BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 October, 2007, 08:43 GMT 13:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسٹیبلشمنٹ کی بازيگری

بینظیر بھٹو
اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کی کراچی آمد کے موقع پر لوگوں کا اژدہام شہر کی سڑکوں پر امنڈ آیا
دفعہ ایک سو چوالیس کے پاکستان میں اس سے قبل ہوتا یہ تھا کہ اگر تیس کے قریب لوگ کوئي حکومت مخالف ریلی نکالتے تھے تو انہیں منتشر کرنے کے لیے ہلکی پھلکی لاٹھی چارج ( جسے سیاسی کارکن ’ہلکی پھلکی موسیقی‘ کہا کرتے) کی جاتی تھی۔ اگر حکومت مخالف مجمع تین سو کا ہو تو آنسو گیس کے شیلز برسائے جاتے تھے۔ اگر تین ہزار کا مجمع ہو تو اسے ’پرامن منتشر‘ کرنے کے لیے پریس نوٹ کے مطابق ’لاٹھی چارج، آنسو گیس اور ہوائي فائرنگ‘ کا استعمال کیا جاتا تھا۔

لیکن اگر اب مجمع تیس ہزار یا اس سے اوپر لاکھوں کا ہوجائے اور اسکی قیادت بینظیر بھٹو کر رہی ہو، یا مجمع اسٹیبلشمینٹ کے منحرف جج اور مخالف وکلاء یا سیاسی کارکنوں کا ہو تو پھر اسے منتشر کرنے کے لیے خود کش بمبار یا سلیمانی ٹوپی والے بمبار (جو کبھی نظر نہیں آتا) کی خدمات حاصل کی ہوئی لگتی ہیں۔

اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بھی یہی ہوا۔ بقول میرے ایک دوست کے، وہ کراچی جہاں گزشتہ بیس تیس سالوں میں کسی بھی پارٹی نے لوگوں کا اتنا اژدہام کبھی اکٹھا نہیں کیا تھا اور اس دن صبح سے سہ پہر تک پورے کراچي اور ملک میں جئے بھٹو ہو چکی تھی وہاں آدھی رات تک وہی شاہراہ فیصل سنسان و گورستان ہو چکی تھی۔

ملک بھر میں سوگ
ملک بھر میں کراچی کے خودکش حملوں کا سوگ منایا گیا

مجمعے کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کو آنکھوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مجھے نہیں معلوم کہ بینظیر بھٹو کیطرف سے ان کو نقصان پہنچائے جانے کی صورت میں اٹھارہ اکتوبر سے قبل فوجی صدر پرویز مشرف کو اپنے خط میں بھیجے گئے مبینہ تین میں سے پانچ نام ملوث ہیں یا نہیں لیکن جو لوگ تھرپارکر کی کھیتلاری کے اربابوں، گجرات پاکستان کے چودھریوں اور پاکستال کی آئی ایس آئی سمیت ایجینسیوں کے عورت کے کرسی پر بیٹھنے کے بارے میں خیالات سے واقف ہونگے وہ ایسے ناموں کو شک کا فائدہ دینے سے قبل دو مرتبہ سوچيں گے ضرور۔

جیسے پڑوسی لیکن نام نہاد عظیم جمہوری ملک بھارت میں سیاسی مخالفوں کے جلسوں کو منتشر کرنے کے لیے سانپ چھوڑے جاتے ہیں ایسے ہی ایک دفعہ انتخابات کے موقع پر تھر کے اربابوں نے ریٹرننگ افسر مٹھی کے گھر میں سانپ چھڑوا دیا تھا۔

مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس رات شاہراہ فیصل کی سٹریٹ لائٹس کہاں کہاں بند تھیں لیکن مجھے معلوم ہے وفاقی وزیر بجلی لیاقت جتوئي ہیں جنہیں چودھری شجاعت نے دو ہزار دو کے اوائل میں مشرف سرکار سے معافی دلوا کر بعد میں وزیر بھی بنوا لیا۔

بینظیر بھٹو کے ڈیل سمیت یا ڈیل کے بغیر ملک میں آنے سے سندھ کے اربابوں اور گجرات کے چودھریوں یا دادو کے جتوئيوں کو اپنے پیروں کے نیچے سے نہ صرف اپنے آبائي انتخابی حلقے بلکہ کرسیاں بھی سرکتی اور طاقت کے نشے ہرن ہوتے لگتے ہوں گے۔ باقی رہے ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی عملدار یا ریٹائرڈ یا حاضر سروس اسلامی شدت پسند تو انکا مسئلہ یہ ہے کہ بینظیر ایک عورت، بھٹو کی بیٹی ہے اور شرعی اور قومی سلامتی کا کیا ہوگا۔ ان حکمرانوں کیلیے چھری پھیر قصائي صفت القاعدہ یا طالبان کے خود کش یا سلیمانی بمبار کی خدمات حاصل کرنا دائيں ہاتھ کا کھیل ہی نہیں بلکہ وہ تو گزشتہ کئي دہائیوں سے جمہوریت اور شخصی سماجی اور سیاسی آزادیوں کے گلے پر چھری پھیرتے آئے ہیں۔ کوئي ان خود ساختہ اسلام کے خود کش پیادے سپاہیوں سے پوچھے کہ عورت کو بکری سمجھ کر اسکے گلے پر چھری پھیرنے کی دھمکیاں کونسی حدیث، فقہ اور قرآن میں ہیں؟ کل ایک امریکی ریڈیو پر سندھی امیر طالبان محدث تھری ارباب رحیم کہہ رہے تھے ’حدیث میں ہے کہ اسلام عورت کی حکمرانی نا پسند کرتا ہے۔‘

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو نے ہسپتالوں میں جاکر زخمیوں کی عیادت کی
ارباب رحیم چھ اگست انیس سو نوے کی شام تک بینظیر بھٹو کی قیادت اور وزارت اعظمیٰ میں ایم این اے تھے۔

چھ اگست انیس سو نوے کو بینظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں الٹنے جانے اور اسلام آباد کی طرف سے سندھ میں جام صادق کو وزیر اعلیٰ بنائے جانے پر تھر کے طاقتور ارباب سب سے پہلے مشرف بہ جام ہوئے تھے۔

جام صادق علی نے آصف زرداری سمیت اپنے سیاسی مخالفوں پر سخت ترین تشدد کروانے کے صلے میں منظور مغل کو تھانیدار سے ایس پی بنوایا جنہوں نے پھر سانگھڑ میں جام صادق کے حق میں انتخابی دھاندلیاں کروائيں۔ یہی منظور مغل بینظیر اور انکے استقبالی جلوس پر خودکش حملے کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ بنادیئے گئے۔ حیرت ہے سندھ میں ایجینسیوں کے پروردہ حکمران خود کو جام صادق علی جیسے حاکم کی روح لیکن عورت کو نحوست سمجھتے ہیں۔

مانا کہ بینظیر بھٹو اور زرداری ٹولے کی پاکستانی عوام کی بدقسمتی اور لوٹ کھسوٹ میں عظیم اور ناقابل معافی کنٹری بیوشن ہے لیکن پاکستان کی ایسٹیبلشمینٹ انہیں اربوں کھربوں روپوں کی لوٹ کھسوٹ میں تو معافی دینے پر رضامند ہے لیکن کراچی یا پاکستان کی سڑکوں پر لاکھوں لوگوں کو لاکر بھٹو کو زندہ کردینے پر معاف نہیں کر سکتی۔ ہزاروں جیالوں نے کراچي کی خون آلود سڑکوں پر اپنا یہ نعرہ سچ ثابت کردیا ’تم کتنے بھٹو مارو گے، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔‘ اسی لیے بندوقیں اور سونے کی صندوقیں ایسٹیبلشمنٹ کی اور کاندھے ان قصائي صفت جنونی شدت پسند گروپوں کے ہیں جو عورت کو نحوست سمجھتے ہیں۔ مشرف کی نام نہاد موڈریشن کے جعلی پن کی اصل ایکسرے کاپی تو سندھ کے وزیر اعلیٰ اور گجرات کے چوہدری ہیں۔

’جنرل کرنل کانپ رہے ہیں ایک نہتی لڑکی سے‘، وہ نہتی لڑکی تو وہ نہیں رہی لیکن پاکستانی ایسٹیبلشمنٹ یا اقتداری مافیا کی وہ کپکپی نہیں گئي۔ کبھی وہ اس کپکپی پر قابو پانے کے لیے حیدرآباد سندھ میں شہر کی بتیاں بند کروا کے تیس ستمبر انیس سو اٹھاسی کو سندھی مہاجر قتل عام کرواتی ہے تو کبھی بارہ مئي کو کراچي میں سیاسی کارکنوں کا قتل عام تو کبھی اسلام آباد میں چیف جسٹس کی آمد سے ذرا قبل پی پی پی کارکنوں اور وکلاء کے اجتماع میں بم پھڑواتی ہے۔ ایسٹیبلشمینٹ کی اس تاريخي کپکپی نے انہیں کراچي میں لاکھوں کے جلوس کو منتشر کروانے کی سازش تیار کروائي ہوگي۔

پاکستانی ایجینسیوں کی حسن کارکردگی کا مظاہرہ تو ملاحظہ کیجیے کہ وہ ان کے ہاتھوں بیس ماہ تک قبر میں زندہ گاڑے ہوئے سندھی قوم پرست ڈاکٹر صفدر سرکی کو تو ظاہر کر کے اس جیسے تشدد کے مارے مردہ نما زندہ شخص کے پیچھے کار اور گولا بارود لگا دیتے ہیں لیکن بینظير بھٹو کے جلوس پر خود کش حملوں کی دھمکیوں اور پیشگي اطلاعات کے باوجود حملہ آور پکڑنے میں ’ناکام‘ ہو جاتی ہیں۔

یعنی کہ جہادی اور فوجی ایسٹیبلشمینٹ کی مخالفت کی سزا یا خود کش بمبار حملہ یا گمشدگي ہے۔ یہ سزا بینظیر بھٹو کو اسکی ایسٹیبلشمینٹ دوستی پر نہیں بلکہ اس لیے ملتی ہوئي نظر آتی ہے کہ اس نے ایسٹیبلشمینٹ مخالف عوام اور اپنے ہزاروں جیالوں کو سڑکوں پر لاکر کھڑا کر دیا۔ اگر کار ساز سے آگے پاکستان کے عوام کو ملک میں نکل کر اٹھارہ اکتوبر کے جلوس جیسی سرگرمیاں جاری رکھنی کی اجازت ہوتی تو شاید جرنیلوں اور جہادیوں کی نحوست کے مارے ملک میں نہ جہادی ہوتے اور نہ جنرلوں کی آپےشاہی۔

صرف گزشتہ دو دہائياں قبل جو وڈیرے اور چوہدری آئي بی اور آئي ایس آئي کے انسپکٹروں اور ضلع لیول ڈائریکٹروں کے بھی غلام تھے وہ آج ان ایجینسیوں کی بدولت وزارت اعلیٰ اور وزارت اعظمیٰ کے عہدورں پر براجمان ہو گئے۔ بلکل بقول حبیب جالب:

حکمران بن گئے کمینے لوگ
خاک میں مل گئے نگينے لوگ

ایسے حکمران سمجھتے ہیں کہ عورت کے اقتدار میں آنے سے شاید انکے راج بھاگ کی ریکھا پر نحوست کے اندھیرے چھا جائيں گے۔

پیپلز پارٹی کے جیالےچراغ جلاتے جیالے
’پی پی پی کے جیالے اپنے اندر ایک فرقہ ہیں‘
نیویارک نوٹ بک’اک دور کا ماتم‘
گراؤنڈ زیرو پر گیارہ ستمبر کی یاد
جنرل مشرف، بینظیر بھٹورمیش اور مفاہمت
ضیاء کے بعد اس سے بڑا فراڈ ہو نہیں سکتا تھا
بینظیر بھٹو وہ نہتی لڑکی
’وہ بینظیراقتدار کی آلودگیوں سے پاک تھی‘
آفتاب تازہ پیدا کریں
بینظیر بھٹو والد کی کشتی میں سوار
بینظیر بھٹو بیس برس بعد
پاکستان میں زمینی حقائق بہت بدل چکے ہیں۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد