’اب لش پش وردی اترے گي‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا میں بچوں اور میرے جیسے بڑوں کے لیے ہیری پوٹر اور پاکستان میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی ساتھ ساتھ آئے۔ جمعہ بیس جولائی کی دو پہر نیویارک کے کوئینز پل پر سے ہم بروکلین کی طرف جارہے تھے۔ اپنی کار ڈرائیو کرتے ہوئے جب میرے دوست مجید بابر نے پاکستانی سی ڈی لگائی ’ کھچ کے تو فوٹو میرا تے بٹوے وچ پا ماہی‘ کیا لائين تھی! یہ واقعی پاکستانیوں کا ’گڈ فرائيڈے‘ تھا۔ ٹیلی فون کالوں کا تانتا بندھا تھا۔ لاکھوں ٹیکسٹ میسیجز ہونگے جو پاکستانیوں نے پاکستان اور اس سے باہر امریکہ سمیت ایک دوسرے کو کیے ہونگے۔ مبارکیں ہی مبارکیں تھیں۔ مٹھائیاں بٹ رہی تھیں۔ میرے لیے تو بس یہ دن رائٹرس بلاک ٹوٹنے کا دن تھا۔ ہمارے شاعر اور صحافی دوست اشرف قریشی سے انکی نظم سننے کا دن تھا جو کچھ روز قبل ہی انہوں نے لکھی تھی اور مقامی اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ مجید کے سیل فون پر اشرف قریشی اپنی وہ نظم سنا رہے تھے: جب خلق خدا کے ہاتھوں سے اک حشر بپا ہوجائیگا
بروکلین میں کونی آئیلینڈ ایونیو جسے 'لٹل پاکستان' کہتے ہیں میں ایٹلانٹک سے ٹھنڈی اور پرشور پاگل ہوا میں ایونیو کے ایک واک سائيڈ پر قطار سے لگے پھڑکتے امریکی اورپاکستانی جھنڈوں تلے دور تلک پارک کی ہوئی پیلی ٹیکسیوں اور کاروں کی لمبی قطاریں تھیں کیونکہ سڑک کے دوسری پار مکی مسجد میں ہونیوالی جمعے کی نماز کی صفیں باہر سائيڈ واک یا فٹ پاتھ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ نیویارک پولیس اور اسکی گاڑیاں نیویارک میں پاکستانیوں کی آبادی کی سنگِ مرمر سے بنی مسجد کی جمعے کے جمعے حفاظتی اور ٹریفک کے انتظامات سنبھالتی نظر آتی ہے۔ ’آج شام کو ’روٹی بوٹی‘ پر ضرور آنا وہاں چیف جسٹس کی بحالی کی خوشی میں ایک پروگرام کررہے ہیں‘ میرے سیل فون پر کوئی آئيلینڈ پروجیکٹ کے احسان اللہ بوبی کی کا ل آئی۔
’اس سے قبل وہ لوگ جو ہمارے مشرف مخالف جمہوریت نواز مظاہروں کی مخالفت کرتے تھے اب مسجد میں دعائيں مانگ رہے تھے‘ احسان اللہ بوبی نے مجھ سے کہا۔ مجھے نہ جانے کیوں میرے دوست کے گاؤں میں ایک مسجد کے پیش امام والی بات یاد آئي جو جمعے کے خطبے میں کہتا تھا: ’یا اللہ ہمیں روشن خیالی سے نجات دلوا‘۔ ملاؤں نے اسلام اور جنرل مشرف نے روشن خیالی کو بڑا بدنام کیا ہے۔ مسجد مسجد یہ نمازی پاکستانی فوج کے ہاتھوں بنگال کے قتل عام پر لکھی ہوئی فہمیدہ ریاض کی یہ نظم آج بھی لال مسجد اور بارہ مئي کے کراچی سمیت تمام پاکستان پر فٹ آتی ہے۔ آئي ایس آئی نے روشن خیالی کا برقعہ اوڑہ لیا ہے یاغازی عبد الرشید کو ملاؤں کا چے گویرا بنادیا۔ مسجدیں مقتل گاہ بنانے والوں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ انکے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بت انہیں اپنے ہاتھوں سے توڑنے پڑجائيں گے۔ جب انکی بلیاں انہیں میاؤں میاؤں کرنے لگيں گي تو ’سانحہ لال مسجد‘ بن گيا۔
کونی آئیلینڈ کی مسجد سے باہر نکلنے والے نمازیوں میں جب چیف جسٹس کی بحالی کی خوشی میں مٹھائی بانٹی جارہی تھی تو اپنی پیلی ٹیکسی سے نمودار ہوکر شاہد کامریڈ پاکستانی پرچم نکال کر جمہوریت بحال کرو اور چیف جسٹس زندہ آباد جنرل مشرف اور فوجی آمریت مردہ آباد کے نعرے لگانے لگے تھے۔ نیویارک کی سڑکوں پر روزی کمانے کیلیے پیلی ٹیکسی چلانے کے بعد باقی وقت شاہد کامریڈ اپنے کل وقتی ایکٹوزم کو دیتے ہیں۔ وہ اصل میں ایک 'ون مین نیشن' ہیں۔ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی قرار دلوانے کے لیے بل کی تحریک ہو کہ جنگ مخالف اجتماعات یا مشرف مخالف پرو ڈیموکریسی پاکستانیوں کے مظاہرے کامریڈ شاہد ایونٹ کے آگے آگے جل رہے ہوتے ہیں۔ پاکستانی اور امریکی پرچم لپٹے انکی شاپنگ بیگ میں پاک یو ایس فریڈم فورم کے ساتھ ہمیشہ ہیں۔ بائيں بازو کی سوچ رکھنے والے شاہد کامریڈ کی سوئی 'کشمیر کی آزادی' اور 'بھارتی توسیع پسندی' پر انیس سو ستر سے اٹکی ہوئی ہے۔ میں نے انکی تنظیم 'پاک یو ایس اے فریڈم فورم کی طرف سے 'سانحہ اسلام آباد کی یاد میں' کرائے گئے جلسے میں جنرل مشرف کو کنونشن سنٹر میں سات سر میں سنانے والے عدنان کاکا خیل کی وڈیو اور پاکستان میں بائيں بازو کے مشہور ٹریڈ یونین رہنما طفیل عباس کو ساتھ ساتھ دیکھا۔ ’اگر پاکستان کی میڈیا جنرل ضیا کے دنوں میں بھی آجکی طوح مضبوط ہوتی تو بھٹو پھانسی نہیں چڑھائے جا سکتے تھے‘، شاہد کامریڈ کہتے ہیں۔ ميں نے سوچا نیویارک میں پینسٹھ فی صد سے بھی زیادہ پاکستانی کیب ڈرائیوروں میں سے کتنوں میں شاہد کامریڈ کیطرح اپنے ملک یا اپنے ملک جیسے دوسرے لوگوں کو آمریت کے چنگل سے چھڑانے کی چنتا ہوگی! 'ہم نے جب سے ہوش سنبھالا آمریت سے لڑتے آئے لیکن چیف جسٹس نے تمام تر دھمکیوں اور خطرات کے باوجود آمر کو شکست دے دی' جنوبی ایشیائی علاقے جیکسن ہائٹس میں جہاں بھی پاکستانیوں کی بڑی تعداد بستی ہے کے 'روٹی بوٹی' ریسٹوران کے قٹ پاتھ پر 'جشن جج' منظم کرنے والے بوبی نے مجھ سے کہا۔ میں نے کونی آئیلینڈ میں ’ہیں تلخ بہت بندہء مزدور کے اوقات‘ بنے پاکستانیوں اور سوٹ ٹائي میں ملبوس پاکستانی امریکن پروفیشنلز میں مٹھائی کی تقسیم اور جشن کے دو مختلف مقامات و اوقات پر جوش و جذبہ ایک سا دیکھا۔ پر ان پرجوش مردوں اور جمہوری پاکستانی جیالوں میں شاید ہی کوئی عورت نظر آئی! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||