی جیل میں، دربدر خاک بسر۔ یہ خوابوں کے تعاقب کرتے شکاری ہیں۔

ٹھٹھہ کا سرویچ سجاولی ہو کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا غیاث الدین جانباز، روالپنڈی کا چاچا ہمدانی، لاہور کی شاہدہ جبین، اباوڑو کا علم دین، فیصل آباد کا نیر علی ڈار، سیوہن کا مجاہد سومر سولنگی (جو اپنی ننگے سینے پر سوئی سے بینظیر کا پوسٹر ٹانگے جلوسوں میں پھرا کرتا) ، بدین کا ڈاکٹر اسماعيل اوڈھیجو، جوہی کا پیرل کھوسو، حیدرآباد کا مولا بخش چانڈیو، سلیم شاہ، اور کئي۔ علم دین بینظیر بھٹو کی پیجارو کی گرم تپتے مڈگارڈوں کو کئي گھنٹہ اپنے ننگے ہاتھوں سے پکڑے اس کا گارڈ بنا رہتا اور نذر چارن اس کے جلوس میں گاڑیوں میں آ کر مارا گيا۔

آپ نے کبھی کسی پارٹی کے کارکنوں کو سینہ کوبی اور زنجیروں کا ماتم کرتے دیکھا ہوگا تو وہ بھی پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں

ضیاء الحق کا دور آتا ہے اور اس کے مدمقابل جیالوں کی وہ نسل تھی جنہوں نے بھٹو دیکھا بھی نہیں تھا۔ کراچی تا خیبر مقتلوں کی طرف بیڑیاں پہنے۔ ناچتی دھومیں مچاتی مارج کرتی ہوئی ایک نسل۔ جیسے ساحر لدھیانوی نے کہا تھا:

نسل وہ فصل ہے دھرتی کی
آج اگتی ہے کل کٹتی ہے
جیون وہ مہنگي مدھرا ہے
جو قطرہ قطرہ بٹتی ہے

میرے دوست نور حسن کی اب تیسری پود پیپلزپارٹی کی جیالی ہے۔اس پارٹی کی جیالی جس میں انیس سو ستتر میں الیکشن نہیں آخری دفعہ سلیکشن ہوئی تھی اور بینظیر بھٹو جسکی تاحیات چيئر مین ہیں۔

آپ نے کبھی کسی پارٹی کے کارکنوں کو سینہ کوبی اور زنجیروں کا ماتم کرتے دیکھا ہوگا تو وہ بھی پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں۔ ان جیالوں کے سامنے پیپلزپارٹی کا مطلب ہے بھٹو فیملی اور بھٹو فیملی میں بھی صرف بینظیر بھٹو! ’بھٹو فیملی ہیرو ہیرو باقی سارے زیرو زیرو۔‘ یہ نعرہ انہوں نے غلام مصطفی جتوئی کے استقبال کے وقت لگایا تھا۔ ’جتوئي کھر دربدر‘ ایک اور نعرہ جب غلام مصطفی کھر اور غلام مصطفی جتوئي پیپلز پارٹی سے الگ ہوگۓ تھے۔

جب بینظیر بھٹو نے دو دسمبر انیس سو اٹھاسی کو صدر غلام اسحاق خان کے تحت وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا تو انہی جیالوں نے ایوان صدر کے پانچوین فلور پر بھی نعرہ مارا تھا ’زندہ ہے بٹھو زندہ ہے۔‘

میدان میں ملیں گے
 یہی وہ کراچي ائرپورٹ ہے جہاں سے جب وہ انیس سو اسی کی دہائي میں لندن جلاوطنی میں جا رہی تھی تو اس کی کار کی طرف بھاگتے ہوئے صحافییوں سے اس نے بس یہی کہا تھا ’میدان میں ملیں گے۔‘

’اگر شہید بھٹو زندہ ہوتے تو وہ بھی جنرل سے مذاکرات کر رہے ہوتے‘ بینظیر بھٹو نے حال ہی میں جنرل مشرف سے اپنے مذاکرات کے حق میں کہا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان کے اس بیان پر جیالوں کے دل کتنے خوش یا دکھی ہوئے ہوں گے لیکن مجھے معلوم ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ پھر بینظیر بٹھو کے اٹھارہ اکتوبر کو پاکستان آمد کا سن کر کرآچي کے ’خرکار چوک‘ کے نام سے مشہور چوک پر بلاول ہاؤس کے سامنے اپنے خون کے چراغ جلائے ہیں اور آتشبازیاں کی ہیں۔ اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ بارہ مئي کو کراچي میں اپنے لہو کا خراج دیکر اپنی لیڈر کے عارضوں کو گلنار کرنے والے جیالے، جنہوں نے دس اپریل انیس سو چھیاسی کو لاہور ائر پورٹ پر اس کی لندن سے جلاوطنی سے وطن واپسی پر ’بینظیر آئی ہے انقلاب لائي ہے‘ کا نعرہ لگایا تھا اب کے بار کراچي ائرپورٹ پر کیا یہ نعرہ لگائیں گے ’بی بی آئي ڈیل لائي‘ یا پھر یہ نعرہ ’بینظیر کا ایک ہی بھائي الطاف بھائي الطاف بھائي۔‘

یہی وہ کراچي ائرپورٹ ہے جہاں سے جب وہ انیس سو اسی کی دہائي میں لندن جلاوطنی میں جا رہی تھی تو اس کی کار کی طرف بھاگتے ہوئے صحافییوں سے اس نے بس یہی کہا تھا ’میدان میں ملیں گے۔‘

میرے دوست اور بینظیر بھٹو کے پہلے سیکرٹری اشرف میمن ( جو کہ بینظیر بھٹو کو بھی شاذ نادر ہی یاد ہو) کا تکیہ کلام بن گيا تھا ’میدان میں ملیں گے۔‘ اشرف میمن انیس سو اسی کی ہی دہائي میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر لاڑکانہ سے گڑھی خدا بخش جاتے ہوۓ کار حادثے میں مارا گيا تھا۔ پتہ نہیں اب یہ بات کتنی درست ہے کہ غلط کہ لینگزنگٹن ایونیو نیویارک پر ایک شام چلتے چلتے میرا ایک دوست مجھ سے کہہ رہا تھا اسلام آباد میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بار ایسوسی ایشن کے استقبالیے میں آنے سے پہلے بموں کے دھماکوں ممیں مارے جانیوالے پیپلز پارٹی کے جیالوں کا لہو کہہ رہا ہے ’مشرف سے ڈیل نا منظور۔‘

نیویارک نوٹ بک’اک دور کا ماتم‘
گراؤنڈ زیرو پر گیارہ ستمبر کی یاد
نیویارک مجسمۂ آزادیدیسی نیویارک
اپنا و غیر، نیا و پرانا، اور تھوڑا تھوڑا ڈراؤنا
گمشدہ پاکستانی فائل فوٹوکہاں ہیں وہ لوگ
لاپتہ لوگ: انہیں آسماں کھا گیا یا زمین۔۔۔
’ممی ڈیڈی کلاس‘
ملاؤں، جنرلوں کے بعد تیسری بڑی رکاوٹ
 جسٹس افتخار محمد چودھری پاکستانی ’راک سٹار‘
ایسا استقبال امریکہ میں راک سٹارز کا ہوتا ہے
صدر مشرفلش پش وردی
’گڈ فرائيڈے‘ پر حسن مجتبیٰ کا کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد