’خطاب لینے پر اعتراض ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھے ملکہ برطانیہ کے ہاتھوں سلمان رشدی کو سر کا خطاب ملنے پر کوئی اعتراض نہیں پر ملکہ برطانیہ کے ہاتھوں ’مڈ نائٹس چلڈرن‘ جسے ناول کے مصنف کے سر کا خطاب لینے پر اعتراض ضرور ہے۔ اگر ملکہ برطانیہ انہیں سر کا خطاب نہیں بھی دیتیں اور وہ یہ اعزاز قبول نہ بھی کرتے تب بھی وہ عظیم مصنف و ناول نگار ہوتے۔ وہی ’تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز‘ والی بات ہوئی۔ یہ بھی صحیح ہے کہ برطانیہ نے دو سو سال برصغیر پر قبضہ جما رکھا تھا لیکن ہم برصغیر کے لوگوں نے اس کے بدلے میں گزشتہ پون صدی سے، بقول شخصے، برطانیہ کے لندن، گلاسکو اور مانچسٹر سمیت بڑے چھوٹے شہروں میں زبردست مرچ مصالحوں والے دیسی ریستوران اور کری شاپس کھول کر انگریزوں پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ نہ فقط مرچ مصالحوں اور کری کی بات ہے بلکہ انگریزی ناول و ادب میں بھی برصغیر اور خاص طور پر بھارتی اور کچھ پاکستانی نژاد لکھاری لکھنے میں اپنے گھر سے کھاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وی ایس نائپال کو سر کا خطاب مل سکتا ہے تو سلمان رشدی کو ان کی ادبی عظمت کے اعتراف کے طور پر کیوں نہیں! یہ کوئی برطانوی استعمار والا زمانہ نہیں اور نہ ہی سلمان رشدی کوئی بڑے سر سید یا علامہ اقبال ہیں! سر سید نے جب مسلمانوں میں جدید علوم حاصل کرنے کیلیے علی گڑھ میں ایک علیحدہ یونیورسٹی کا اعلان کیا تو کہتے ہیں کہ جہاں بے شمار مسلمانان ہند نے ان کی مجوزہ یونیورسٹی کی تعمیر کیلیے چندہ دیا وہاں مسلمان طوائفوں نے بڑھ چڑھ کر عطیات دیے لیکن برصغیر میں مسلمانوں کے ان پہلے روشن خیال سر سید احمد خان نے مولویوں سے فتوی حاصل کیا کہ اہل نشاط کے چندے کی رقوم کہاں خرچ کی جائيں تو مولویوں کے فتوے کے مطابق مسلمان اہل نشاط کے چندے کی رقوم سے صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بیت الخلاء کی تعمیرات ہی جائز و شرعی ٹھہرائي گئي۔ مجھے نہیں معلوم کہ تانتیا ٹوپے اور بہت سے آزادی کے سپاہیوں کی سرزمین مہاراشٹریہ کے جمے ہوئے اس ’پوسٹ کولونیل‘ مسلمان لکھاری اور ’مڈ نائٹس چلڈرن‘جیسے ناول کے مصنف کو برصغیر کی آزادیء نیم شب کے ساٹھ سال اور جنگ آزادی کو ڈیڑھ صدی پوری ہونے پر ملکہ برطانیہ کے ہاتھوں’سر‘ کا خطاب حاصل کرنا کیسا لگا ہوگا! مجھے خوشی ہے کہ اس لکھاری نے ایک کافی عرصہ پاکستان اور وہ بھی کراچی میں گزارا تھا جہاں اس کے اعزاء اور اقرباء آج بھی رہائش پذیر ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ پاکستانی فوج میں ایک سینئیر جنرل ان کے قریبی رشتہ دار بھی تھے اور جنرل ضیاء الحق کے دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والی ایک بین الاقوامی سیرت کانفرنس میں مدعو مہمان سکالروں کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل تھا لیکن ان کے ضیاء کے پاکستان پر ناول’شیم‘ لکھنے پر سلمان رشدی کا نام واپس لے لیا گیا اور وہ پاکستانی جنتا کی بلیک لسٹ پر آ گئے۔ لیکن پاکستان کے صوبہ سندھ میں سنجیدہ ادب اور غیر فکشن پڑھنے والے نوجوانوں کا ایک حلقہ انیس سو اسی اور نوے کی دہائي کے سالوں میں سلمان رشدی کی تحریروں کا گرویدہ تھا اور ان کے ناولوں ’مڈ نائٹس چلڈرن‘ اور’شیم‘ سمیت لاطینی امریکی ملک نکاراگوا پر لکھا ہوا ان کا سفرنامہ ’دی جیگوار سمائل‘ کافی مقبول ہوئے تھے۔ سلمان رشدی جیسے لکھاری کا المیہ یہ ہے کہ مسلم دنیا اور خاص طور پاکستان (جہاں ملا اسلام منفرد اور نرالا ہے اور ضیاءالحق نے تو پوری قوم کو پھر سے ’کلمہ‘ پڑھوایا تھا) میں نوے فیصد سے بھی زیادہ لوگ ان کی کوئي بھی ایک کتاب تو کیا کوئي سطر بھی پڑھے بغیر ان کی جان کے درپے ہیں۔ کسی چوک پر کھڑا ٹریفک کا سپاہی ہو کہ تھانیدار یا وزیرِاعلٰی یا عام آدمی سلمان رشدی کی تحریروں کا بڑا نقاد بنا ہوتا ہے۔ ایک تھانیدار نے توہین رسالت کی جھوٹی ایف آئي آر میں ایک عیسائي شہری کے لیے لکھا کہ’ملزم نے سلمان رشدی کی کتاب کی تعریف کی‘۔ ’ہم نے سلمان رشدی سے بھی بڑا کیس پکڑا ہے۔ ہم حکومت کی طرف سے انعام اور ترقیوں کے حقدار ہیں‘۔ انیس سو اکانوے میں حسین آباد،گدو حیدرآباد سندھ میں میں مشہور صوفی جانن چن کی خانقاہ پر ان کے مریدوں کو ان کے یکتاروں سمیت گرفتار کرنے والی پولیس پارٹی کے سربراہ نے مقامی صحافیوں سے کہا تھا۔ اپنا جھوٹا کیس سچا ثابت کرنے کیلیے پولیس ان گرفتار صوفیوں پر تشدد کر کے ان سے یہ اعتراف کروانے کی کوشش کرتی رہی تھی کہ وہ (صوفی) خود کو خدا کہتے ہیں۔ پاکستانی فلم انٹرنیشنل گوریلے میں اپنا کردار (غالباً افضال) خود سلمان رشدی دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے تھے۔ یہ بات انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی نیویارک کی طرف سے’مڈ نائٹس چلڈرن‘ پر پیش کیے جانے والے اپنے ڈرامے کے موقع پر کہی تھی۔ ’ایک ہاتھ میں پکڑی ہوئي سکاچ کی بوتل سے گھونٹ لیتا اور دوسرے ہاتھ میں ہنٹر پکڑے تشدد کرتا ہوا سلمان رشدی!‘ فلم میں ایک جزیرے پر واقع قلعے میں اس کے قیدی ’ایمان سے سرشار گوریلے‘ کے پکڑے جانے پر اس سے یہ معلوم کرنے کیلیے ٹارچر کیا جاتا ہے کہ وہ کون ہے اور اسے کس نے بھیجا ہے؟ اور جب تمام تشدد کے باوجود اس گوریلے سے کچھ بھی نہیں منوایا جا سکتا تو ’فلم انٹرنیشنل گوریلے‘ والا سلمان رشدی آخری حربے کے طور پر اپنے حواریوں کو حکم دیتا ہے کہ اسے اس کی کتاب ’سیٹنک ورسز‘ پڑھائي جائے۔ یہ سن کرگوریلا کہتا ہے کہ’نہیں میں سب کچھ بتا دیتا ہوں لیکن یہ کتاب مجھ سے مت پڑھواؤ‘۔ کولمبیا کی اسی تقریب میں تب موجود فلسطینی نزاد اسکالر پروفیسر ایڈورڈ سعید نے انکشاف کیا تھا کہ سلمان رشدی نے اشاعت سے پہلے ’سیٹنک ورسز‘ کا مسودہ انہیں بھی پڑھنے کیلیے بھیجا تھا اور انہوں نے اپنے دوست پروفیسر اقبال احمد کو بھی پڑھوایا تھا۔ اقبال احمد نے اس ناول کی اشاعت پر مسلمان دنیا میں پرتشدد ردعمل کی بھی پیشن گوئی کی تھی۔مسلم دنیا کہ جہاں کئی برسوں تک علمائے سو کی طرف سے ہاتھ قلم کر دینے کے فتوے کے خوف سے ابن رشد جیسے عالم بھی کئي برس روپوش رہے تھے۔ پاکستان میں سلمان رشدی کی کتاب ’سیٹنک ورسز‘ کی چوری چھپے فوٹو کاپیاں بن کر کسی ممنوعہ خطرناک چيز کی طرح خوف اور اشتیاق سے مہنگی قیمت پر فروخت ہوئي تھیں۔ میں نے یہاں امریکہ میں اپنے دوست کے توسط سے کراچی اپنے ایک دوست کو سلمان رشدی کا ناول’شالیمار دی کلاؤن‘ بھیجا تو اس نے کہا ’سلمان رشدی! | اسی بارے میں ’سر‘ کے خطاب پر سرکاری مذمت18 June, 2007 | پاکستان سلمان رشدی: سر کا خطاب، مذمت17 June, 2007 | آس پاس سلمان رشدی: سر کا خطاب، مذمت16 June, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||