’آمریت اور گھوڑوں کا انجام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب بارہ اکتوبر انیس سو نناوے کو آرمی چیف آف اسٹاف جنرل پرویز مشرف فوجی بغاوت کے راستے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر خود چیف ایگزیکیٹو بن کر بیٹھ گئے (یعنی وایا ٹرپل ون برگیڈ اور کراچي کور کے دستوں کی توسط سے، (پھر ہوا عزیز ہموطنو اسلام علیکم!) تب امریکی حکومت، امریکی میڈیا اور یہاں انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت سول سوسائٹی کے اچھے خاصے حصے نے بھی پاکستان میں نواز شریف کی حکومت کے خلاف دن دہاڑے فوجی بغاوت اور اس کے سرغنہ لیڈرکمانڈو جنرل پرویز مشرف کو ہرگز قبول نہیں کیا تھا۔ فوجی بغاوت کے دوسرے روز تیرہ اکتوبر کو اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کا اداریہ تھا: ’پاکستان میں خطرناک فوجی بغاوت‘۔ انتہائي باخبر امریکی صحافی بوب ووڈ وارڈ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نواز شریف حکومت اور کلنٹن انتظامیہ کے درمیان اسامہ بن لادن کی زندہ گرفتاری
ظاہر ہے یہ سب کچھ اچانک اور ایک ہی دن تو نہیں ہوا تھا۔ نہ ہی نواز شریف کو کسی نجومی نے بتایا ہوگا کہ بارہ اکتوبر کو ان کے اقتدار کا سورج غروب ہونے والا ہے اور نجومی کی بات کو سچ ثابت کرنے کیلیے نواز شریف نے اسی دوپہر اپنے چيف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرکے ان کی جگہ اپنی برادری کے جنرل ضیاءالدین بٹ کو آرمی چیف کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے قریبی سٹور سے پھول (پپز) منگوا کر انکے کاندھوں پر سجادیے تھے اور نہ ہی فقط اسی دن کولمبو سے واپسی پر اپنے چیف صاحب کو ہوا میں معلق پاکر کور کمانڈروں نے سول اقتدار پر ہلہ بول دیا۔ اس شب خون کا منصوبہ کئي مہینوں پر محیط ہوگا۔ نواز شریف حکومت کیخلاف نجومی ٹائپ صحافیوں نے تو فوجی بغاوت کیلیے پیش گوئیاں فروری انیس سو نناوے سے ہی شروع کردی تھیں۔ کہتے ہیں کور کمانڈرز تو پڑھے لکھے جنرل جہانگیر کرامت کے ہی دنوں سے ’کامران تیار‘ بیٹھے تھے۔
نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گيا تو جنرل پرویز مشرف کو اس کی حمایت امریکہ سمیت کسی بھی مغربی ملک سے نہیں مل سکی۔ نواز شریف کی اس وقت کی کابینہ کے اراکین میں سے مشاہد حسین، چودھری نثار علی، پرویز رشید اور صدیق الفاروق جیسوں کی لاپتہ رکھنے کی پالیسی پر امریکی انتظامیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش پائي جاتی تھی۔ فروری اور مارچ دو ہزار میں آزاد ہیومن رائٹس واچ اور امریکی محکمۂ خارجہ کی یکے بعد دیگرے آنے والی رپورٹوں میں بھی پاکستان میں مشرف حکومت کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی کیسز رپورٹ کیے گئے تھے۔ چيف جسٹس سعید الزمان صدیقی کو فوجی کرنل کے ہاتھوں اپنی سرکاری رہائشگاہ پر روکے رکھے جانے سے لے کر جنرل مشرف کے عبوری آئینی حکم کے تحت ججوں کے حلف اٹھانے تک اور مسلم لیگ نواز شریف کے فیصل آباد سے منتخب رکن پنجاب اسمبلی رانا ثناء اللہ کو فوجی چھاؤنی میں بیس کوڑے مارنے سے لے کر ڈھرکی سندھ کے ہندو پنچایت کے صدر مکھی ناموں مل پر فوجیوں کے ہاتھوں تشدد اور گرفتاری تک اور عام لوگوں پر بجلی کے بلوں کی وصولی کے نام فوج اور رینجرز کے انسانیت سوز تشدد کے متعدد کیسز رپورٹ کیے گئے تھے۔
انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون اور اکنامسٹ جیسے امریکی اور یورپی پرنٹ میڈیا کے ذرائع سمیت کئي اخبارات اور جرائد نے صدر پرویز مشرف پر اداریے و مضامین شائع کیے تھے جن میں پاکستان میں مشرف حکومت کا تصور ایک ٹن پاٹ ڈکٹیٹر کا ہی تھا۔ کوئی بھی ذہین و باضمیر آدمی مشرف حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزیوں کا زیادہ دیر تک محمد علی درانی جیسا سفید پوش لاؤڈ سپیکر نہیں بن سکتا تھا تب تو جاوید جبار جیسے وزیر اطلاعات نے بھی استعفی دے دیا تھا۔ مشرف فوجی حکومت امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری میں اکیلی رہ گئي تھی۔ ایسے اکیلے پن کو قدرے دور کرنے اور بین الاقوامی تائيد حاصل کرنے کی
صدر بش امریکہ میں صدارت کا عہدہ سنبھال چکے تھے لیکن تب تک انکے لیے پرویز مشرف کے نام کے ہجے اور تلفظ اتنا مشکل تھا جتنا پاکستان کے مزاحیہ پروگرام ففٹی ففٹی میں ٹریفک پولیس والوں کیلیے مستنصر حسین تارڑ کا، اور یہ پاکستانی ’گائے‘ ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے تھے یا فوجی بغاوت کے ذریعے؟ اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک کوئیز میں جارج بش یقین سے نہیں بتا سکے تھے۔ ابھی امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری میں صدر مشرف کے پاکستان میں سویلین اقتدار پر شب خون اور جمہوریت اور انسانی حقوق کی بیخ کنی پر تنقید و تبّرے اور پاکستانی فوجی جنتا کی تنہائی جاری تھی کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکہ پر دہشت گردانہ حملے ہوگئے۔
گیارہ ستمبر جیسی امریکی اور انسانی ٹریجڈی کو جنرل مشرف اور اس کی فوجی جنتا نے اپنے اقتدار کے دوام اور مضبوطی کیلیے استعمال کیا۔ مجھے انکی کتاب میں ان کے لڑکپن کے زمانے میں ناظم آباد کراچی کی گلیوں کا دادا بننے اور ایف سی کالج لاہور کے دنوں میں انتخابات کوجوڑ توڑ کر کے اپنے حق میں کردینے والی باتیں یاد آتی ہیں۔ گویا کہ پورا ملک ناظم آباد کی گلی ہے اور یہ اسکے دادا بنے ہوئے ہیں۔ لیکن نو مارچ کو چیف جسٹس کی معطلی انجام دینے کے بعد وہ پھر امریکہ سمیت پاکستان سے باہر وہیں آکر کھڑے ہیں جہاں وہ بارہ اکتوبر انیس سو نناوے اور اسکے بعد کھڑے تھے۔ ایک فوجی ڈکٹیٹر مشرف۔ عالمی برادری کی نظروں میں بیرون ملک مشرف کی ’اینلائٹنڈ موڈریشن‘ کا رنگ اترنے لگا ہے۔ اس فوجی جنرل کی لبرلزم وہی ہے جو بہت سے پاکستانی مردوں کی گھر سے باہر ہوتی ہے: گھر کے اندر وہ بیوی بچوں کیلیے ایس ایچ او (تھانیدار) اور باہر بڑے اینلائیٹنڈ موڈریٹس بنے ہوتے ہیں! یہی کچھ جنرل مشرف پاکستان کے اندر عوام و خواص کے ساتھ کررہے ہیں۔ چیف جسٹس کے اترنے سے فوجی جنرل کے سارے کپڑے بھی اتر گئے۔
جیسے منگل کو ’نیویارک ٹائمز‘ نے ’پاکستان کا ڈکٹیٹر‘ کے عنوان سے اپنے پہلے اداریے میں لکھا ’جنرل مشرف کے جمہوری ہونے کے دعووں کو کوئی بھی شخص اب سنجیدگی سے نہیں لے رہا سوائے بش انتظامیہ کے‘۔ اب امریکی میڈیا، سول سوسائٹی اور کچھ قانون سازوں کا ایک اچھا خاصہ لیکن انتہائی بااثر حصہ پاکستانی جمہوریت پسندوں اور وکلاء کے ساتھ کھڑا ہے۔ جو کہ انتہائي خوش آئند بات ہے اور یقیناً پاکستان میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے لڑنے والوں کیلیے بہت حوصلہ افزا بھی۔ لیکن مشرف نو مارچ دو ہزار سات کو بھی اتنے ہی آمر تھے جتنے بارہ اکتوبر انیس سو نناوے کو تھے۔ کہتے ہیں: ’گھوڑے کے دن، جیسےابتدائی ویسے ہی آخری‘ اور یہی کہاوت ڈکٹیٹروں پر بھی راس آتی ہے۔ |
اسی بارے میں ’انٹیلیجنس ریپبلک آف غائبستان‘23 November, 2006 | قلم اور کالم مختار مائی کی کتاب کی پذیرائی16 November, 2006 | قلم اور کالم امریکی پولنگ پر ایک دن08 November, 2006 | قلم اور کالم امریکہ: سرخ یا نیلا؟31 October, 2006 | قلم اور کالم ’امریکی کانگریس کے دس نمبری‘27 October, 2006 | قلم اور کالم ’لائلٹیز یا پھر رائلٹیز‘17 October, 2006 | قلم اور کالم کشمیر: ’آزاد یا مقبوضہ؟‘ 22 September, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||