’ڈوبے ہوئےتاروں کا ماتم کب تلک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محترمہ بینظیر آٹھ سال کی خودساختہ جلاوطنی کے بعد 18 اکتوبر کو وطن واپس آگئیں۔اگرچہ محترمہ کے خیرمقدم کے لئے ایئرپورٹ سے قائد اعظم کے مزار تک بڑا اہتمام کیا گیا تھا، ملک کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ آئے تھے، خود کراچی میں لوگوں کا ایک اژدہام تھا،حکومت نے انکی حفاظت کا بہت ہی مناسب بلکہ’ فول پروف، انتظام کیا تھا۔ لیکن انسانوں اس بیکراں سمندر میں کچھ ایسے عناصر بھی تھے جو ان کی آمد سے خوش نہیں تھے۔ انہوں نے ایک بہت ہی اوچھی حرکت کی اور کوئی 140 افراد کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کردیا۔پانچ سو سے زیادہ زخمی بھی ہوئے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جسے معاف کرنا بھی میرے نزدیک جرم ہے۔ اس مذموم حرکت کے باوجود محترمہ کی آمد میرے نزدیک باعث مسرت ہے، اس لئے کہ یہ واحد موقع ہے جب حکومت نے’بغیر کسی ڈیل کہ، جیسے کہ محترمہ کہتی ہیں اپنے فرائض انتہائی خلوص اور دیانتداری سے ادا کئے اور انہیں وہ تمام سہولتیں اور مراعت فرام کیں جو ہر پاکستانی کا حق ہے اور جو ہر سیاسی رہنما کو بلا امتیاز ملنی چاہئے۔ مجھے امید ہے کہ اب اگر میاں نواز شریف دوبارہ وطن واپس آئیں جس کے قوی امکانات ہیں تو حکومت انہیں بھی بغیر کسی ڈیل کے وہ ساری سہولتیں اور مراعت فراہم کریگی جو محترمہ اور ان کی جماعت کو فراہم کی گئی ہیں اور ان کی حفاظت کا بھی ویسا ہی فول پروف انتظام کیا جائیگا جیسا کہ محترمہ کے لئے کیا گیا تھا تاکہ خدا نہ خواستہ اگر ان پر بھی ایسا ہی خود کش حملہ ہو تو وہ بھی بحفاظت اپنی رہائیش گاہ پر پہنچائے جاسکیں۔
محترمہ بینظیر نےاپنی واپسی کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت کی بحالی، بیروزگاری، ناخواندگی کے خاتمے اور لوگوں کو روٹی کپڑا اور مکان فراہم کرنے کے ارادے سے آئی ہیں، اگرچہ وہ اپنی سیاسی زندگی میں دو بار اسطرح کے وعدے کرچکی ہیں جو کسی وجہ سے پورے نہیں ہوسکے لیکن مجھے امید ہے کہ اس بار اگر وہ اقتدار میں آگئیں تو یہ وعدے پورے کرکے دم لینگی۔ ورنہ ایک بار پھر لیاری والے یہ نعرے لگانے پر مجبور ہوجائیں گے ’ضیاء بھی مارے ، تم بھی مارو ہائے پجارو ہائے پجارو۔‘ محترمہ نے کل بلاول ہاؤز میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک خط کا بھی انکشاف کیا جس میں بقول ان کے انہوں نے صدر صاحب کے نام لکھا ہے۔ اس میں انہوں نےتین افراد کے نام لکھے ہیں جو کسے حملے کے نتیجے ان کی ہلاکت کے ذمہ دار قرار دیئے جائیں۔ محترمہ نے یہ نام صدر پرویز مشرف کوتو بتادئیے پاکستان کے عوام کو نہیں بتائے۔ میراخیال ہے ایسی باتیں عوام کو جاننےکا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا صدر پرویز مشرف کو۔ ایک بات بہت واضح ہے کہ محترمہ اب تک ذوالفقار علی بھٹو کی شہرت اور مقبولیت کی کشتی میں سوار نظر آتی ہیں اور اگر ان کا کوئی وصف ہے تو صرف یہ کہ وہ مرحوم کی بیٹی ہیں وہ اب تک اپنی کوئی سیاسی ساکھ بنانے میں ناکام رہی ہیں ’انہیں آفتاب تازہ پیدا کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔’ ڈوبے ہوئے ستاروں کا ماتم کب تلک۔‘
ایم کیو ایم: ------------------- اس سلسلے میں میں ایم کیو ایم کے سربراہ جناب الطاف حسین کو بھی خراج تحسین پیش کرونگا کہ انہوں نے محترمہ کی کراچی آمد کے دوران کسی بدمزگی سے گریز کا۔ جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا اور اگر یہ خودکش حملہ نہ ہوتا تو محترمہ یقینی بغیر کسی خطرے کے مزار قائد تک پہنچ جاتیں اور وہاں منتظر افراد سے خطاب بھی کرتیں جوایم کیو ایم کے ہوتے ہوئے یقینی ایک تعجب خیز بات ہوتی لیکن اللہ جب چاہے لوگوں کے دل بدل سکتا ہے۔ محترمہ اور چودھری حضرات: ------------------------------------------------ پنجاب کے وزیرآعلیٰ جناب پرویز الٰہی نے کل ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی ہرسطح پر پیپلز پارٹی کا مقابلہ کریگی، اس سے پہلے انہوں نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پیپلز پارٹی اب معافی پارٹی بن گئی ہے، اس لئے کہ اب محترمہ بینظیر معافی مانگ کر وطن واپس آرہی ہیں۔اس سے پہلے مسلم لیگ’ ق‘ کے سربراہ چودھری شجاعت بھی یہ کہ چکے ہیں کہ مصالحتی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں کو سپریم کورٹ نے جب سماعت کے لئے منظور کرلیا تو بینظیر کو اس کے تحت حاصل مراعت ختم ہوگئیں۔ چودھری حضرات کی جانب سے اسطرح کی باتوں سے ان افواہوں کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ ممکن ہے اس آرڈیننس کی منظوری وفاقی کابینہ نے تو اتفاق رائے سے دی ہو لیکن حکمراں جماعت کی متفقہ حمایت اس کو حاصل نہیں ہے۔ بینظیر بھی بار بار کہ چکی ہیں کہ پرویز مشرف تو مصالحت کے حق میں ہیں لیکن چودھری حضرات کو مجھ سے خطرہ ہے۔ جناب صدر اور موجودہ حالات: محترمہ کو امریکہ سے بھی اپنی قربت سے ذرا گریز کرنا ہوگا اس لئے کہ انہوں نے بظاہر امریکہ کو خوش کرنے کے لئے ڈاکٹر قدیر اور اسامہ سے متعلق جو بیانات دئے ہیں ان سے عوام کو کچھ بہت زیادہ خوشی نہیں ہوئی ہے۔
ادھرپنجاب میں محترمہ کی پوزیشن فی الوقت کوئی بہت اچھی نظر نہیں آتی، وہاں سیاسی مبصرین کے مطابق میاں نواز شریف کی پوزیشن دوسری جماعتوں کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔ تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کونیشنل اسمبلی کی اتنی سیٹیں مل جائیں کہ وہ دوسرے صوبوں میں کمی کو پورا کرلے۔ ایسی صورت میں مسلم لیگ’ن‘ اور پیپلز پارٹی دونوں پنجاب میں انتخاب سے قبل یا بعد کسی طرح کی مفاہمت کی کوشش کریں گی۔ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کو صدر صاحب کی حمایت سے دستبردار ہونا ہوگا۔اور رعائت بھی برتی گئی تو یہ ضرور مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ نئی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ لیں جو ان کے لئے مشکل ہوسکتا ہے۔ جناب نواز شریف: -------------------------- سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق میاں نواز شریف نے اگرچہ جلاوطنی اپنی مرضی سے اختیار کی تھی تاہم انکی یا انکے برادر خورد جناب شہباز شریف کو وطن واپس آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ میرا خیال ہے کہ اس بار میاں صاحب نے واپس آنے کی کوشش کی تو انہیں واپس سعودی عرب بھیجنا مشکل ہوگا۔ چنانچہ ان کی پارٹی کے صدر جناب جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ اس بار وہ براہ راست لاہور آئیں گے جو ان کا اپنا شہر ہے، جہاں ان کے استقبال کے لئے لاکھوں افراد موجود ہونگے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سعودی عرب انہیں اس بار آنے کی اجازت دے گا۔ بعض سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب انہیں ہمیشہ کے لئےروک سکتا اور نہ وہ پرویز مشرف کی طرفداری کا الزام بہت دنوں تک اپنے سر لے سکتا ہے۔ ادھر مسلم لیگ’ق‘ میں کچھ لوگ ہیں جو میاں صاحب کی وطن واپسی کے حق میں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ چودھریوں سمیت ’ق‘ کے بیشتر رہنما پیپلز پارٹی کے بجائے ’ن‘ سے مفاہمت کو ترجیح دینگے۔ چودھری صاحب اس عرصے میں بار بار سعودی عرب بھی جاتے رہے ہیں جو خالی از علت نہیں ہوسکتا۔ غرض کے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاست میں غیر یقینی کا عنصر بڑھتا جارہا ہے اور اس سے وابستہ ہر فریق کے آپشنز کم ہوتے جا رہے ہیں یا یوں کہئے کہ راہیں مسدود ہوتی جارہی ہیں۔ اس صورتحال سے پاکستان کے عوام اگرچہ لاتعلق نظر آتے ہیں لیکن پریشان ہیں اور ان کی دلی خواہش یقینی یہی ہوگی کہ تمام سیاسی رہنما اپنے اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکرقومی مفاد میں داخلی اور خارجی امور سے متعلق ایک مشترکہ حکمت عملی وضح کریں اور اس پر دیانتداری سے عمل کریں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||