’لائلٹیز یا پھر رائلٹیز‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فوجی صدر پرویز مشرف، اور مختار مائی کے بیچ پاکستان کی ایک ہی سرزمین پر رہتے ہوئے بھی فرق کے باوجود دو ایک سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ ان دونوں شخصیات میں ایک بڑی مماثلت یہ ہے کہ دونوں اپنی یادداشتوں پر مبنی کتابوں کے مصنف ہیں اور انکی کتابوں کے امریکہ میں پبلشر یا ناشر ایک ہی یعنی سائمن شسٹر ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی انگریزی میں لکھی ہوئی کتاب ’ان دی لائین آف فائر،‘ کے پبلشرز سائمن اینڈ شسٹر کی ہی ذیلی شاخ ’فری پریس‘ والے تھے جبکہ انہی پبلشرز کی ایک اور ذیلی شاخ ’آٹریا‘ نے مختار مائی کی دنیا میں بیس زبانوں میں ترجمہ ہونیولی کتاب ’ان دی نیم آف آنر‘ یا ’عزت کے نام پر‘ شایع کی ہے جو اسی ماہ اکتیس اکتوبر کو سائیمن ایینڈ شسٹر کی طرف سے جاری کی جا رہی ہے۔ مختار مائی کی کہانی سیرائیکی سے فرانسیسی اور فرانسیسی سے دوسری زبانوں میں منتقل ہوئی ہے۔ مختلف دوروں کے دوران امریکہ میں مختار مائی کی میزبانی کرنیوالی تنظیم ایشین امریکنز نیٹ ورک اگینسٹ ابیوز آف ہیومن رائٹس یا ’انا‘ کی صدر ڈاکٹر آمنہ بٹر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوبتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو مختار مائی کے پبلشرز نے کہا تھا کہ وہ مختار مائی کی کتاب کی تشہیر کیلیے سال دو ہزار چھ کے اوائل میں انکے’ بک ٹور‘ کا انتظام کریں گے لیکن پھر ’نامعلوم وجوہات‘ پر انہوں نے مائی کایہ ’ٹور‘ملتوی کردیا۔ جہاں جنرل مشرف کے بہت سے ناقدین انکے حال ہی کے امریکی دورے کو زیادہ تر انکا ’اپنی کتاب کی ترویج و تشہیر کیلیے بُک ٹور‘ قرار دیتے ہیں وہاں بہت سے مختار مائی کے ہمدرد انکے پبلشروں کیطرف سے مختار مائی کے بک ٹور کی تاحال منسوخی اور انکی کتاب کی فوجی حمکران پرویز مشرف کی کتاب کے مقابلے میں کم انداز میں ترویج کو پبلشرز پر مشرف حکومت کی طرف سے سیاسی دباؤ قرار دیتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک اس کا سبب مختار مائی کی انگریزی زبان سے ناواقفیت ہے۔
میں نے مشرف بمقابلہ مائی بک پروموشن کے سوال متعلق مختار مائی کی کتاب کی لٹرری ایجنٹ سوزینہ لی سے پوچھا تو انکا جواب تھا: مشرف کی کتاب اور انکے پروموشن کے بارے میں مجھے تو زیادہ معلوم نہیں لیکن تم یہ سوالات سائمن اینڈ شسٹر پبلشرز میں دونوں کتابوں کی پبلسٹس (متشہرین) کرسٹین سانڈرس اور کیتھلین شمٹ سے پوچھ سکتے ہو۔ میں نے سائمن اینڈ شسلر میں ان دونوں پبلسٹوں اور مختار مائی کی ایڈیٹر ونڈی واکر سے بذریعہ ٹیلفون اور ای میلز بارہا رابطے کیے لیکن انکی جانب سے کوئی جواب نہ مل سکا۔ ’بیوٹیفل‘! مختار مائی کی کتاب کا سرورق اپنی ڈیسک پر رکھے ہوۓ کمپیوٹر پر دیکھتے ہوۓ نیویارک میں سائیمن اینڈ شسٹر کی آپریٹر سیپوئا نے ٹیلفون پر مجھ سے کہا۔ پھر اس نے کہا ’تمہیں معلوم ہے سیپوئا کون تھی؟ سیپوئا موسی کی بیوی تھی۔‘ لیکن پاکستانی دھرتی کی اس بیٹی مختار مائی اور فوجی حکمران پرویز مشرف میں ایک اور فرق یہ بھی ہے کہ دونوں کی کتابیں ایک ہی پبلشرز ہونے کے باوجود، بقول سلمان رشدی، ’پاکستان میں عورتوں کیخلاف جنسی دہشتگری‘کی جنگ لڑنے والی مختار مائی کی کتاب کا پروموشن اس طمطراق اور اہتمام سے نہیں ہورہا جو امریکہ کی دہشتگردی کی جنگ کیخلاف ایک اہم حلیف سمجھے جانیوالے پرویز مشرف کی کتاب کا پروموشن کچھ روز قبل تک امریکہ میں دیکھا گیا تھا۔ میں نے مختار مائی کی کتاب کی ایسی تشہیر و اہتمام کے فرق کی وجہ جاننے کیلیے سائمن اینڈ شسٹر میں پرویز مشرف کی کتاب ’ان دی لائین آف فائر‘ کے انگریزی کے ایڈیٹر بروس نکولس سے رابطہ کیا تو مجھے متعلقہ شخص سے ملانے کی بجائے پاکستان میں ایک صاحب ظہیرالاسلام کا ٹیلیفون نمبر یہ کھ کر دیا کہ ہر غیر ملکی میڈیا (امریکہ میں بحرحال بی بی سی بھی غیر ملکی میڈیا ہی ٹھہری) کو ہم پاکستان میں ظہیر الاسلام کیطرف ہی منعطف کرتے ہیں۔ خیر یہ نمبر فیروز سنز لاہور کا تھا جہاں موجود عبدالستار نے کہا کہ وہ پاکستان میں صرف جنرل پرویز مشرف کی ہی کتاب کے اردو ترجمے والے ایڈیشن کے ذمہ دار ہیں۔ باوجود بار بار رابطوں کے ظہیرالاسلام سے انکے ٹیلفون پر رابطہ نہیں ہوسکا۔ میں واپس امریکہ لوٹ آیا اور میں نے نیویارک ٹائمز کے مشہور کالم نگار نکولس ڈی۔ کرسٹوف سے ، جنہوں نے نہ صرف مختار مائی کی کتاب ’ان دی نیم آف آنر‘ کا پیش لفظ لکھا ہے بلکہ وہ مختار مائی اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے پاکستان اور جنرل مشرف پر بہت لکھتے اور کہتے رہے ہیں، یہی سوال کیا تو کرسٹوف کا جواب تھا: ’یہ غیر ملکی کتابوں کیلیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ امریکی عوام پر اثر چھوڑیں لیکن مشرف کی خود نوشت سوانح عمری نے کچھ توجہ حاصل کی ہے۔ لیکن کم از کم شروع شروع میں مختار مائی کی کتاب کم تشہیر حاصل کرے گی کیونکہ اسکی جزوی وجہ یہ ہے کہ مختار مائی انگریزی زبان نہیں بول سکتی اور ٹیلیوژن والوں کیلیے مترجم کے توسط سے انٹرویو کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘
’اگر مختار مائی کی کتاب نے اٹھان حاصل کی تو اسکی وجہ اسپر شایع ہونیوالے ریویوز (تبصرے) اور لوگوں کے منہ سے نکلنے والی باتیں ہونگی اور میرا اندازہ ہے آئندہ چند ہفتوں میں کتابوں کی دکانوں پر مشرف کی کتاب نمایاں نظر آئیگی۔‘ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں جنرل مشرف کی کتاب ’ان دی لائین آف فائر‘ کی اڑسٹھ ہزار کاپیاں فروخت ہوئی ہیں۔ میں نے گذشتہ اختتام ہفتہ اپنے شہر سان ڈیاگو میں امریکہ میں سب سے بڑی کتب فروش کمپنی بارنس اینڈ نوبل کی دکان پر سیلز مین سے جنرل مشرف کی کتاب کی فروخت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کتاب کے اجرا کے دن سے انکی دکان پر سترہ کاپیاں آئی تھیں جن میں سے ابتک چھ کاپیاں بکی ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ ان چھ کاپیوں میں سے ایک خریدار راقم الحروف خود تھا۔ لیکن سان ڈیاگو جیسے علاقےمیں صرف ایک بارنس اینڈ نوبل پر بھی دو ہفتوں میں چھ کاپیاں فروخت ہونے کو غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔ جنرل مشرف کی کتاب اپنے مہورت سے پہلے کتابوں کی خرید و فروخت کی سب سے بڑی ویب سائیٹ ایمازون ڈاٹ کام کی بیسٹ سیلر کی فہرست میں ایک سو بائیس نمبر پر تھی لیکن اپنے اجرا کے دوسرے دن جنرل مشرف کی کتاب دوسرے نمبر پر بتائی گئی تھی جبکہ پہلے نمبر پر بائيں بازو کے امریکی دانشور اور لسانیات کے ماہر پروفیس نوم چومسکی کی کتاب ’ہیجمنی اینڈ سروائیول‘ تھی۔ لیکن امریکہ میں کتابوں کی اشاعت کے ایک موقر جریدے ’پبلشرز ویکلی‘ کی ایڈیٹران چیف سارہ نیلسن کا کہنا تھا ’کتابوں کی فروخت ایک چیز ہے اور توجہ حاصل کرنا دوسری چیز۔‘ پبلشرز سائیمن اینڈ شسٹر نے جنہوں نےگوانتانامو بے کیوبا کے سابق قیدی اور برطانوی شہری معظم بیگ کی قید کی آب بیتی بھی شایع کی ہے اپنے سانجھےدار سی بی ایس ٹیلیویزن نیٹ ورک کے پروگرام ’سکسٹی منٹس‘ میں پاکستان کے فوجی صدر پرویز مشرف کیسا تھ انکی کتاب پر انٹرویو کیا جس میں انہوں نے انکو رچرڈ آرمییٹج کی مبینہ دھمکی والا 'دہماکہ خیز انکشاف کیا۔ لیکن جنرل مشرف نے صدر بش کی موجودگی میں سی بی ایس کی رپورٹر کے اسی سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اپنے پبلشرز سائمن اینڈ شسٹر سے اس وعدے کے پابند ہیں کہ کتاب کے اجرا تک وہ کچھ نہیں بولیں گے۔ صدر مشرف جیسے صاحب کتاب اور ایک سرابراہ مملکت کی ایسی خاموشی پر اخبار لاس اینجلز ٹائيمز کا تبصرہ تھا ’سربراہ مملکت کا فریضہ عوام کو حقائق سے باخبر رکھنا ہوتا ہے۔ اگر صدر بش کتاب لکھتے اورگیارہ ستمبر کے متعلق سوال کے جواب میں خاموش رہتے اور کہتے کہ وہ سائمن اینڈ شسٹر کیساتھ معاہدے کے مطابق وعدے کے پابند ہیں تو امریکی عوام صدر بش کیلیے زندگی جہنم بنا لیتے۔‘ جبکہ کتابوں کی اشاعتی دنیا کے معاملات پر سارہ نیلسن سمیت کئی ماہرین و مبصرین مشرف کے ایسے رویے کو دکھاوے بازی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ’مشرف کے نزدیک لایلٹیز (وفاداریوں) سے زیادہ رایلٹیز (کتاب کے معاوضہ جات) کا مسئلہ ہے،‘ ایک امریکی اخبار کا تبصرہ تھا۔
اخبار ’لاس اینجلس ٹائیمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق فروری دو ہزار پانچ تک مشرف کے پبلشرز ان سے معاہدے کے وقت چھ ہندسوں والی رائلٹی طلب کرنے کی توقع کررہے تھے۔ ’لیکن پبلشرز ویکلی کی سارہ نیلسن کے مطابق شاید انہوں نے اس سے بھی زیادہ کما لیا ہے۔‘ فوربس میگزین نے، جو دولت وسرمایہ اور دولتمندوں کے متعلق مواد چھاپنے کے حوالے سے مشہور ہے، صدر مشرف کی کتاب سے انکو ملنے والےمعاوضوں کے حوالے سے لکھا ہے ’لگتا ہے اگلے سال صدر مشرف ریٹائر ہونیکا اور وہ بھی یہاں امریکہ میں زندگی گذارنے کا سوچ رہے ہیں جہاں انکا اکلوتا بیٹا بلال رہتا ہے۔‘ لیکن مختار مائی کی کتاب کے پیش لفظ میں نیویارک ٹائمز کے کالم نگار نکولس کرسٹوف نے لکھا ہے۔ ’ميں جب میرا والہ کی مٹي پر مختار مائی کو چلتے دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے مختار مائی کی قیادت میں میرا والہ میں، پورے ملک میں اور پوری دنیا میں عورتوں کا انقلاب آرہا ہے۔مجھے انکی ذات میں ایک عظمت لگتی ہے۔ وہ عظمت جو مارٹن لوتھر کنگ میں ہوگی، جو عظمت مدر ٹریسا میں تھی۔‘ ڈاکٹر آمنہ بٹر، نے مختار مائی کی کتاب، اور جنرل مشرف اور مائی کی کتابوں کے تقابلی مطالعے کے متعلق سوال پر کہا ’دونوں کتابوں کا کوئی موازنہ نہیں کیونکہ ایک کتاب اس نے لکھی ہے جو انگریزی یا فرانسیسی نہیں جانتی ، جسکی کہانی کو دو مردوں نے سرائیکی سے فرانسیسی میں ترجمہ کیا اور پھر ایک مصنفہ (برانوئن کرن، فرانسسی صحافی) نے جتنا بہتر وہ فرانسیسی میں لکھ سکتی ہے اس نے لکھا۔ پھر اسے مختار کو پڑھ کر سنایا گیا اور وہ اس میں جو ردوبدل لاسکتی تھیں لائيں۔ اگرچہ یہ کوئی ادبی شہپارہ نہیں ہے لیکن یہ ایک عورت کی کہانی ہے جو ایک دوزخ سے گذری ہے اور اب بھی وہ دوزخ اسکے دونوں پائوں تلے جل رہی ہے۔‘ ڈاکٹر آمنہ کا کہنا تھا: ’یہ کتاب بیس زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہے اور بہت سے ملکوں میں فروخت ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں پڑھی جانیوالی پاکستان کی ایک غریب عورت کی یادداشتوں کی یہ کتاب تاریخ پر اپنی یادگار ثبت کرے گی۔ اور یہ پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کیلیے قابل فخر بات ہے۔‘ ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر آمنہ نے کہا ’میں جنرل مشرف کی کتاب کے بارے میں کیا کہوں یہ کتاب واقعی ننھے میاں کے کارنامے لگتی ہے۔ خود ستائشی سے بھرپور۔ ایک صدر کی کتاب نہیں بلکہ ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کی جو اپنے معاشقوں کی داستان سنا رہا ہو۔‘ |
اسی بارے میں ’کتاب کے لیئے ملک کی تحقیرکی‘29 September, 2006 | پاکستان ’ کتاب سکیورٹی رسک ہے‘27 September, 2006 | پاکستان ’شاید وہ سچ نہیں بول رہے‘25 September, 2006 | پاکستان ’ آرمیٹیج سچے ہیں یا مشرف‘25 September, 2006 | پاکستان ’سی آئی اے نے کروڑوں ڈالر دیئے‘25 September, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||