کارِ جہاں تمام ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنت کے بڑے دروازے سے باہر حدِ نظر تک پھیلے سبزے کے تختے پر نایاب پانی میں پاؤں ڈبوئے دو کم عمر فرشتے دنیا و مافیا سے بے خبر سرگوشیوں میں مگن تھے۔ شام کی ملگجی روشنی میں دور سے ایک عورت آتی دکھائی دی۔ نپے تُلے قدم، چھریرا بدن، بر میں سفید ساڑھی، جُوڑے میں موتیے کے پھول اور داہنے ہاتھ میں کچھ کتابیں۔ نیلگوں پروں والے فرشتے نے گردن گھما کر بےدھیانی سے کہا، ’کوئی وِدیارتھی جان پڑتی ہے۔‘ بگلے جیسے سپید پروں والے فرشتے نے بات کاٹ دی ۔ ’کبھی آنکھیں کھول کے بھی دیکھ لیا کرو۔ یہ قرۃ العین حیدر ہے۔ فلک بوس ہمالیہ کی ترائی میں ہزاروں برس پر پھیلی ہندوستانی تاریخ میں میرا بائی کے بعد آج تک کوئی عورت تخلیقی صلاحیت میں قرۃ العین حیدر سے بڑھ کر نہیں ہوئی۔‘ یہ اگست کی 21 تاریخ تھی اور سنہ 2007۔ اکیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں بیسویں صدی آہستہ آہستہ رخصت ہو رہی ہے۔ مسلم ہند میں انیسیویں صدی کے آخری برس بہت ہنگامہ پرور تھے۔ ایم اے یو کالج علیگڑھ کا پودا تناور ہو رہا تھا۔ اشرافیہ کے نونہالوں کے لیے سر سیّد کی قائم کردہ حد بندیاں رفتہ رفتہ وقت کے منہ زور گھوڑے کے سموں تلے مٹ رہی تھیں۔ لکھنؤ کے ایک شریف زادے سجاد حیدر یلدرم نے اسی درسگاہ سے1902 میں گریجویشن کی۔ ترکی زبان اور ثقافت پر لہلوٹ، آزادیِ نسواں کے قائل، سجاد حیدر جدید اردو نثر کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
اُدھر سر عبدالقادر نے مخزن کی اشاعت شروع کر دی تھی جس کے لکھنے والوں میں شبلی، اقبال اور ابوالکلام آزاد جیسے ناموں میں بنت باقر نامی ایک خاتون بھی قلمی نام سے شریکِ اشاعت ہوتی تھیں۔ 1912 میں سجاد حیدر یلدرم سے شادی کے بعد بنت باقر نذر سجاد کہلائیں۔ سجاد حیدر اور نذر سجاد کی بیٹی قرۃ العین حیدر 16 جنوری 1926 کو پیدا ہوئیں۔ تہذیب اور ادب کے بہترین سر چشموں سے سیراب ہونے والی قرۃ العین حیدر نے کم عمری ہی میں لکھنا شروع کردیا تھا۔ افسانوی مجموعہ ’ستاروں سے آگے‘ 1948 میں شائع ہوا۔ اِسی برس لکھنؤ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں تعلیم مکمل کی۔ ہنری جیمز کے ناول ’پورٹریٹ آف اے لیڈی‘ کا ترجمہ ’ہمیں چراغ، ہمیں پروانے‘ کے نام سے1954 میں چھپا۔اس دوران 24 سالہ قرۃ العین حیدر ’آگ کا دریا‘ نامی ناول میں برصغیر کی 24 صدیوں پر محیط تاریخ سمیٹنے کا ارادہ باندھ چکی تھیں۔ تقسیمِ ہند کے دوراہے پر کھڑی نسل کی نمائندہ قرۃ العین حیدر چند کرداروں کی مدد سے برصغیر کی تاریخی اور تہذیبی تشکیل کا تانا بانا سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ تقسیمِ ہند کی خون آشام واقعاتی تفصیلات سے قطع نظر اُنہیں ہندی مسلم روایت کے اِرتقاء میں دلچسپی تھی۔ اُن کے بیانیے میں جدت تھی اور زاویۂ نظر اس قدر وسیع تھا کہ اُس میں ہندو، مسلم، پارسی، آریہ، دراوڑ یا اینگلو انڈین کی تمیز نہیں تھی۔ توشۂ آخرت کے ڈھیلوں پر ادب کا برادہ چھڑکنے والے سراج منیر نے لکھا کہ ’آگ کا دریا‘ برّصغیر کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ بات جزوی طور پر ہی درست کہی جا سکتی ہے۔ قرۃ العین کی دلچسپی کا حقیقی محور برّصغیر کا وہ خطہ تھا جسے گنگا جمنا کا دوآبہ کہا جاتا ہے۔ اس میں بھی قرۃ العین کو تاریخی واقعات کی باز آفرینی سے زیادہ تہذیبی فضا اور ایک عہد کی خوشبو سمیٹنے کی فکر تھی۔
ادبی ہنر میں اُن کا طرزِ احساس اس قدر جدید تھا گویا ابھی ’بلُومز بری‘ کے کسی چائے خانے میں جوائس، ٹی ایس ایلیٹ اور ورجینا وولف سے مل کر آ رہی ہوں۔ ادبی اسلوب میں بھی اُنہیں ایک تنے ہوئے رسے پر چلنا تھا۔ ایک طرف ترقی پسند تحریک کی اکہری حقیقت نگاری تھی تو دوسری طرف تقسیم کی یرقان زدہ ذہنیت جسے دھنک کے رنگوں میں زعفرانی رنگ نظر آتا تھا یا سبز۔ انتظار حسین نے لکھا ’قرۃ العین حیدر نے آگ کا دریا میں تقسیم کو برّصغیر کی ہزار سالہ ہندو مسلم روایت کی شکست قرار دیا‘۔ اس نقطۂ نظر کے ساتھ اُن کا پاکستان میں رہنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔ ’ٹائمز لندن‘ نے اپنے ادبی صفحات میں لکھا ’اُردو فِکشن میں ’آگ کا دریا‘ کی وہی حیثیت ہے جو ہسپانوی ادب میں ’تنہائی کے سو برس‘ کی‘۔ دوستوفسکی نے ایک جگہ لکھا کہ ’ہم سب گوگول کے اوور کوٹ سے نکلے ہیں‘۔ 1958 کے بعد اُردو کا کون سا بڑا ناول یا ناول نگار ہے جس پر آگ کا دریا کی چھوٹ نہیں پڑی۔ قرۃ العین حیدر کی ہندوستان کو مراجعت محض ادبی نقطۂ نظر کا شاخسانہ نہیں تھی۔ 1958 میں مارشل لاء کی آمد کے بعد اظہار پر قدغن لگی اور حب الوطنی کے نام پر بالشتیے پن کا زور ہوا تو قرۃ العین حیدر اس سے بھی بددل ہوئیں۔ منٹو مرگیا، قرۃ العین ہندوستان واپس چلی گئیں اور حسن عسکری نے ادب ہی سے ہاتھ اُٹھا لیا۔ تہذیبیں اسی طرح بنتی اور بگڑتی ہیں۔ قرۃ العین کی ہندوستان واپسی میں ایک برخود غلط سرکاری اہل کار کا نام بھی لیا جاتا ہے جو بعد میں سرکاری عہدے کے ڈونگے میں بیٹھ کر تصوّف کے پانیوں پر بہہ نکلے تھے۔ قرۃ العین حیدر کو روایتی مفہوم میں بسیار نویس نہیں کہا جا سکتا لیکن اُنہوں نے بارہ ناول تخلیق کیے، افسانوں کے چار مجموعے شائع ہوئے اور ایک نیم سوانحی ناول ’کارِ جہاں دراز ہے‘ لکھا۔ سفر نامے لکھے، ادبی تراجم کیے، صحافت کی اور اُردو کے کئی کلاسیکی شاہکار مدون کیے۔ اُنہیں 1966 میں ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ ملا اور 1969 میں غالب ایوارڈ دیا گیا۔ ہندوستانی حکومت نے اُردو ادب میں اُن کی غیرمعمولی خدمات پر پہلے ’پدم شری‘ اور پھر’پدم بھوشن‘ کے اعزازات عطا کیے۔
اُردو فکشن پڑھنے والوں نے 1948 میں’میرے بھی صنم خانے‘ کی اشاعت میں ایک ستارے کی نمو دیکھی تھی۔’آگ کا دریا‘ میں بیانیے کی تازگی، موضوع کی پیچیدگی اور تاریخ کا پھیلاؤ ایسے کٹھن مراحل تھے کہ ہم عصر لکھنے والوں کی ٹوپیاں گری پڑتی تھیں۔ دیکھنے والوں کا خیال تھا کہ ’آگ کا دریا‘ جیسا سنگلاخ پہاڑ کاٹنے والی کے تخلیقی سوتے کا خشک ہونا لازم ہے۔ لیکن قرۃ العین حیدر کا قلم نہیں رکا۔ اس عمر میں جہاں لکھنے والے تخلیقی، جسمانی اور اعصابی طور پر’آخرِ شب کے ہم سفر‘ ہوجاتے ہیں، قرۃ العین حیدر ’کار ِجہاں دراز ہے‘ لکھ رہی تھیں۔ کوئی وجہ تو تھی کہ اُنہوں نے اپنے پہلے افسانوی مجموعے کا عنوان ’ستاروں سے آگے‘ رکھا تھا ۔ 21 اگست کو بہشت کی اور بڑھتیں قرۃ العین حیدر سے کچھ پیچھے بوجھل قدم گھسیٹتے تین نوجوان بھی چلے آ رہے تھے۔ چمپا کی آنکھیں لال ہو رہی تھیں۔ گوتم نیلمبر تو یوں بھی جذباتی رہا ہے، اب تو جانو بالکل بےحال ہو رہا تھا۔ البتہ منصور کمال نے خود پر قابو رکھا۔ ایک خاص مقام پر پہنچ کر رکا اور اداس نظروں سے قرۃ العین حیدر کو آگے جاتے دیکھتا رہا۔ چمپا اور نیلم نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا گویا پوچھ رہے ہوں، ’آگے نہیں جائیں گے کیا؟‘ کمال منصور نے دھیرے سے کہا ’یہاں سے آگے صرف عینی آپا کو جانا ہے۔ ہم یہیں سے واپس جائیں گے۔ قرۃ العین حیدر کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی‘۔ |
اسی بارے میں ناول نگار قرۃ العین حیدر سپردِ خاک21 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||